آرٹ کی خوبی صرف انسان کے اندر موجود ہے، جانورں کے اندر سائنس کسی حد تک پایاجاتا ہے۔ جیسے کوئی پرندہ اپنا گھر بناتا ہے ، دیمک اور چیونٹی اپنی قیام گاہیں اور اسٹور ہاوس بڑی مہارت کے ساتھ بناتے ہیں، شہد کی مکھی Bio Chemistry سے واقف نظر آتی ہے ،مگر آرٹ کا شائبہ دور دور تک جانوروں میں نہیں پایا جاتا ۔ سائنس ایجاد و تحقیق ہے تو آرٹ تخلیق ہے۔ انسان سائنس کے ذریعے موجود اشیاء اور قوانین فطرت کو دریافت کرتا ہے۔ مگر آرٹ کے ذریعے فطرت کی عکاسی کرتا ہے۔ سائنس پیمائش ہے تو آرٹ پیدائش ہے۔ سائنس حقیقت کے مطابق ہوتا ہے تو آرٹ حقیقت کا ترجمان ہوتا ہے۔ جیسے خوبصورت مناظر وغیرہ کی حسین پینٹنگ ہوتی ہے۔ سائنس اجتماعی کام ہے جب کہ آرٹ فرد واحد کی تخلیق ہوتی ہے۔ کبھی کوئی غزل دو شاعروں نے مل کر نہیں لکھی، کوئی پینٹنگ دو مصوروں کی بنائی ہوئی نہیں ہوتی۔ آرٹ تو حقیقت میں نا ممکن کی تلاش و جستجو ہے۔
خوبصورت عمارت کا حسین نقشہ، کاروں کے دلربا ماڈل، دل کش کھلونے،گھر کے صوفے ، کرسیوں سے لیکر ٹرین کے ڈبے، ہوائی جہاز کے اندرون وغیرہ آرٹسٹ کے ذہن کی تخلیقی صلاحیت کے مظہر ہیں۔لا موجود کو عدم سے وجود میں لانے کے لئے آرٹ کی صلاحیت بے حد ضروری ہے۔
ہر بچہ فطرۃ آرٹ کی صلاحیت لئے دنیا میں آتا ہے۔ ایک عمر کو پہنچنے کے بعد ماں باپ کی عدم توجہ کے باعث وہ صلاحیت مرجھاجاتی ہے۔ اگر یہ کہیں تومبالغہ نہ ہوگا کہ سب سے پہلی صلاحیت جس کا اظہار دو تین سال کا بچہ کرتا ہے وہ آرٹ ہے، حالانکہ اس عمر میں وہ بول بھی نہیں پاتا، مگر باپ کے پن سے ٹیڑھی میڑھی لکیریں کھینچنا نہ صرف اس کا مشغلہ ہوتا ہے بلکہ وہ اپنی تخلیق پر خو ش ہوتا ہے۔ اس عمر میں اسے نہ رنگوں سے دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ شکلیں بنا سکتا ہے۔ مگرقلم چلا کر وہ خوش ہوتا ہے اور اپنے والدین سے شاباشی کی تمنا رکھتا ہے۔
عمر کچھ اور بڑھنے کے بعد کچھ شکلیں بنا پاتا ہے جیسے دائرے، بیضاوی شکلیں اور لکیریں اور گھر کی دیواریں اس کی گواہی دیتی ہیں۔ مائیں ڈانٹ ڈپٹ کر اس عظیم صلاحیت کا… ایک فعل عبث سمجھ کر … گلا گھونٹ دیتی ہیں، اس کا سادہ حل یہ ہے کہ گھر میں بچوں کیلئے ایک بورڈ فراہم کر دیجئے تو دیورایں صاف رہیں گی۔
جب بچہ 5 سال کا ہوتا ہے تو کچھ نقشے بنالیتا ہے مگر اکثر وہ شکل اور توازن میں بگڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ بیضاوی شکل کے اوپر ایک چھوٹا دائرہ ،د ائیں بائیں دو لکیریں اور نیچے دو لکیریں کھینچ کر وہ انسان کا ایک مبہم نقشہ بناتا ہے۔ جب بچہ 6 سال کا ہوجاتا ہے تو شکلوں اور نقشوں کو جوڑ کر پیچیدہ چیزیں بنانے کی صلاحیت پیدا کرلیتا ہے ۔مثلا 5 سال کی عمر ہے جو انسان نما تصویر بناتا تھا اب اس میں آنکھ، ناک،کان، انگلیاںوغیرہ جیسی تفصیلات کا اضافہ کرنا وہ ضروری سمجھتا ہے۔ مربع کے سر پر مثلث رکھ کر جو گھر بناتا تھا اب اس میں دریچہ، دریچہ میں گرل، چھت پر کھپریل کی لکیریں ،گھر کی سیڑھیاں، گھر کے سامنے ایک کتا، کچھ اڑتے کوے وغیرہ کی تفصیلات کا اضافہ کرنا اس کی تخلیقی صلاحیت میں ارتقا کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں انہیں ہمت افزائی اور پشت پناہی کی ضرورت ہوتی ہے ،ورنہ یہ صلاحیت مرجھاجاتی ہے۔ آگے تعلیم کے مرحلے میں آرٹ کی صلاحیت طالب علم کو اعتماد عطا کرتی ہے۔ سائنس کے نقشے، پھل پھول، پتے اور بوٹے ،انسانی اعضاء کی شکلیں، ان کی تفصیلات اور ان میں توازن وغیرہ پر نہ صرف اچھے نمبرات ملتے ہیں بلکہ ایسا طالب علم کلاس میں ممتاز ہوتا ہے۔ مزاج میں ظرافت ہو تو کارٹو نسٹ بن سکتا ہے۔
دنیا کے عظیم آرٹسٹس
دنیا کے عظیم ترین آر ٹسٹس کے بچپن کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آرٹ کی صلاحیت بچپن ہی سے پرورش پاتی ہے اور ان کی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً
(i) Picasso(1881-1973) : دنیا کا عظیم ترین آرٹسٹ ماناجاتا ہے۔ وہ cubism کا موجد تھا۔ اس کے نقشے حقیقت سے کم قریب ہوتے ہیں۔ ناک نقشے بھونڈے اور بگڑی شکلوں سے وہ دنیا کی قیمتی تصویریںبناتا تھا۔ وہ اسکول جانے سے منع کرتا تھا جب تک کہ اسے رنگ، برش اور ایک کبوتر نہ دے دیا جائے۔ بچپن کے مشق نے اسے دنیا کا عظیم آرٹسٹ بنا دیا۔
(ii ) Constable (1776-1837) : مناظر کی حسین ترین تصویریں بنانے والا دنیا کا عظیم شاہکار مصور تھا۔ وہ خوبصورت و دلربا مناظر میں غر ق رہتا۔ پہلے اسکول میں زیادہ پڑائی ہوتی تھی اس لئے اسے دوسرے اسکول میں داخلہ دلوایا گیا۔ وہاں ایک استاد نے اس کے اندر کی پوشیدہ صلاحیت کو پہچانا۔ پھر ایک پلمبر نے عملا اس کی صلاحیتوں کو نکھارا۔ وہ constable کو سیر و تفریح پر لے جاتا جہاں کے مناظرکی وہ اپنے معصوم ہاتھوں سے تصویریں بناتا حالانکہ اس کا باپ ایک بڑا تاجر تھا مگر بیٹے کے اس شوق سے وہ نالاں تھا ،باپ کی تجارت سے اس کی دلچسپی ذرہ برابر نہ تھی چونکہ آگے چل کر اسے ایک عظیم آرٹسٹ بننا تھا۔
(iii) Leonardo da vinci (1452-1519) :آرٹ کی دنیا میں ایک عبقری ہستی تصور کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دو تین مہینوں سے اخبار میں اس کے نام بڑے زوروں سے لیا جارہا ہے۔ اس کی پینٹنگ میں بعض راز پوشیدہ ہیں جنہیں آج بعض مفکرین ڈاوِنشی کوڈ کے نام سے ان کی کھوج کرید میں ہیں۔ اسی کی ایک شاہکار پینٹنگ ہے Last supper ،جس میں حضرت عیسؑی کی آخری دعوت کی داستان ہے ۔اس کا بچپن فطرت کے خوبصورت مناظر کی دید اور ان کی تصویریں بنانے میں گزرتا تھا۔ بچپن میں اس کی صلاحیت سے اس کا باپ نہایت خوش ہوتا تھا اور اپنے ایک دوست آرٹسٹ کولے جاکر اس کی تصویریں فخریہ بتاتا۔ اس آرٹسٹ نے ڈاونشی کو اپنے پاس تربیت کے لئے رکھ لیا۔ اسٹوڈیو کو جھاڑو دینے ، چیزوں کو صاف کرنے، رنگ بنانے اور اپنے استاد کو برش اٹھا کر دینے سے اس نے کام آغاز کیا آخر کار وہ اس کا نہ صرف معتمدعلیہ بن گیا بلکہ استاد گم نام اور شاگرد نابغہ ء روزگار ہستی بن گیا۔
(iv) Turner (1775-1851) :ایک نائی کا بیٹا اور قصائی کا نواسہ تھا۔ غربت میں پلا بڑھا۔ اپنے گھر سے قریب ایک ندی تھی جس کا نظارہ اس کے بچپن کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ پانی میں تلاطم، ہواسے پیدا ہونے والی لہریں، کہرا، شبنم، کشتیوں کا چلنا، ناؤ کے پردوں کا پھڑ پھڑانا ،ندی کے ریتکی تجارت وہ مناظر تھے جو اس کی یاد داشت بن گئے۔ اس کے تصاویر انہیں حسین مناظر پر مشتمل ہیں۔
(v) Dali(1904 ) : Surrealism کا وہ موجد تھا۔ یعنی تصویر ویسے بنانا جیسے انسان خواب میں دیکھا کرتا ہے۔ خواب کی تصویریں گنجلک، پیچیدہ، غیر واضح، مبہم، خوفناک ہی نہیں ہوتیں بلکہ ا نہونی چیزیں ہوتی نظر آتی ہیں۔ چیزیں اصلی شکل میں نہیں ہوتیں جیسے گدھے کو شیر کی صورت ،ہاتھی دبلا، گھوڑے کے پیر آسمان تک وغیرہ۔ ڈالی نے اپنی پہلی پینٹنگ 6 برس کی عمر میں بنائی۔ باپ مخالف تو نہیں تھا مگر ہمت افزائی بھی نہیں کرتا تھا۔ اسکول میں اساتذہ اس کو ’’پاگل ‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ مگر اس نے بچپن ہی میں ایسی تصویریں بنائیں جو ناظرین کو متعجب کردیتی تھیں۔
والدین کے کرنے کے کام
(1) اپنے بچوں کے اندر آرٹ کی جو فطری صلاحیت پائی جاتی ہے اسے پہچانیں۔
(2) آرٹ کرنے کے مواقع فراہم کریں۔
(3) آرٹ کی ضروریات جیسے کاغذ، کار ڈبورڈ ،بورڈ ، رنگ، برش، رنگین پنسل، موم کی پنسل، چاقو، قینچی، گوند وغیرہ فراہم کریں۔
(4) بچوں کے ’’کارناموں‘‘ کو محفوظ کریں۔ دوست احباب اور رشتہ دار گھر پر آئیں تو ڈسپلے کروائیں۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ
بعض والدین کو یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ آرٹ اسلام میں حرام ہے۔ اسلام میں جو چیز ممنوع کہا جاتا ہے وہ فی نسفہ آرٹ نہیں بلکہ انسانوں کی تصویریں بنانا۔ یہ ایک اختلافی موضوع ہے۔ یہ صفحات اس بحث کے متحمل نہیں ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ دنیا میں آرٹ کے نام سے زیادہ تر تصاویر ہی بنائی جاتی تھیں۔ اس موضوع کے ماہرین نے لکھا ہے کہ جب اسلام نے انسانی تصویر یا جاندار کی تصویروں پر پابندی لگائی تو آرٹ کی صلاحیت نے بہتی دریا کی طرح اپنا دوسرا راستہ نکال لیا۔ لہذا آرٹ میں ایک نیا باب اسلامک آرٹ کے نام سے شروع ہوا۔ مسلمانوں نے اس کے عظیم ترین شاہکار پیش کئے۔ اسلامک جامٹری کے نام سے ایک نیا فن وجود میں آیا۔ اسی طرح بیل بوٹے ،پھول پتوں کی نقاشی اسی پابندی کی مرہون منت ہے۔ قرآن اس وقت ایک زندہ کتا ب تھی اورزندگی کے ہر شعبے میں اس کی کارفرمائی تھی ۔ آرٹ کے میدان میں بھی قرآنی نسخوں میں دقیق ہنر مندی دکھائی گئی۔ پھر خطاطی کا نیا فن بھی اسلامی آرٹ ہی کا ایک حصہ ہے۔ پھر رنگوں کا حسین امتزاج اور نقش و نگاری کی پینٹنگ وجود میں آئی۔ آرٹ ہی ایک اٹوٹ حصہ فن تعمیرات ہے۔ اسلامی دور کی بنائی ہوئی عمارتیں اپنی فن معماری کے لحاظ سے ایک ممتاز مقام رکھتی ہیں۔ گنبد، مینارے، کمان، جالیاں اور حوض وغیرہ بھی آرٹ ہی کی شاخیں قرار پاتی ہیں۔ آفر یں ہے اسلامی تعلیمات پر کہ ایک راستہ بند ہوا تو سینکڑوں راستے کھل گئے۔ لہذا آرٹ کا مفہوم لازما تصویر بنانا ہی نہیں ہے۔
بچوں کے کرنے کے کام
آرٹ کے ضمن میں بچوں کے کرنے کے کچھ کام ذیل میں دئے جارہے ہیں۔
(1) Painting (رنگ بھرنا) : رنگ بھرنا بچوں کا دلچسپ مشغلہ ہوتا ہے۔ رنگ بھرنے کے کئی ذریعے ہیں۔ (i) واٹرکلر (ii) کلر پنسل (iii ) موم کی پنسل (iv) کرایان (v) آئیل پینٹ وغیرہ۔ رنگ بھرنے کیلئے خاکے کی بیرونی لکیریں چاہئیں۔ عموما دکانوں میں ملنے والی کلر ننگ بک کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جس میں ایک جانب رنگین نقشہ بنا ہوتا ہے دوسری جانب صرف خاکہ ہوتا ہے۔ مگر یہ کلرننگ بک تخلیقی صلاحیت کو اجاگر کرنے میں مفید ثابت نہیں ہوتیں۔ اس کے بر عکس اخبار اور کہانی کی کتابوں میں پائے جانے والی تصاویر کے خاکے دے دئے جائیں۔ کم از کم مناسب رنگ کے انتخاب کی آزادی بچوں کو باقی رہتی ہے۔ اس طرح کلر اسکیم سیکھ پائیں گے۔ انہیں ایک بات یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ کلر اسکیم سیکھنا ہو تو فطرت سے سیکھیں۔ ہرے رنگ کے بیچ لال رنگ نہایت مناسب لگتا ہے۔ طوطا اس کی منہ بولتی مثال ہے۔ اس طرح کالے رنگ کے ساتھ پیلا حسین امتزاج لگتا ہے۔ شک ہو تو مینا دیکھ لو۔ غرض آسمان ،زمین،سمندر، بادل، پہاڑ، درخت ،پتے، پھل، پھول، چڑیاں، جانور کیڑے مکوڑوں میں رنگوں کا امتزاج لطیف ،پرکیف ہوتا ہے۔
(2) Spray (رنگ کے چھینٹے) :رنگ گہرے طور پر بھرنے کے بجائے اسپرے کرنے سے ایک نیا پن پیدا ہوتا ہے۔ بچوں کے لئے اسپرے کرنے کا آسان طریقہ ٹوتھ برش ہے۔ ٹوتھ برش رنگ کے ڈش میں ڈبو کر انگلیوں سے تھام لیں اور انگوٹھے سے برش کے بالوں کو حرکت دے کر چھینٹے اڑائیں، اس طرح ایک ہی علاقے میں دو تین رنگوں کا امتزاج پیدا کیا جاسکتا ہے جو صرف برش سے ممکن نہیں۔
(3) Texture : رنگین پنسل، معمولی پنسل نمبر 5B,6B کرایان کے ذریعے ٹکسچر پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ کاغذ میں کوئی تصویر بنا لیں۔ کاغذ کے نیچے کوئی ایسی چیز لے لیں جس میںٹکسچر پایا جاتا ہے۔ مثلا : ہارڈ بورڈ (امتحان پیڈ) کا پچھلا حصہ یا کھڑکی میں لگایا جانے والا شیشہ یا پیاز اور آٹا کی بوری ولاے ٹاٹ کا ٹکڑا یا لکڑی کا تختہ وغیرہ ۔کاغذ پر پنسل دباکر چلانے سے نیچے کاٹکسچر تصویر میں ابھر جاتا ہے جس سے تصویر میں کالے سفید باریک باریک نقطے ابھرتے ہیں اور طباعت کا اثر دکھائی دیتا ہے۔
(4) Etching (کھرچنا) : بعض نقشوں میں دورنگ ساتھ بہ ساتھ چلتے ہیں۔ مثلاً پہاڑ جس میں بھورا (براون) اور بادامی( میرون) رنگ کے دھبے نظر آتے ہیں۔ اس طرح کے مناظر کے لئے موم کی پنسل سے پہلے ہلکا رنگ بھر لیا جائے پھر اس پر گہرارنگ چڑھایا جائے، پھر کوئی نوکیلی چیز یا خلا ل لے کر یا بلیڈ لے کر جگہ جگہ سے کھرچ ڈالا جائے جس کے نتیجے میں گہرا رنگ نکل کر اسی کی سطح کے نیچے کا رنگ نکھر کرسامنے آتا ہے۔ اس طرح سے کسی منظر کے ساتھ دو دو رنگ ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔
(5) Rubbing (گھسنا): بعض چیزوں کے نقشے بنانے سے زیادہ آسان ترکیب ان اشیا ء کو کسی کاغذ کے نیچے رکھ لیا جائے اور اوپر سے پنسل گھسا جائے۔ نتیجے میں اس کا نقشہ ہر تفصیل کے ساتھ کاغذ پر ابھر آتا ہے۔ مثلا :سکّے ،پتے، بلیڈ، چابی وغیرہ ۔اس طرح کام کرتے ہوئے بچہ اور نئی ترکیبیںایجاد کرلے گا۔
(6) Mosaic : پھول پتے یا گھر وغیرہ کا منظر ہوتو اسے سجانے کا ایک انوکھا اور پیارا طریقہ mosaic کا ہے۔ مثلاً سورج ،گیندے کا پھول، پتے وغیرہ کا منظر ہو تو اسے سجانے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے چاول، گیہوں، مسور کی دال، چنے کی دال، رائی کے دانے، کالی مرچ، میتھی، پاپ کارن وغیرہ جمع کرلیں۔ پھول کے بیچ کا حصہ، پنکھڑیاں، ڈالی اور پتیوں پر گوند لگادیں پھر الگ الگ رنگ کے اناج کے دانے چمٹی سے اٹھا کر الگ الگ حصے پر چپکادیں۔ اس طرح ڈیزائن ،رنگ اورٹکسچر کے کام میں ایک جدت پیدا ہوگی۔
(7) Collages : کولیج چھوٹی چھوٹی تصویر کو جمع کرکے ایک بڑی تصویر بنانے کا نام ہے جس میں کوئی مقصدیت اور ربط ہوتا ہے۔ بچوں کو روزنامے اخبار اور میگزین فراہم کردیں۔ بچوں کو الگ الگ موضوع دے دیں جیسے سیاست دان، اسپورٹس، اشتہارات وغیرہ، ایک کارڈ بورڈ پر تصاویر کاٹ کاٹ کر مناسب ڈیزائن میں چسپاں کرتے جائیں۔انہیں بتادیں کہ ایک ہی سیاست دان یا صرف کرکٹ ہی کی چیزیں چسپاں نہ کریں بلکہ وسعت اور تنوع پیش نظر رہے۔ موضوع کا فہم، کام کی نفاست اور جاذبیت کی بنیاد پر ان کے کام پر انہیں انعام بھی دیا جاسکتا ہے۔
(8) Diorama : Diorama در اصل سہ جہتی منظر بنانے کا ہنر ہے۔ ایک قریہ کا منظر ایک بڑے ڈبے کے اندر بنانا ہوتا ہے۔ اس منظر میں گھر ،پہاڑ، کھیتی، باغات، تالاب، سڑک ،کنواں اور کچھ جانور ہوں گے۔ اس منظر کو بنانے کے لئے تھرموکول، روئی، لکڑیاں، کاڑیاں، رنگین کاغذات، چھوٹے موٹے پتھر، ہارڈ بورڈوغیرہ درکار ہیں۔ ان سب کے استعمال سے ایک قریہ تھر موکول بیڈ پر بنانے کی ترکیب سکھائیں اور اس میں معاونت کریں۔ دو چار دن کی محنت کے بعد دیکھیںکہ کیسی پیاری بستی وجود میں آتی ہے۔ بچے کچھ دن تک اسے محفوظ رکھتے ہیں۔
(9) Clay ( چکنی مٹی) : چکنی مٹی کی خوبی یہ ہے کہ اس میں ذرات جمے ہوئے ہوتے ہیں اور کسی بھی شکل میں اسے ڈھالا جاسکتا ہے۔ آج کل clay dough کے نام سے رنگین چکنی مٹیاں دوکانوں میں بھی بچوں کو کھیلنے کے لئے مل جاتی ہیں۔ پانی سے چکنی مٹی کو گوند کر ان سے متعدد اشیاء بنانے کا ہنر بچوں کے اندر کی تخلیقی صلاحیت کو ابھارتا ہے۔ برتن، گاڑی، او کھلی، پلنگ، کرسی، واش بیسن، سانپ، بچھو، چڑیا وغیرہ بنانے میں خوشگواری اور فرحت و انبساط محسوس کرتے ہیں۔
(10) نقشے نقل کرنا : کوئی گھر، کار ،بیل بوٹے ،کسی جانور وغیرہ کی تصویر نقل کرنے کے دو طریقے ہیں۔
(i) گراف کا طریقہ: گراف کا طریقہ کچھ پیچیدہ اور بڑے بچوں کے لئے ہے۔جس ڈرائنگ کی نقل کرنی ہے اس کے اوپر پنسل سے ہلکے طریقے سے گراف بنالیں یعنی 1/2 cm x 1/2 cm کے چوکور خانے بنالیں۔ مثلا ایک خرگوش بنانے کے لئے اس طرح گراف کی لکیریں اُس پر کھینچیں۔ خانوں کو بائیں سے دائیں….. 1,2,3 اور اوپر سے نیچے a,b,c ….. موسوم کردیں۔ اس طرح ہر خانے کا ایک نمبر ہوگا جیسے a3,b7,d9 وغیرہ۔ اسی طرح کا ایک اور گراف چاہیں تو 1cm x 1 cm خانوں والا بنالیں۔ انہیں بھی اسی طرح نمبر دے دیں۔ پھر تصویر میں دیکھیںکہ کون کن خانوں سے کن خانوں میں گھوما ہے ، آنکھ کس نمبر کے خانے میں آئی ہے اس طرح موازنہ کرتے ہوئے ہو بہو تصویر کی نقل اتاری جاسکتی ہے۔ رنگ بھرنے کے بعد گراف ربڑ سے مٹادیا جاسکتا ہے۔
(ii) بٹرشیٹ کا طریقہ : بٹر شیٹ یا ٹریسنگ پیر دوکانوں میں ملتا ہے۔ یا کسی بھی معمولی کا غذ پر مٹی کا تیل روئی کے ذریعے پھیلانے سے وہ خود ٹریسنگ کے قابل ہوجاتا ہے۔ مثلا کسی جہاز کی تصویر اتارنی ہوتو اس پر ٹریسنگ شیٹ رکھیں اور پنسل سے نقشہ اتار لیں۔ پھر ٹریسنگ شیٹ کو الٹ کر نقشہ کے آوٹ لین کو6b پنسل سے خوب گھس دیں۔ پھر شیٹ کو کسی کارڈ بورڈ پر رکھ کر نقشہ پر نوکیلی پنسل گھمائیں، کاربن کاپی کی طرح کارڈ بورڈ پر نقل اترجائے گی۔ اب جیسے چاہیں رنگ بھر سکتے ہیں۔
مندرجہ بالا پرورگرام پر عمل آوری والدین کی توجہ کے بغیر نا ممکن ہے؛۔ آرٹ پیچیدہ اور اختلافی موضوع ہے۔ اس مضمون میں آرٹ کا ہم نے عمومی مفہوم لیا ہے جسے تکنیکی زبان میں ’’فائن آرٹ‘‘ کہتے ہیں۔ جب کہ ڈرامہ ،موسیقی، ،مجسمہ سازی، شاعری نغمہ گوئی وغیرہ بھی آرٹ میں شامل ہوتے ہیں۔ ہمارا مقصد صرف یہ تھا کہ چھٹیوں میں بچوں کے مشغلے با مقصد اور متعین رخ پر ہوں۔اسطرح ان کی شخصیت کا ارتقا مثبت خطوط پر ہو گا۔




