لندن کی ایک عدالت میں ایک عادی مجرم بچے کو پیش کیا گیا۔ پولیس کا موقف تھا کہ اسے سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے لیکن جج نے بچے میں کچھ غیر معمولی کیفیات محسوس کیں اور اس کے تفصیلی طبی اورنفسیاتی معائنے کا حکم دیا۔ ڈاکٹروں کی رائے سامنے آنے کے بعد جج نے اس بچے کو چھ ماہ تک متوازن غذا دینے کی ہدایت کے ساتھ آزاد کردیا۔
ڈاکٹروں کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس بچے کی پرورش پہلے ڈبے کے دودھ اور پھر فاسٹ فوڈ پر ہوئی تھی۔ غذا میں کئی ضروری اجزا کی کمی نے اس کے ذہن میں منفی رجحانات اور جرائم کی رغبت پیدا کردی۔ مسلسل متوازن غذا ملنے کے بعد اس بچے میں جرائم کا رجحان ختم ہوگیا اور اب وہ ایک ذمے دار اور کارآمد شہری ہے۔
اس واقعے سے متاثرہوکر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے عام برطانوی باشندوں میں کھانے پینے کی عادات کا جائزہ لیا۔ معلوم ہوا کہ بیشتر گھروں میں ماں اور باپ دونوں ملازمت یا کاروبار کرتے ہیں۔ ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ ماضی کی طرح گھر میں تین وقت کھانا تیار کریں اور برتن دھوئیں۔ ان کے لیے بہت آسان ہے کہ گھر آتے ہوئے فاسٹ فوڈ کی دکانوں سے دلکش انداز میں تیار کی ہوئی کھانے پینے کی چیزیں خریدلیں اور گھر آکر کاغذ کے خوانوں میں بچوں کے سامنے رکھ دیں۔
فاسٹ فوڈ میں خرابی یہ ہے کہ اس میں کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی، غذائی ضروریات سے زیادہ اور تازہ سبزیوں اور پھلوں میں پائے جانے والے حیاتین نقصان دہ حد تک کم یا مفقود ہوتے ہیں۔
متوازن غذا نہ ملنے کا مسئلہ اس وقت دنیا بھر میں بہت اہمیت اختیا رکرگیا ہے۔ خصوصاً بچے اس سے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ حالیہ چند برسوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خصوصاًترقی پذیر ممالک میں ناقص غذا اور بچوں میں وبائی امراض کا گہرا تعلق ہے اور وہ امراض ان کے علاوہ ہیں جو ضروری اجزا کی کمی سے پیدا ہوتے ہیں۔
ترقی پذیر ممالک میں گزشتہ دو دہائیوں میں بڑی محنت سے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کے منصوبوں پر عمل کیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں چیچک، خسرہ، خناق، ٹی بی اور کالی کھانسی جیسے امراض پر قابو پانے کی امید روشن ہوتی جارہی تھی، لیکن موجودہ جائزے کے مطابق حفاظتی ٹیکوں کی افادیت ختم ہوتی جارہی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں خسرہ سے بچوں کے مرنے کا اوسط ۲۰ سے ۵۰ فیصد تک ہے۔ حفاظتی ٹیکے لگنے کے باوجود محض ناقص غذا کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک میں خناق، کالی کھانسی، ٹیٹنس اور ٹی بی سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد ۱۰ فیصد سے بڑھ کر ۶۰ فیصد ہوگئی ہے۔ ڈاکٹروں کو یقین ہے کہ صرف متوازن غذا کا اہتمام کرکے حفاظتی ٹیکوں کی افادیت کو بڑھایا اور امراض کی اس شرح کو حیرت انگیز حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
متوازن غذا سے کیا مراد ہے؟
متوازن غذا کی اصطلاح بظاہر بڑی پیچیدہ محسوس ہوتی ہے۔ حقیقتاً اس پر عمل اتنا مشکل نہیں، ضرورت فطرت سے قریب تر ہونے کی ہے۔
نوزائیدہ بچے کے لیے پہلے ایک سال تک متوازن غذا ماں کا دودھ ہے۔ ماں کا دودھ چھڑانے میں جلدی کرنے کی کوئی وجہ نہیں، اسے دو سال اور بعض حالات میں تین سال تک پلایا جاسکتا ہے۔ غذائیت کے ساتھ ماں کے دودھ کے ذریعے بچے کو اینٹی باڈیز بھی مہیا ہوتے ہیں جو مختلف چھوت والی بیماریوں کے خلاف بچے کے جسم میں قوتِ مدافعت پیدا کرتے ہیں۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ دودھ پلانے والی ماؤں کے ہاں بچوں کی پیدائش میں خود بخود مناسب وقفہ آجاتا ہے اور وہ یکسوئی سے بچے کی دیکھ بھال کرسکتی ہیں۔
چار سے چھ ماہ کی عمر میں بچے کو ماں کے دودھ کے علاوہ کچھ اور چیزیں بھی کھلانی شروع کردینی چاہئیں، اس سے بچے کا وزن متوازن رہنے میں مدد ملتی ہے۔بچے کی عمر بڑھنے کے ساتھ اس کی غذائی ضروریات زیادہ پیچیدہ ہوتی جاتی ہیں۔ چند سال پہلے انڈونیشیا کے ایک علاقے میں بچوں میں اندھے پن کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ اس کی وجہ ان میں وٹامن اے کی کمی تھی جو ماں کا دودھ نہ ملنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ اس پورے علاقے کے بچوں کو وٹامن اے دینے کا اہتمام کیا گیا اور ان کی بینائی ضائع ہونے کا خطرہ ٹل گیا۔
وٹامن اے کے لیے بچوں کو دیسی گھی، مکھن اور مچھلی کا تیل دیتے رہنا چاہیے۔ لیکن اگر کوئی بچہ وٹامن اے کی شدید کمی کا شکار ہے تو ڈاکٹر کے مشورے سے وٹامن اے کے زیادہ طاقت کے کیپسول دیے جاسکتے ہیں۔ وٹامن اے جگر میں جمع ہوجاتا ہے اور ضرورت کے مطابق رفتہ رفتہ جسم کی ضرورت پوری کرتا رہتا ہے۔ انڈونیشیا میں ہونے والی تحقیق سے یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ وٹامن اے کی کمی پوری نہ ہونے سے بچوں کی بینائی ہی درست نہ ہوئی بلکہ ان کی دیگر چھوت والی بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت میں بھی اضافہ ہوگیا۔ بعد میں بنگلہ دیش میں بھی اس دریافت سے بچوں کو بے حد فائدہ پہنچا۔
بچہ جب ہر چیز کھانے کے قابل ہوجائے تو موسمی پھل اور سبزیوں کے ساتھ گوشت، گیہوں کا دلیہ، دالیں، دہی، مچھلی یا مچھلی کے آٹے کی مصنوعات بھی اس کی غذا میں شامل ہونی چاہئیں۔
سب سے اہم بات یہ کہ غذا تازہ چیزوں سے گھر میں تیار ہونی چاہیے اور اسے پکاتے وقت حفظانِ صحت کے سادہ اصولوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ابلی ہوئی اور کم مسالوں کی غذائیں بچوں کے لیے زیادہ مفید ہوتی ہیں۔




