اپنی سائیکو ریسرچ خود کریں

ڈاکٹر ریحانہ خاں

جب انسان پریشان ہوتا ہے تو ادھر ادھر لوگوں کے پاس جاتا ہے کہ اپنے مسئلے کے بارے میں مشورہ کرسکے۔ اس میں بہت سے رشتہ دار ہوتے ہیں اور ڈاکٹر وغیرہ بھی۔ اگر مشورہ دینے والا صحیح مل گیا تو اللہ کے فضل سے مسئلہ حل ہوجاتا ہے، لیکن اگر مشورہ دینے والا شخص مخلص نہیں یا مشورہ دینے والا شخص آپ کے مسئلے کے بارے میں پوری واقفیت نہیں رکھتا ہے تو آپ کو اس طرح کا مشورہ دے سکتا ہے جس سے آپ کی الجھن اور بڑھ جائے گی۔

بعض لوگ جب کسی مشکل میں لمبے عرصے تک گرفتار رہتے ہیں تو یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ کسی نے جادو ٹونا کردیا ہے حالانکہ اکثر یہ خیال غلط ہوتا ہے۔ آپ اپنے مسئلے کے بارے میں پہلے سے کبھی یہ نہ سوچیں کہ جادو ٹونا کردیا گیا ہے۔ جو لوگ جادو ٹونا کرنے کا دعوی کرتے ہیں ان میں سے اکثر جھوٹے اور دغا باز ہوتے ہیں، اس لیے آپ اپنی مشکل کو جادو ٹونا خیال نہ کریں بلکہ حالات کا خود جائزہ لیں اور اپنے نفسیاتی تجزیے اور ذاتی احتساب کا کام کریں۔

سب سے پہلے تو یہ غور کریں کہ آپ کی الجھن نفسیاتی ہے یا جسمانی؟ اگر آپ کو جسمانی تکلیف ہے تو ڈاکٹر سے فوراً رابطہ کریں۔

اگر آپ کی تکلیف نفسیاتی ہے تو اس کے لیے ماہرین نفسیات نے مختلف طریقوں سے نفسیاتی الجھن معلوم کرنے کے مشورے دیے ہیں۔ آپ اگر چاہیں تو کسی سائیکو ریسرچ سے مشورہ کرکے اپنی نفسیاتی الجھن کے بارے میں تفصیل سے معلوم کرسکتے ہیں۔ اس کے مختلف طریقے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ دن یا رات کے کسی بھی وقت کسی ایسی جگہ بیٹھ جائیں جہاں کوئی آپ کی تنہائی میں مخل نہ ہوسکے۔ کاغذ اور پینسل لے لیں اب آپ لکھنا شروع کردیں۔ پہلے اپنا نام لکھیں۔ اپنی والدہ کا نام لکھیں ، اپنی تاریخِ پیدائش اور پورا پتہ لکھیں اور پھر اپنا مسئلہ لکھیں آپ کا قلم چلنے لگے گا اب آپ اپنے قلم کو خود چلنے دیں۔جو بھی خیالات آپ کے ذہن میں آرہے ہیں ان کا تعلق آپ کے مسئلے سے ہے یا نہیں آپ تو بس لکھتی جائیں جب آپ تھک جائیں تو قلم روک کر وہ سب پڑھیں۔ جو کچھ آپ نے لکھا ہے۔ اللہ کے فضل سے اس تحریر کی وجہ سے آپ کو اپنی نفسیاتی الجھن کی وجہ معلوم ہوجائے گی۔ اگر ایک دن میںآپ کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا تو دوسرے دن پھر یہ عمل کریں۔ بعض اوقات تو کئی دن کے بعد یہ الجھن معلوم ہوتی ہے۔

اگر آپ اپنی تحریر سے خود اندازہ نہیں کرسکتی ہوں تو اپنا لکھا ہوا کسی ماہر نفسیات کے پاس بھیج دیں۔ وہ سائیکو ریسرچ کرکے آپ کو آپ کی الجھن کے بارے میں بتا دے گا۔

ہمارے روایتی سماج میں یوں بھی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کے سلسلے میں معلومات اور بیداری نہیں ہے۔ نفسیاتی بیماری کی صورت میں تو لوگوں کا ذہن فوراً جادو ٹونے کی طرف چلا جاتا ہے اور اسے وہم ہوجاتا ہے۔ اور وہم کی وجہ سے بعض اوقات انسان تباہ ہوجاتا ہے۔ اس کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے۔ صلاحیتیں اور خوبیاں ٹھٹھر جاتی ہیں اور انسان تنہائی پسند اور لوگوں سے شاکی ہوجاتا ہے۔

یاد رکھئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے شمار صلاحیتیں دی ہیں۔ خوبصورت اور متوازن جسم دیا ہے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے اور اچھے برے اور مفید و مضر کی تمیز بخشی ہے۔ نفسیاتی الجھن کی صورت میں آپ اپنی شخصیت کا تجزیہ کرکے خود ہی اپنے مسئلے کا حل تلاش کرسکتی ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی ذات کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ:

٭ کیا آپ پر خواہ مخواہ اداسی اور غم کی کیفیت طاری ہوتی ہے؟

٭ کیا آپ کا اپنی زبان اور اپنے فعل پر قابو نہیں ہے؟ کیا زندگی میں غلط فیصلہ کرکے آپ اپنا نقصان خود کرتی ہیں؟

٭ کیا آپ جان بوجھ کر ایسے لوگوں پر بھروسہ کرتی ہیں جو بھروسے کے لائق نہیں اور اپنے مخلصین مثلاً شوہر، بھائی، ماں، باپ اور قریبی رشتہ داروں کے مشورے پر عمل نہیں کرتیں؟

٭ کیا آپ ایسی باتیں کرتی ہیں جن سے دوسروں کا دل دکھے، کیا آپ سے نیچے کام کرنے والے نوکر یا کلرک وغیرہ آپ کے رویے سے بیزار ہوتے ہیں؟

٭ کیاآپ دل کی اچھی ہیں لیکن لوگ آپ کو برا سمجھتے ہیں؟

اگر ایسا ہے تو آپ یوں کریں کہ رات کو سونے سے پہلے دوسری دعاؤں کے ساتھ ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ، ۳۳ مرتبہ الحمدللہ اور ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر پڑھیں۔ اس سے آپ کو ذہنی سکون میسر آئے گا۔ خیالات کا انتشار کم ہوگا اور نفسیاتی اعتبار سے آپ کے اندر قوت پیدا ہوگی۔

حل آپ کے ہاتھ میں!

آپ جن نفسیاتی مسائل سے دوچار ہیں ان کا حل آپ ہی کے پاس ہے بشرطیکہ آپ ان مسائل کو حل کرنا چاہیں۔ اور اس کی شکل یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو اور اپنی زندگی کو کارآمد مفید اور تعمیری بنائیں۔ اپنی زندگی سے اپنے اہلِ خانہ، رشتہ دار وں اور محلہ پڑوس کے علاوہ ملک و ملت کو فائدہ پہنچانے کا اپنا ذاتی منصوبہ بنائیں اور خود کو بے عملی اور بے کاری سے نکال کر کامیابی کی راہ پر لگائیں۔ یاد رکھئے بے کاری اور ناکارہ پن ذہن کو برے اور ناکارہ خیالات کی آماجگاہ بناتا ہے جبکہ کاموں میں مصروف رہنا ذہن کو صحت مند اور اچھے و تعمیری خیالات کا مرکز بناتا ہے۔ ناکارہ پن اور کاموں سے جان بچانے سے اچھے اچھے لوگ نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں۔ اس لیے:

٭ وقت کو اچھے کاموں میں صرف کیجیے۔

٭ اچھا سوچئے اور اچھے کام کیجیے۔

٭ دوسروں کی خدمت سے خوشی حاصل کیجیے۔

٭ کچھ وقت جسمانی ورزش یا چہل قدمی میں بھی لگائیے۔

اور اہم ترین بات یہ ہے کہ اپنا تعلق اللہ تعالیٰ سے جوڑئیے۔ آپ کے ذہنی سکون اور نفسیاتی تناؤکا واحد علاج اللہ کی یاد اور اس کی عبادت میں ہے۔

الا بذکر اللّٰہ تطمئن القلوب۔

’’لوگو! سن لو کہ دلوں کا اطمینان و سکون اللہ کی یاد میںہے۔‘‘

کا عملی تجربہ کیجیے۔

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146