بارش کے پراسرار نظام کو جاننے کے لیے ماہرین نے ہر دور میں کوشش کی ہے اور اس کے رموز تک پہنچنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا بھی بھرپور استعمال کیا ہے۔ لہٰذا اب تک تک تحقیق سے اس حقیقت کا انکشاف ہوا ہے کہ جب سمندر کی سطح کا درجہ حرارت بڑھتا ہے تو وہاں کاپانی بھاپ بن کر خلا کی طرف چڑھنے لگتا ہے۔ چونکہ ہوا زمین سے جوں جوں دور ہوتی ہے اس کے دباؤ اور تیزی میں کمی ہونے لگی ہے۔ لہٰذا بھاپ اوپر جاکر جم جاتی ہے اور جب ہوا اس جمے ہوئے بھاپ کو ادھر ادھر اڑانے لگتی ہے تو اس کا درجہ حرارت زیرو سے بھی نیچے آجاتا ہے۔ پھر زمین کی مقناطیسی صلاحیت (جو ۱۵۰۰ کلو میٹر تک ہے) کی وجہ سے زمین کی طرف بوند کی شکل میں واپس آجاتا ہے اور ہم سمندری پانی کا بارش کی شکل میں لطف لیتے ہیں۔
روئے زمین کے مختلف خطوں کے ۱۳۰۰ ملین کلومیٹر اسکوائر میں بارش ہوتی ہے۔ سمندری سطح پر بھاپ بننے کا عمل ۳۸۰ ہزار کلومیٹر اسکوائر میں پھیلا ہوا ہے۔ یعنی ۳۸۰ ملین ٹن پانی ہر سال بھاپ بن کر فضا میں چلا جاتا ہے اور بارش کی شکل میں زمین کے مختلف حصوں میں برستا ہے۔
دنیا میں پائے جانے والے پانی کا ۹۷ فیصد سے زیادہ حصہ نمکین اور ۳ فیصد سے کم میٹھا ہے، جو کسی برفیلے پہاڑ کی شکل میں محفوظ ہے۔ میٹھے پانی کا بھی تہائی حصہ ہی ندی، نہر، جھیل کی شکل میں پینے کو ملتا ہے۔ میٹھے پانی کی کمی کے سبب ہی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر جلد ہی کوئی نئی کھوج نہیں ہوئی تو لوگ پانی کے لیے جنگ کرنے لگیں گے اور شاید دنیا کی تیسری عالمی جنگ پانی کے لیے ہو۔
حجاب اسلامی کوئز
دین و دنیا کی ضروری معلومات کچھ نہ کچھ تو آپ کے پاس ہوں گی ہی، آئیے اس کی آزمائش کرلیں:
۱- الہامی کتابیں کون کون سی ہیں، ان کے نام بتائیے؟
۲- حضورؐ نے اپنی دو صاحبزادیوں کا نکاح یکے بعد دیگرے کس صحابی سے کیا تھا؟
۳- سجدہ سہو کسے کہتے ہیں؟
۴- کسی باکرہ (کنواری لڑکی) کے نکاح کے سلسلے میں حضورؐ کی حدیث کیا ہے؟
۵- ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کون سی ندی بہتی ہے؟





