بچے کی تعلیم کارگر ثابت کرنے میں تعلیمی اداروں کا اہم رول ہے۔ تعلیم دو طرح کی ہوتی ہے۔ دینی اور دنیاوی۔ دینی تعلیم سے اپنے بچوں کو آراستہ کرنا ہر ماں باپ کا فرضِ عین ہے۔ بہر حال تعلیم دینی ہو یا دنیاوی صلاحیت پذیر ہونی چاہیے۔ دنیا کے ہر ماں باپ کا خواب ہوتا ہے کہ ہمارے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے مستقبل میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام تک پہنچیں۔
وہ وقت کچھ اور تھا۔ جب روپیہ دو روپیہ اسکول فیس ہوا کرتی تھی۔ دو چار کتابیں، چند کاپیاں اور چند گنے چنے معیاری اسکول۔ ان اسکولوں کے استاد قابل، تعلیم یافتہ اور اصلاح پسند ہوا کرتے تھے۔ اپنے تجربات کی بنا پر طالب علم کو سکھانا چاہتے تھے۔ تعلیم کی راہوں پر ترقی پذیر رہنے کے لیے طالب علم کو علم سے آراستہ کرتے تھے۔ کیونکہ تعلیم کے میدان میں ان کے ذاتی تجربات ہوا کرتے تھے۔ ان کی بتائی ہوئی باتیں کارگر ثابت ہوا کرتی تھیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ایک قابل اور اچھا استاد شاگرد کو بھٹکنے نہیں دیتا۔ اس جہد مسلسل میں استاد کا مفاد کہیں نظر نہیں آتا تھا۔ نہ کوئی طمع تھی اور نہ لالچ۔ بلکہ صرف تعلیم کو فروغ دینا تھا۔ نئی نسل کی اصلاح کرنا تھا۔ وہ دور جب تعلیم کا چلن عام نہیں تھا۔
دورِ حاضر میں نظامِ تعلیم بدل گیا ہے۔ آج بچوں کو اعلیٰ تعلیم وہی لوگ دلاسکتے ہیں، جو مالی طور پر بلند مقام پر ہیں۔ اس دور میں تعلیم کے نام پر بہت سارے اسکول وجود میں آرہے ہیں۔ ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں اور جائزہ لیں تو شہر کے ہر گلی کوچے میں ہمیں کئی کئی اسکول نظر آئیں گے۔ اس طرح قدم قدم پر قائم شدہ اسکولوں کا مقصد غریب طبقہ میں تعلیم کے ذرائع پیدا کرنا نہیں بلکہ خود اپنے مفاد کے لیے ذریعہ معاش فراہم کرنا ہے۔ اور اس طرح قدم قدم پر قائم شدہ اسکول ان ننھے معصوم بچوں کے روشن مستقبل کے دشمن نظر آتے ہیں۔ جن کا ذہن ابھی تک کورے کاغذ کی طرح ہے۔ جن کی آنکھوں میں ابھی تک صرف ماں کی صورت ہے۔ وہ ذہن جو ابھی تک دنیا کی بدکلامیوں سے پاک ہے۔ اگر ہم نے ان ننھے معصوم بچوں کو ایسے اسکولوں میں داخل کرادیا جن کا نہ خود کوئی معیار ہے اور نہ جن کے اساتذہ و معلمین کے اخلاق و صلاحیت کی خاطر خواہ سطح۔ تو اس کے علاوہ ہماری نسلوں کو اور کیا مل سکتا ہے کہ ان کے مستقبل کی بنیادیں کھوکھلی اور نا پائیدار ہوں اور ان کا اخلاق و کردار ریت کی دیوار جیسا ہو جسے ذرا سا پانی نگل جاتا ہے۔ وہ اساتذہ اور معلمین و معلمات جو خود اپنی اصلاح نہ کرسکے ہوں اور نہ کرنا چاہتے ہوں ان پر نئی نسل کی اصلاح و تربیت کی ذمہ داری ڈال کر مطمئن ہوجانا بالکل ایسا ہے جیسے چور کو چوکیداری پر لگا کر چین کی نیند سونے کی کوشش کرنا۔
بلاشبہ بہت سے مقامات پر اسکول نما دکانوں کا کاروبار لوگوں کی مجبوری ہوسکتا ہے لیکن ہر جگہ یہ مجبوری نہیں۔ لہٰذا آپ جب اپنے نونہالوں کے لیے اسکول کا انتخاب کررہے ہوں تو اس بات کو ضرور دیکھیں کہ وہاں کے معلمین اور معلمات کا زندگی کے لیے طرزِ فکر اور طرزِ عمل کیا ہے؟ اگر وہ غلط فکر کے مالک اور بدعمل ہوں تو خدارا اپنی اولاد کو ان کے فتنہ سے بچائیے اور اس کی فکر کیجیے۔
اس سلسلہ میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کراکر ہی مطمئن نہ ہوجائیں۔ بلکہ اپنے گھروں کو ایک متبادل مدرسے اور معیاری تربیت گاہ کی حیثیت سے ترقی دیں۔ یہ تربیت گاہ اور تعلیم گاہ ان خامیوں کی اصلاح کرسکے گی جو بچے کے اسکولی نظام میں پائی جاتی ہیں۔ وہ والدین موجودہ دور میں یقینا غلط فہمی کا شکار ہیں جو بچہ کو مدرسے میں داخل کرکے خود کو بری الذمہ کرلیتے ہیں۔ ایسے والدین کے حصہ میں محرومیوں کا اندیشہ ہے۔





