بے سہارا بیٹی کی کفالت

مولانا جلیل احسن ندوی

عَنْ سُرَاقَۃَ بْنِ مَالِکٍؓ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَلَا اَدُلُّکُمْ عَلٰی اَفْضَلِ الصَّدَقَۃِ اِبْنَتُکَ مَرْدُوْدَۃً اَلَیْکَ لَیْسَ لَہَا کَاسِبٌ غَیْرُکَ۔ (ابن ماجہ)

’’سراقہ بن مالکؓ کہنے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں نہ بتائوں تم کو بہترین صدقہ کیا ہے؟ اس بیٹی کی کفالت عظیم ترین صدقہ ہے جو تیرے پاس لوٹا دی گئی ہے اور تیرے سوا کوئی اس کے لیے کمانے والا نہیں ہے؟‘‘

تشریح: ایسی لڑکی جس کی بدصورتی یا جسمانی نقص کی وجہ سے شادی نہیں ہوتی یا شادی کے بعد طلاق مل گئی ہے اور تمہارے سوا اس کو کھلانے پلانے والا نہیں ہے، تو اس پر جو کچھ تم خرچ کروگے وہ اللہ کے نزدیک بہترین صدقہ ہوگا۔ حدیث میں بیٹی کا ذکر ہے اور یہی درجہ بہن کا ہے جب کہ بھائی گھر کا ذمہ دار ہو۔

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ اگست ستمبر 2026

Hijab Islami Aug-Sept 2026شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ فروری 2026

Hijab Islami Feb 2026شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146