تشویش: ایک نفسیاتی مرض

ڈاکٹر ارشد جاوید

ذہنی بیماریوں میں سب سے زیادہ پائی جانے والی بیماری تشویش (Anxiety) ہے۔ میرے پاس آنے والے مریضوں کی اکثریت اسی مرض کا شکار ہوتی ہے۔ امریکہ کی کل آبادی کا پانچ فیصد تشویش میں مبتلا ہے۔ یہ بیماری مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ اور تمام خفیف ذہنی عارضوں میں کسی نہ کسی حد تک پائی جاتی ہے۔ نفسیاتی مریضوں میں ستر فیصد اس مرض کا شکار ہوتے ہیں۔

تشویش اس احساس کا نام ہے جو فرد اس وقت محسوس کرتا ہے جب وہ سوچتا ہے کہ مستقبل میں کوئی ناخوشگوار چیز واقع ہونے والی ہے۔ اکثر مریض ان جانے خوف کا شکار ہوتے ہیں۔ خوف کی وجہ عام طورپر نامعلوم ہوتی ہے۔ اگروجہ کا علم ہو تو وہ بہت معمولی مگر اس کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔ عام تشویش جلد یا بدیر ختم ہوجاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص آنے والے امتحان یا آپریشن کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہوجاتا ہے مگر امتحان یا آپریشن کے بعد تشویش ختم ہوجاتی ہے۔ اس کے برعکس تشویش کی بیماری ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔

تشویش کی علامات

تشویش میں مبتلا فرد، پریشانیوں، خوف اور تفکرات میں گھرا رہتا ہے۔ ایک پریشانی ختم ہوتی ہے تو دوسری آلیتی ہے۔ بظاہر ان پریشانیوں اور تفکرات کی کوئی معقول وجہ نہیں ہوتی۔ اس کی طبیعت میں بے چینی، گھبراہٹ، اضطراب اور جسم میں تناؤ پایا جاتا ہے۔ اسے ہر وقت کسی عزیز ترین چیز کے کھوجانے کا اور کچھ ہوجانے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ وہ شکستہ دلی، مایوسی اور بے کلی محسوس کرتا ہے۔ ماضی کے واقعات یاد کرکے پچھتاتا ہے۔ اپنی زندگی کا بیشتر حصہ خوف میں گزارتا ہے۔ ڈراؤنے خواب آتے ہیں اور مریض ڈر کے مارے اٹھ بیٹھتا ہے۔

مرض تشویش میں دل کی دھڑکن بہت تیز ہوجاتی ہے۔ دل ڈوبتا محسوس ہوتا ہے۔ مریض خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ اسے دل کا دورہ پڑنے والا ہے۔ لوگ سینے میں دباؤ اور درد محسوس کرتے ہیں جو عموماً بائیں طرف ہوتا ہے۔ ایسے مریض کو یقین ہوجاتا ہے کہ اسے دل کا دورہ پڑنے لگا ہے۔

اس بیماری کی سب سے عام علامت ٹینشن یا تناؤ ہے۔ مریض کی گردن اور کمر کے پٹھے کھنچ اور تن جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں درد ہونے لگتا ہے۔ سر میں اکثر درد رہتا ہے، ٹانگوں پر کنٹرول نہیں ہوتا۔ لڑکھڑا جانے کے خدشے سے وہ چلتے وقت دیواروں کا سہارا لیتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا دم گھٹ رہا ہے۔

تشویش کے بہت سے مریض مختلف قسم کے وہموں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مختلف ناپسندیدہ خیالات اور الفاظ کے ان کے دماغ میں گھس جاتے ہیں جن سے چھٹکارا پانا مشکل ہوتا ہے۔ بعض مریض دروازوں کی چٹخنیاں اور بلیاں بار بار چیک کرتے ہیں۔ بعض بار بار ہاتھ دھوتے ہیں اور کچھ مختلف انداز سے گنتی گنتے ہیں۔ انہیں علم ہوتا ہے کہ ان کی یہ حرکات نامعقول ہیں مگر وہ انہیں کیے بغیر رہ نہیں سکتے۔

بعض مریضوں کو اپنے ارد گرد کی دنیا اجنبی، غیر حقیقی اور دھندلی دھندلی محسوس ہوتی ہے۔ چیزیں کبھی دور اور کبھی نزدیک محسوس ہوتی ہیں۔ بعض کو اپنا گھر اور بچے اجنبی لگتے ہیں۔ کچھ مریض آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر محسوس کرتے ہیں جیسے وہ کوئی اور ہوں۔

اگر مرض کا علاج جلد نہ کیا جائے تو دوسرے مرحلے میں اس پر غیر متوقع دہشت کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔ یہ دہشت کئی دنوں تک برقرار رہتی ہے۔ ایک ماہ میں دو چار دورے پڑجاتے ہیں۔ خواتین کو یہ دورے عموماً ماہواری سے پہلے پڑتے ہیں۔

مریضوں کی ایک بہت بڑی تعداد بے جا خوفوں کا شکار ہوجاتی ہے۔ تاہم اس کا انحصار زیادہ تر اس بات پر ہے کہ دہشت کا پہلا شدید دورہ کہاں پڑا۔ مریض اس جگہ سے خوف زدہ ہوکر وہاں جانے سے گھبراتا ہے۔ مثلاً مسجد، بس، گاڑی، جہاز، بازار، ہجوم، تنگ گلی، کھلی جگہ اور دفتر وغیرہ۔ بیماری کی طوالت سے بے جا خوفوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ بعض مریض ایک سو سے زائد مختلف چیزوں سے ڈرتے ہیں۔

عدم علاج کی صورت میں مریضوں کی بڑی تعداد ڈپریشن یا اضمحلال کا شکار ہوجاتی ہے جس میں وہ افسردگی، بے بسی اور ناامیدی محسوس کرتے ہیں۔ ان مریضوں میں احساس جرم اور احساس گناہ عام پایا جاتا ہے۔ ایسے مریض ہر چیز کا منفی پہلو لیتے ہیں۔ معمولی بات پر پریشان ہوجاتے ہیں۔ اپنی بے بسی پر ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگتے ہیں۔ مریض سوچتا ہے کہ اگر اسے کچھ ہوگیا تو اس کے بچوں کا کیا بنے گا۔

اکثر مریضوں کی نیند بھی متاثر ہوجاتی ہے۔ ڈراؤنے خوابوں کی وجہ سے نیند بار بار اکھڑ جاتی ہے۔ صبح تازہ دم نہیں ہوتے بلکہ کمزوری اور تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں۔ ان کی جنسی دلچسپی کم یا بالکل ختم ہوجاتی ہے۔ بعض مریضوں کو بھوک لگتی ہی نہیں جبکہ بعض بے چینی میں زیادہ کھا جاتے ہیں اور ان کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ بعض خوف اور بے چینی سے بچنے کے لیے دوسری نشہ آور اشیاء کا سہارا لیتے ہیں۔ نشے سے بعض مریضوں کو وقتی فائدہ ہوتا ہے مگر بعدازاں ان کی گھبراہٹ اور بے چینی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

تشویش کی وجوہات

مرض تشویش کی بہت سے وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ان میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:

(۱) تعلقات: رشتے داروں اور دوست احباب کے ساتھ تعلقات میں خرابی۔

(۲) صحت کی مسلسل خرابی: کسی پیارے کی مسلسل یا خطرناک بیماری بھی تشویش پیدا کردیتی ہے۔

(۳) بچوں کے مسائل: مثلاً ناقص تعلیمی کارکردگی یا وہ نافرمان اور گستاخ ہوں۔

(۴) حمل کے دوران خواتین میں جسمانی تبدیلیاں رونما ہونا۔

(۵) بڑھاپے کا خوف

(۶) گھریلو مسائل

(۷) ملازمت کے دوران مسلسل ذہنی دباؤ کیونکہ ملازمت مزاج کے مطابق نہیں ہوتی یا افسر اچھے نہیں ہوتے۔

(۸) مالی مشکلات: مثلاً نوکری ختم یا کاروبار میں نقصان ہوجائے۔

(۹) ماضی کے تلخ اور ناپسندیدہ واقعات جو لاشعور میں پوشیدہ ہوتے ہیں۔

(۱۰) جسمانی وجوہات مثلاً تھائرائڈ غدود کی کارکردگی میں اضافہ۔

(۱۱) گناہ یا جرم کا احساس

تشویش کا علاج

اس سلسلے میں ان میں دوطریقے زیادہ معروف ہیں۔

(۱) ادویات سے علاج:

ہمارے ملک میں یہ طریقہ علاج زیادہ استعمال ہورہا ہے۔ اس طریقے میں بیماری کی وجوہات ختم کرنے کے بجائے سکون آور ادویات سے انہیں دبا دیا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عموماً دوا ختم کرتے ہی بیماری پھر شروع ہوجاتی ہے۔ ویسے بھی مریض دواؤں کا عادی ہوجاتا ہے اور انھیں چھوڑ نہیں پاتا۔ مزید برآں ان ادویات کے بہت سے نقصانات بھی ہیں۔

(۲) نفسیاتی علاج

اس علاج میں عموماً مرض کی وجہ معلوم کرکے اسے ختم کردیا جاتا ہے۔ مریض کی سوچ بدل جاتی ہے۔ عام نفسیاتی طریقہ ہائے علاج خاص وقت لیتے ہیں جبکہ ہپنو تھراپی یعنی علاج بذریعہ ہپناٹزم میں وقت کم لگتا ہے۔

اپنا علاج خود کیسے کیا جائے؟

اب ہم علاج کے چند ایسے طریقے بتائیں گے جن کی مدد سے اپنی معمولی تشویش آپ خود بھی ختم کرسکیں گے۔ اگر ان کی مدد سے آپ کی تشویش کم نہ ہو تو فوری طور پر کسی ماہر نفسیات سے رابطہ کریں۔ کیونکہ دیر کی صورت میں بیماری جڑ پکڑ لیتی اور پھر علاج میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ کار آمد طریقے یہ ہیں:

(۱) یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آپ کسی خطرناک جسمانی بیماری کا شکار نہیں۔ یہ بیماری آپ کے ذہن کی پیداوار ہے جس کا علاج موجود ہے اور زیادہ مشکل بھی نہیں۔

(۲) روز مرہ کی زندگی سے لطف اندوز ہوں۔ پُر مسرت سرگرمیوں میں حصہ لیجیے۔ مثلاً شام کو دوستوں کے ساتھ گھومنے کے لیے باہر نکل جائیے۔ شاپنگ کرلیجیے۔ اگر پیسے نہ ہوں تو ونڈو شاپنگ پر اکتفا کیجیے، یعنی روز مرہ زندگی کو زیادہ سے زیادہ پرلطف بنائیے۔

(۳) کسی دوست یا عزیز سے اپنے مسائل پر کھل کر گفتگو کیجیے۔ اس سے ذہنی بوجھ ہلکا ہوگا بلکہ مسائل کا حل تلاش کرنے میں دوست سے مدد بھی ملے گی۔

(۴) روزانہ کوئی نہ کوئی ورزش کیجیے جسمانی سرگرمی تشویش کنٹرول کرنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔

(۵) دن میں کئی بار اپنے جسم کو پرسکون بنائیے۔کم از کم دو بار ضرور ایسا کیجیے۔ اس کے لیے مندرجہ ذیل تراکیب پر عمل کریں:

٭ پرسکون ہونے کے لیے روزانہ بیس منٹ مختص کیجیے۔

٭ ایسی پرسکون جگہ تلاش کیجیے جہاں آپ کو مشق کے دوران کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔

٭ بہتر ہے کہ روشنی مدھم کرلیں۔ اندھیرا بھی مناسب رہے گا۔

٭ آرام دہ کرسی پر بیٹھ یا بستر پر لیٹ جائیے۔ گردن کے نیچے تکیہ رکھئے۔ اگر تکیہ سے بے آرامی ہو تو اس کی ضرورت نہیں۔

٭ کپڑے ڈھیلے کرلیجیے۔ زیور اور کنٹیکٹ لینس اتار دیجیے۔

٭ پرسکون ہونے سے پہلے اپنے پٹھے اکڑائیے، اس کے لیے باری باری مندرجہ ذیل اقدام کرنے ہوںگے:

٭ ایک مٹھی سختی سے بند کیجیے۔ اور سخت کیجیے۔ مزید سخت پھر ایک دم ڈھیلی چھوڑ دیجیے۔ اب دوسری مٹھی کے ساتھ بھی یہی عمل کیجیے۔

٭ منہ بند کیجیے۔ دانت سختی سے بھینچ لیجیے۔ بہت سخت سے اور زیادہ سخت… پھر جبڑے ڈھیلے چھوڑ دیجیے۔

٭پیٹ اندر کو کھینچئے۔ اسے کمر کے ساتھ لگانے کی کوشش کیجیے۔ کچھ دیر اسی حالت میں رکھئے، پھر ڈھیلا چھوڑ دیجیے۔

٭ اپنی آنکھیں سختی سے بند کیجیے۔ خوب بھینچئے، دبائیے، اب ڈھیلی چھوڑ دیجیے۔ انھیں کھولنا ہرگز نہیں۔

٭ اپنا سر اور گردن کندھوںمیں نیچے کو دبائیے… اور نیچے … اب ڈھیلے چھوڑ دیجیے۔

٭لمبا سانس لیجیے جب تک روک سکیں روکیں۔ پھر چھوڑ دیجیے۔

٭ اپنے بازو اور ٹانگیں اکڑائیں… زیادہ سے زیادہ … اور زیادہ … ڈھیلے چھوڑ دیجیے۔

(۷) اب یہ ساتوں اقدامات بیک وقت کیے جائیں۔

(۸) جسم ڈھیلا چھوڑ دیجیے اور ہر عضو کو ریلیکس اور پرسکون ہونے دیجیے۔ ایک نرم و گرم لہر پورے جسم میں سرایت کرتی محسوس کیجیے۔ اسے اپنے جسم کے سارے پٹھوں کو نرم کرنے دیجیے، خصوصاً آنکھوں کے گرد، ماتھے، منہ، گردن اور کمر کا تناؤ نرم ہونے دیجیے۔

٭ آنکھیں کھولیے، انگوٹھے کا ناخن اپنی آنکھوں کے سامنے چند انچ کے فاصلے پر رکھئے۔ ساری توجہ اس ناخن پر مرکوز کردیجیے۔ آپ کا ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے کو جائے گا۔ آنکھوں کے پپوٹے بھاری ہوتے جائیں گے۔ سانس بھاری ہوگی۔ پھر سارا جسم پرسکون ہوگا، آنکھیں بند ہوں گی اور ہاتھ نیچے چلا جائے گا۔ دونوں ہاتھ پہلو میں لٹکا لیجیے۔ بستر کی صورت میں پہلو میں یا ٹانگوں کے اوپر رکھ لیجیے۔

٭ لمبے سانس ناک سے لیجیے اور منہ سے چھوڑیے۔ ہر سانس کے ساتھ دس تک گنتی گنئے اور ہر سانس کے ساتھ کہیے ۱-گہری سانس ۲- گہری سانس ۳- گہری سے گہری ۴-… ۱۰-… بہت پرسکون۔

٭ اب کسی بہت ہی پرسکون جگہ کا تصور کیجیے۔ اپنے آپ کو وہاں لے جائیے۔ اس ماحول کی خوشبو اور مہک محسوس کیجیے۔ اس جگہ اپنا پسندیدہ کام کیجیے۔

٭ پھر آنکھیں کھول دیجیے مگر اس سے پہلے دس سے الٹی گنتی گنئے اور ایک پر آنکھیں مکمل طور پر کھول دیجیے۔

٭ دوبار مشق کے علاوہ جب بھی تشویش محسوس کریں، یہ مشق دہرائیے۔

(۷) اپنے آپ کو مصروف رکھئے تاکہ آپ کی توجہ اپنے مسائل سے ہٹ جائے۔ کوئی مشغلہ اپنائیے مثلاً باغبانی، سماجی سرگرمی میں حصہ لیجیے۔ خدمت خلق کرکے سکون قلب حاصل ہوگا۔

(۸) جونہی تشویش محسوس کریں، آرام سے بیٹھ جائیے۔ ایک سانس لیجیے۔ سانس بہت گہری نہ ہو پھر آہستہ آہستہ سانس چھوڑئیے۔ ایسا کرتے وقت اپنے کندھوں کو ڈھیلے چھوڑ کر نیچے کرلیجیے۔ اور ہاتھوں کو پرسکون کیجیے، بالکل ڈھیلے چھوڑ دیجیے۔ تھوڑے سے وقفے کے بعد کہیے: ’’ریلیکس … پرسکون …CALM‘‘ اسے ایک دو بار دہرائیں صرف سانس خارج کرنے اور ریلیکیس ہونے کے بارے میں سوچئے۔ یہ مشق کہیں بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ مشق اگرچہ سادہ ہے مگر خاصی موثر ہے۔

(۹) اگر آپ نے اپنے آپ کو ہپناٹائز کرنا سیکھ لیا ہے توصبح،دوپہر اور رات سوتے وقت اپنے آپ کو ہپناٹائز کیجیے۔ پھر تصور میں اپنے آپ کو مسائل سے دور کسی پسندیدہ، خوبصورت اور پرسکون جگہ لے جائیے۔ کچھ دیر اس کیفیت میںرہیے۔ رات سوتے وقت نیند کے لیے یہ مشق بہت مفید ہے۔ مشق کے آخر میں پانچ بار اپنے دل میں کہیے: ’’خدا کے فضل و کرم سے میں روز بروز زیادہ سے زیادہ پرسکون اور بہتر ہوتا جارہا ہوں۔‘‘ دن میں تین بار مشق کے علاوہ جونہی تشویش محسوس کریں یہ مشق کرلیجیے۔

(۱۰) ’’خوب سن لو کہ صرف اللہ کی یاد (ذکر) ہی سے دلوں کو سکون نصیب ہوتا ہے۔‘‘ (القرآن) باقاعدہ نماز کے علاوہ روزانہ کم از کم نصف گھنٹہ قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھا جائے نیز ہر نماز کے بعد ایک سو بار یا اللہ، یا رحمن، یا رحیم کی تسبیح کیجیے اور خدا سے سکون قلب کی دعا مانگئے۔

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146