حضرت امِّ رومان رضی اللہ عنہا

پیکرؔ سعادت معز، ہنمکنڈہ

حضرت ام رومانؓ کا شمار بڑی جلیل القدر صحابیات میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق قبیلہ کنانہ کے خاندان فراس سے تھا۔ حضرت ام رومانؓ کا پہلا نکاح (زمانہ جاہلیت) میں عبداللہ بن حارث بن سنجرہ سے ہوا، اور انہی کے ساتھ مکہ آکر سکونت پذیر ہوئیں۔ عبداللہ کی صلب سے ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ جس کانام طفیل رکھا گیا۔ کچھ عرصے بعد عبداللہ بن حارث نے وفات پائی اور امِ رومانؓ بے سہارا رہ گئیں۔ چونکہ عبداللہ اپنی زندگی میں حضرت ابوبکرصدیقؓ کے حلیف تھے، اس لیے ان کے انتقال کے چند ماہ بعد حضرت ابوبکر صدیق نے ام رومان ؓ سے خود نکاح کرلیا۔ صدیق اکبرؓ سے ام رومان کے ہاں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عبدالرحمن ؓ بن ابی بکر ؓ پیدا ہوئے۔ جو دونوں تاریخ اسلام کی نہایت درخشندہ ہستیاں ہیں۔ بعثت کے بعد سرورِ کونین ﷺ نے دعوتِ حق کا آغاز فرمایا تو حضرت ابوبکر صدیق اعظمؓ ان چاروں عظیم المرتبت ہستیوں میں ایک تھے، جنھوں نے سب سے پہلے دین توحید کو اپنایا (یعنی امِ المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریؓ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت ابوبکر صدیقؓ، اور حضرت زید بن حارثؓ) حضرت ام رومانؓ کو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے اسلام کا حال معلوم ہوا تو وہ بھی سابقون الاولون کی مقدس جماعت میں شامل ہوگئیں۔سفرِ ہجرت میں صدیق اکبرؓ کو رحمت عالم ﷺ کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا۔ مکہ سے چلتے وقت انھوں نے بھی حضور کی پیروی کرتے ہوئے اپنے اہل و عیال کو اللہ کے بھروسے پر دشمنوں کے درمیان چھوڑا۔
جب مدینہ پہنچ کر کچھ اطمینان ہوا تو حضور ﷺ نے زید بن حارثؓ کو اپنے اہل و عیال لانے کے لیے مکہ بھیجا۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے ان کے ہمراہ عبداللہ بن اریقط کو اپنے صاحبزادے عبداللہؓ کے نام خط دے کر بھیجا کہ وہ بھی امِ رومانؓ، اسماءؓ اور عائشہؓ کو اپنے ہمراہ مدینہ منورہ لے آئیں۔ چنانچہ امِ رومانؓ حضرت اسماءؓ اور حضرت عائشہؓ صدیقہ، حضرت عبداللہ بن ابی بکرؓ کے ہمراہ مکہ معظمہ سے روانہ ہوئیں۔
سن ۶؍ہجری میں افک کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ جس میں حضرت عائشہ صدیقہؓ پر منافقین مدینہ کی سازش سے ناپاک تہمت لگائی گئی۔ واقعہ کی صورت کچھ ایسی تھی کہ رحمت عالم ﷺ کی طبع مبارک بھی پرملال ہوگئی۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے لیے اپنے آقا کا ملال قیامت سے کم نہ تھا۔ دکھیا بیٹیوں کی پناہ گاہ دامن مادری ہوتا ہے۔ حضور کی اجازت لے کر گرتی پڑتی اپنے والدین کے گھر پہنچیں۔ بیٹی کو اس حالت میں آتے دیکھ کر پوچھا میری بچی خیر تو ہے۔ کیسے آئیں؟ حضرت عائشہ ؓ نے واقعہ بیان کیا۔ حضرت ام رومان ماں تو تھیں، دکھ تو انھیں بہت ہوالیکن حضرت عائشہ کا دل رکھنے کو کہا … بیٹی گھبراؤ نہیں جو عورت اپنے خاوند کو زیادہ محبوب ہوتی ہے، اسے شوہر کی نظروں سے گرانے کے لیے ایسی باتیں بنائی جاتی ہیں۔ حضرت عائشہؓ کے دل پر بنی ہوئی تھی۔ انھیں ماں کے جواب سے تسکین نہ ہوئی اور فرطِ الم سے ان کی چیخ نکل گئی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنی بچی کی چیخ سن کر بالا خانے سے نیچے اتر آئے، واقعہ سنا، رقیق القلب تو تھے ہی خود بھی رونے لگے۔ ام المؤمنین رنج و الم کی شدت سے بخار میں مبتلا ہوگئی تھیں۔ حضرت امِ رومان ؓ نے انھیں اپنی گود میں لٹایا۔ نمازِ عصر کے بعد حضور ﷺ گھر تشریف لائے اور اس بہتان کے بارے میں حضرت عائشہؓ سے استفسار فرمایا۔
حضرت عائشہ صدیقہ نے عرض کیا: ’’اللہ بہتر جانتا ہے کہ میں بالکل بے گناہ ہوں۔‘‘ آخر رحمتِ الٰہی جوش میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے خود عائشہ صدیقہؓ کی طہارت کی گواہی بہت ہی پُر زور الفاظ میں دی ۔ ارشاد ہوا:
’’جب تم نے یہ سنا تو مومن مردوں اور مومن عورتوں کی نسبت نیک گمان کیوں نہیں کیا اور کیوں نہ کہا کہ یہ صریح تہمت ہے۔‘‘ (ترجمہ سورہ نور)
آیت برأت کے نزول سے حضرت امِ رومان ؓ کو کمال درجے کی مسرت ہوئی اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کا سر بھی فخر سے بلند ہوگیا۔
ایک اور یادگار واقعہ پیش آیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ اصحابِ صفہ میں سے تین بزرگوں کو اپنے گھر بطور مہمان لائے۔ اور خود سرورِ دو عالم ﷺ کی خدمت میں تشریف لے گئے وہاں کچھ دیر ہوگئی۔ گھر واپس آئے تو حضرت امِ رومان نے پوچھا: آب کہا ںچلے گئے؟ حضرت ابوبکر صدیق نے جواب دیا میں رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں تھا۔ کیا مہمان کھانا کھا چکے۔ حضرت ام رومان نے عرض کیا۔ انھیںکھانا بھجوایا تھا۔ لیکن انھوں نے میزبان کی غیر حاضری میںکھانا تناول کرنا پسند نہیں کیا۔ اب حضرت ابوبکر صدیقؓ خود کھانا لے کر گئے اور تینوں بزرگوں کو کھلایا۔ کھانے میں اتنی برکت ہوئی کہ مہمانوں اور اہلِ خانہ کے سیر ہونے کے بعد بھی بچ گیا حضرت ابوبکرصدیق نے ام رومان سے پوچھا کتنا کھانا باقی ہے۔ انھوں نے کہا: تین گنا سے بھی زیادہ۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے سارا کھانا حضور اکرم کی خدمت میں بھجوادیا۔
۹؍ہجری میں رحمت دو عالم ﷺ کو ایک دن ایک ایسی خاتون کی وفات کی خبر ملی جو شمع رسالت پر پروانہ وار فدا تھیں۔ حضور یہ خبر سن کر سخت حزن و ملال کے عالم میں ان کے جنازے پر تشریف لائے خود قبر میں اتارا پھر ارشاد فرمایا۔
من سرہ ان ینظر إلی امرأۃ من الحور العین فلینظر الی أم رومان۔
’’جو شخص عورتوں میں حورعین کو دیکھنا چاہے وہ ام رومان کو دیکھ لے۔‘‘

——

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146