حماس کی فتح استعمار کی شکست

عمیر انس

فلسطین کے عوام مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے دھمکیوں لالچ اور عالمی طاقتوں کی تمام کوششوں کے بر خلاف اپنی پسند کی قیادت منتخب کی۔ یہ جہاں سیاسی بیداری کا ثبوت ہے وہیں فلسطینی ملت کی بہادری،بے خوفی اور ثبات قدمی کی دلیل بھی ہے۔حماس کی سیاسی جماعت قائمۃ التغیر و الاصلاح نے فلسطینی پارلیمنٹ کی74نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے دنیا بھر کے سفارتی اور سیاسی حلقوں میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ ایک مسلح تنظیم کی شاندار عوامی کامیابی نے سیاسی مفروضوں کو توڑ دیا ہے۔قائمۃ التغیر والاصلاح تحریک حماس کی سیاسی ونگ ہے۔ انتخابات سے پہلے کی تیاریا ں ،ماحول اور فلسطینی عوام کا جوش جذبہ بتا رہا تھا کہ فلسطین دنیا کے سیاسی مفروضوں کو سخت ضرب پہونچائے گا۔وہ عالمی قوتیں جو فلسطین کے سب سے مقبول سیاسی گروہ کو اب تک دہشت گرد کہتے آئے ہیں انکی قلعی کھل گئی ہے۔ اور وہ لوگ جو فلسطین کی آزادی کے نام پرعیش فراواں میں مصروف تھے انکی اصل حیثیت کا اندازہ بھی اب عام دنیا کو ہو گیا ہے۔اب دنیا میں فلسطینی عوام کی نمائندگی وہ لوگ کریں گے جنہیں اب تک دہشت گرد کہا جاتا رہا ہے۔

اسلام کی کامیابی

حماس کی کامیابی کا سہرا سب سے پہلے تو خود فلسطینی عوام کے سر جاتا ہے۔ اس انتخاب میں فلسطینیوں نے پورے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ 78فیصد پولنگ کرکے دنیا کی دوسری جمہوریتوں کے سامنے فلسطینیوںنے نئی مثال قائم کی ہے جہاں عوامی حصہ داری پچاس ساٹھ فیصد سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔جہاں تک مغربی تجزیہ نگاروں کا معاملہ ہے تو ان میں ایک ایسی تعداد ہے جو امریکی مصلحتوں کی حفاظت کے لیے تجزیہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مصر کے انتخاب کی طری یہاں بھی بعض امریکی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حماس کی یہ فتح کوئی سیاسی فتح نہیں بلکہ الفتح گروپ کی بدعنوانی کے خلاف عوامی احتجاج ہے۔ اگر الفتح کی قیادت ایمان داری سے اپنا کام کرتی تو یہ نوبت نہیں آتی۔لیکن یہ تجزیہ پوری طرح صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ حماس کی فتح محض احتجاجی ووٹوں کی مرہون منت نہیں ہو سکتی۔ بلکہ یہ حماس کے اس مکمل فلاحی اور سماجی پروگراموں کا نتیجہ ہے جو اس نے اپنے ایجنڈے میں آغاز سے ہی شامل کر رکھے تھے۔اس گروہ کے بھی وہی سیاسی نظریات ہیں جو الاخوان المسلمون کے ہیں۔

حماس کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ الاخوان اور اسکے نظریات سے وابستہ ہے۔اس لیے یہ فتح صرف احتجاجی نہیں بلکہ اسلام کا وہ پر امن اور محافظ پیغام ہے جو انہیں مسلسل مزاحمت کرنے اور دشمن کو خوف زدہ رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی اور امریکی استبداد سے فلسطینی عوام میں آزادی کی خواہش حماس کی فتح سے جھلک رہی ہے۔دہلی سے نکلنے والے اخبار دی ہندو کے ایک کالم نگار اتل انیجا نے سیاسی اسلام کے مختلف چہروں کے عنوان سے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ چونکہ کہ مغربی ایشا میں کوئی جمہوری متبادل موجود نہیں ہے اس لیے حماس کو یہ فتح حاصل ہوئی ہے۔ اگر کوئی سیاسی متبادل موجود ہوتا تو تو شائد حماس کو یہ فتح حاصل نہیں ہوتی۔ اس تجزیہ میں کتنا دم ہے اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا کہ خود فاضل تجزیہ نگار نے لکھا ہے کہ’’ حماس نے سماجی اور فلاحی اسکیموں کا ایک وسیع نیٹ ورک پھلا دیا ہے۔‘‘ اصل معاملہ یہ کہ کہ حماس کی اس شاندار فتح کو امریکی اور روسی دونوں ہی حلقے کسی طرح ہضم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔مارکسزم زدہ مفکرین کسی بھی اسلام پسند پارٹی کی کامیابی کو اسلام کی جیت ماننے کے لیے آمادہ نظر نہیں آتے۔ انکے لیے یہ ماننا دشوار ہے کہ اسلام بھی کوئی نظریہ اور کوئی تحریک ہے۔کیونکہ انہیں بھی اس بات کا خدشہ ہے کہ حماس مشرق وسطی میں اسلام پسندوں کے دیرینہ جذبات ایک سیاسی لہر کی شکل تو نہیں اختیار کر رہے ہیں۔وہیں امریکی ڈپلومیسی کے لیے مشرق وسطی کا ہر سیاسی تجربہ بری خبر لے کر آ رہا ہے۔ عراق میں شیعہ اسلامی گروپ الدعوۃ ، مصر میں الاخوان اور اب فلسطین میں حماس کی جیت کے بعد The Greater Middle East Peace Initiativ کا سارا منصوبہ اور National Endowment For Democracyکے سارے مالی پروجیکٹ خطرے میں نظر آرہے ہیں۔اتنا ہی نہیں بلکہ حماس کی کامیابی نے Osloسمیت ان تمام معاہدوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے جن کی رو سے اسرائیل کو ایک ملک کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے۔ اگرچہ حماس ابھی ایسا کوئی بھی قدم نہیں اٹھانے جا رہی لیکن فائیلوں میں دھول چاٹ رہے معاہدے حماس کی سیاسی قیادت کے سامنے دیر سویر تو پیش ہونگے ہی۔

حماس سے پریشانی کیوں

حماس کا وجود ایک ایسے وقت میں ہوا جب بیشتر عرب حکومتیں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے بے چین تھیں۔کچھ نے تسلیم کر لیا تھا اور کچھ ممالک درپردہ رشتے استوار کررہے تھے۔الفتح اور پی ایل او جیسی تنظیموں نے فلسطین کو آزادی دلانے کے نام پر فلسطین کاز کو روسی—امریکی ڈپلومیٹک چشمک کا مرکز بنا کر رکھ دیا تھا۔لیکن حماس کے قیام نے فلسطینی جد و جہد کے لیے زیادہ بہتر امیدیں اور روشن مستقبل کی علامتیں ظاہر کیں۔حماس نے اپنے دستور میں الموت لاسرائیل کا نصب العین لکھ کر اسرائیل کے مستقبل کو ہمیشہ کے لیے مایوس کن بنا کر رکھ دیا ۔ جو لوگ بھی اسرائیل کی حمایت میں سر بکف ہیں وہ لوگ بھی اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے کہ اسرائیل اپنی موجودہ حیثیت میں کب تک باقی رہے گا۔حماس کے انتخاب کے بعد ایک عربی اخبار نے بہت ہی موثر سرخی لگائی ہے۔عہد حماس بدا وعصر اوسلو انتہی یعنی اوسلو معاہدہ اور اسکے کارندوںکادور گیا اور اب حماس کا دور شروع ہوتا ہے۔اور در اصل یہی اصل بے چینی کا سبب ہے۔ حماس کی فتح کے بعد کیا ہوگا۔تشویش کی بات یہ نہیں ہے کہ فلسطین کا مستقبل کیا ہوگااصل تشویش یہ ہیکہ اسرائیل کا مستقبل کیا ہوگا۔ اس پراندیشے گہرے ہو گئے ہیں۔

عالمی رد عمل

سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ ساری دنیا نے حماس کے انتخاب پر کیا کیا رد عمل ظاہر کیے۔حسب معمول امریکہ اور اسرائیل کی وزارت خارجہ نے یکساں رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ دونوں ملکوں کی وزارتوں نے کہا ہے کہ وہ حماس سے کوئی معاملہ نہیں کریں گی۔ جب تک حماس اپنے دستور سے اسرائیل کو مٹانے کا مقصد نہیں ختم کر لیتا اس وقت تک حماس کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔مشرق وسطی میں سب سے کلیدی رول ادا کرنے والی یوروپی یونین نے اپنے محتاط رد عمل میں کہا ہے کہ کہ یونین فلسطین کی ہر اس حکومت کے ساتھ معاملہ کرنے کو تیار ہے جو پر امن ذرائع کے ساتھ کام کرنے کے لیے رضامند ہوں۔اقوام متحدہ کے سکریٹری کوفی عنان نے اس انتخابی نتیجے کا استقبال کیا ہے۔ لیکن انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جو گروپس سیاسی عمل میں شریک ہونا چاہتے ہیں ہیں انہیں ہتھیار چھوڑنے ہونگے۔

البتہ اس سلسلے میں ماسکو کا رویہ کافی حیرت انگیز ہے۔ روسی صدر یوروپی یونین اور امریکی ڈپلومیسی پر غالب آنے کے لیے اس موقعے کو پوری طرح استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے پہلے رد عمل میں ان نتائج کا یہ کہ کر استقبال کیا کہ یہ عوامی فیصلہ ہے اور ہر ایک کو عوامی فیصلے کا احترام کرنا چاہئیے۔اب خبر یہ بھی ہے کہ ولادیمیر پوتن حماس کے اعلیٰ عہدے داروں کو ماسکو آنے کی دعوت دینے والے ہیں۔دنیا کچھ بھی کہے اور کچھ بھی سمجھے اتنی بات تو طے ہو گئی ہے کہ آئندہ کچھ سالوں تک مشرق وسطی میں امن مذاکرات اور مشرق وسطی پر ہونے والے کسی بھی مذاکرے سے حماس کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔

حماس کا رد عمل

حماس نے اپنے دستور میں اسرائیل کو نیست و نابود کر دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس لیے دلچسپ بات یہ ہوگی کہ تحریک حماس اپنے اس اعلان کے ساتھ عالمی برادری کے ساتھ ساتھ کتنی دیر تک چل سکتی ہے۔ویسے حماس کی سیاسی قیادت مشرق وسطی کے ذہین ترین افراد پر مشتمل ہے۔اور انہوں نے مختصر مدت میں ہی کئی ایسے منصوبے پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جس سے حماس کو عالمی برادری کا تعاون حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ اصولی طور پر حماس کے ترجمان خالد مشعل نے واضح کر دیا ہے کہ حماس کسی بھی بھی صورت میں اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔اگر حماس اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا تو عالمی برادری میں اسکی آواز نہیں سنی جا سکتی۔ویسے بھی اسرائیل نے حماس کو عالمی برادری سے الگ تھلگ کر دینے کی پوری تیاریاں کر رکھی ہیں۔ اسرائیلی سابق وزیر اعظم نیتین یاہو نے تو حماس کی زیر قیادت نئی حکومت کا موازنہ ایران سے کیا ہے۔ حماس اور عرب قیادت کو اس بات کاخوب اندازہ تھا کہ اس بار فلسطین میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اسی لیے حماس کی اعلی قیادت کو او آئی سی کی مکہ کانفرنس میں بھی بلایا گیا۔حماس کے رہنماؤں نے انتخابی کامیابی سے پہلے ہی ایران،یمن ،شام اور دوسرے عرب ممالک کے اعلی رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کر دی تھیں۔ حماس کو اس بات کا اندازہ تھا کہ اس کی فتح کے بعد عالمی برادری کی طرف سے کسی بھی طرح کے منفی رویے کا مقابلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکہ نے تو پہلے ہی اپنا مالی تعاون روکنے کا اعلان کیا تھا۔اسرائیل کو کبھی تسلیم نہ کرنے اور اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے دستوری مقصد سے پیچھے نہ ہٹنے کا اعادہ کرنے کے باوجودحماس نے ایک متوازن راہ نکالی ہے جس سے اس بات کی امید پیدا ہو گئی ہے کہ حماس اور اسرائیلی حکومت دونوں مل کر وقتی امن کا راستہ ہموارکر سکتے ہیں۔پہلے تو حماس نے یہ کہا کہ حماس شیخ احمد یسین کے پیش کیے گئے طویل مدتی جنگ بندی معاہدے کے لیے بات چیت کر سکتی ہے۔حماس کے سیاسی ترجمان خالد مشعل نے کہا ہے کہ

’’ کسی بھی قوت کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہم سے ہماری زمین غصب کر لے۔اور ہمیں ہمارے قومی اور وطنی حقوق سے محروم کر دے۔ہم کسی بھی صورت میں اسرائیل کی صہیونی ریاست کو تسلیم نہیں کریں گے۔البتہ ہم طویل مدتی امن معاہدے کے لیے تیار ہیں۔حماس ان لوگوں کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے تیار ہے جو سچے اور مبنی بر عدل امن چاہتے ہیں۔‘‘

شائد یہی وجہ ہے کہ حماس کی اس متوازن فکر کے نتیجے میں میں عالمی برادری میں اسے حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ اس وقت حماس کی حمایت میں مغربی تجزیہ نگاروں کی ایک بڑی تعداد کھڑی ہے جو امریکہ کو متنبہ کر رہی ہے کہ امریکہ فلسطین یا کسی بھی دوسرے ملک میں الجزائر جیسا خطرناک تجربہ دہرانے کی حماقت نہ کرے۔مشرق وسطی امور کے ماہر صحافی جانتھن اسٹیل نے لکھا ہے کہ وہ حماس کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے فیصلے کو یوروپ کو ہنگامی مسئلے کے طور پر نہیںلینا چاہئیے۔کیونکہ تاریخ اور بین الاقوامی سیاست ہمیشہ ساتھ ساتھ نہیں چلتے۔ ایک طویل عرصے تک اسرائیل نے بھی فلسطینیوں کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے لیکن آخر کار کچھ ہی عرصے میں فلسطینیوں کو اردنی وفود کے ساتھ مذاکرات میں شامل کرنے کا عمل شروع ہو گیا۔حماس آخر کار خود کو غیر مسلح کر لے گی۔فلسطینی اور انکے فیصلے احترام کے قابل ہیں۔‘‘

اس وقت اسرائیل اور فلسطین دونوں ہی کو ایک طویل مدتی امن معاہدے کی ضرورت شدت سے ستا رہی ہے۔ خود حماس کی اعلی قیادت اس بات کو محسوس کر رہی تھی کہ فلسطینی عوام کو پھر سے متحد و منظم کرنا اور انکی بہتر تربیت کرکے انکے اندر ایک ملت ہونے کا احساس بیدار کرنا پہلی ضرورت ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ پچھلے گیارہ مہینوں سے حماس نے کوئی بھی خود کش کاروائی نہیں کی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ حماس اسرائیل کی کسی بھی قاتلانہ کاروائی کو نظر انداز کر دیگا۔ حماس نے اس بات کا اعادہ کیا ہے جب تک اسرائیل اپنی طرف سے کوئی دہشت گردانہ کاروائی نہیں کرے گا ہم بھی یک طرفہ جنگ بندی بنائے رکھیں گے۔ حماس کے لیڈروں نے اس تاریخی فتح کے بعد بار بار اعلان کیا ہے کہ کسی کو بھی اس فتح سے تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔اس لیے بہت سے مغربی اخباروں نے بھی حماس کی کامیابی کو امن کا ایک اور موقعہ قرار دیا ہے۔ایک جرمن اخبار نے لکھا ہے کہ ’’اس فتح کو سانحہ نہیں بلکہ موقعہ سمجھ کر امن کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔‘‘ایک اخبار کی خاتون صحافی نے تو یہاں تک لکھا کہ ’’حماس کی فتح سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اسلام اور جمہوریت ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔‘‘

اسرائیلی دہشت گردی کا خطرہ

ان سب امید افزا تجزیوں کے باوجود حماس کی قیادت کے لیے جو سب سے بڑا خطرہ در پیش ہے۔ وہ اسرائیل ہے جس نے حماس کی قیادت کو ختم کرنے کے لیے ٹارگیٹ کلنگ کے سارے نسخے آزما لیے ہیں۔ جس اسرائیل نے یکے بعد دیگرے شیخ یاسین اور رنتسیی کو قتل کیا اور جس نے ہزاروں فلسطینیوں کو حماس سے واسبتگی کے جرم میں ہلاک کر دیا اب یہ کیسے ممکن ہے اس قیادت کو اسرائیل ایسے ہی برداشت کر لے۔ اسرائیل کی ایک دہشت گرد تنظیم جس کے متعدد نمائندہ اسکی پارلیمنٹ’’ کنسیٹ ‘‘میں ہیں اس نے اسرائیلی پارلیمنٹ کو مشورہ دیا ہے کہ اسرائیل حماس کے تمام ممبران پارلیمنٹ کو یکے بعد دیگرے تہ تیغ کردے۔اب سوال یہ ہیکہ کیا عالمی برادری فلسطین کو اور اسکی جمہوریت کو ایک اعلانیہ دہشت گردی سے بچانے کی ذمہ داری قبول کرے گی۔ اور اس طرح کا مشورہ دینے والوں اور علی الاعلان اس سوچ کا اعلان کرنے والوں کو دہشت گرد نہیں تسلیم کرے گی۔

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146