حیات رسول کے روشن پہلو

محمد سعید رمضان

عفو و درگزر
مکہ جب فتح ہوا تو حرم کے صحن میںجہاں آپؐ کو گالیاں دی گئیں، آپ پر نجاستیں پھینکی گئیں، آپؐ کے قتل کی تجویز ہوئی، قریش کے تمام سردار مفتوحانہ کھڑے تھے، ان میں وہ بھی تھے جو اسلام کے مٹانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا چکے تھے، جو آپؐ کو جھٹلایا کرتے تھے۔ وہ بھی تھے جو آپؐ کو گالیاں دیا کرتے تھے، وہ بھی تھے جو خود اس پیکر قدسیؐ کے ساتھ گستاخیوں کا حوصلہ رکھتے تھے، وہ بھی تھے جنھوں نے آپؐ پر پتھر پھینکے تھے، وہ بھی تھے جنھوں نے آپؐ کے عزیزوں کا خون ناحق کیا، ان کے سینے چاک کیے تھے اور ان کے دل و جگر کے ٹکڑے کیے تھے، وہ بھی تھے جو غریب اور بے کس مسلمانوں کو ستاتے تھے، ان کے سینے پر اپنی جفاکاری کی آتشیں مہریں لگاتے تھے، ان کو جلتی ریتوں پر لٹاتے تھے، دہکتے کوئلوں سے ان کے جسم کو داغتے تھے، نیزوں کی انی سے ان کے بدن کو چھیدتے تھے۔ آج یہ سب مجرم سرنگوں تھے۔ پیچھے دس ہزار خون آشام تلواریں محمد مصطفی ﷺ کے اشارے کی منتظر تھیں۔ دفعتاً زبان کھلتی ہے۔ سوال ہوتا ہے:
’’بتاؤ! میں آج تم لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کروں؟‘‘
جواب ملتا ہے: ’’محمد(ﷺ) تو ہمارا شریف بھائی اورشریف بھتیجا ہے۔‘‘
ارشاد ہوتا ہے:’’آج میں وہی کہتا ہوں جو یوسف علیہ السلام نے اپنے ظالم بھائیوں سے کہا تھا۔ لا تثریب علیکم الیوم۔آج کے دن تم پر کوئی الزام نہیں۔ اذہبوا فانتم الطلقاء جاؤ تم سب آزاد ہو۔
(سید سلیمان ندویؒ)
جود و سخا
جود وسخا رسول اکرم ؐ کی فطرت تھی۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ: ’’آپؐ تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور خصوصاً رمضان کے مہینے میں آپؐ اور زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔ آپؐ نے تمام عمر کسی کے سوال پر ’’نہیں‘‘ کا لفظ نہیں فرمایا۔‘‘
ایک دفعہ ایک شخص خدمتِ اقدس ﷺ میں آیا اور دیکھا کہ دور تک آپؐ کی بکریوں کا ریوڑ پھیلا ہوا ہے۔ اس نے آپؐ سے درخواست کی اور آپؐ نے سب کی سب دے دیں۔ اس نے اپنے قبیلے میں جاکر کہا کہ : ’’اسلام قبول کرلو، محمد ﷺ ایسے فیاض ہیں کہ مفلس ہوجانے کی پروا نہیں کرتے۔‘‘ (شبلی نعمانیؒ)
ایک دفعہ رسول اکرمﷺ نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’اے ابوذر! مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پاس کوہ احد کے برابر سونا ہو اور تیسرے دن تک اس میں سے میرے پاس ایک اشرفی بھی بچ رہے، سوائے اس کے جو ادائے قرض کے لیے ہو۔ اے ابوذر! میں اس مال کو دونوں ہاتھوں سے اللہ کی مخلوق میں تقسیم کرکے اٹھوں گا۔‘‘ (صحیح بخاری)
حسنِ اخلاق
رسول اکرمﷺ کا یہ معمول تھا کہ کسی سے ملنے کے وقت ہمیشہ خود سلام اور مصافحہ فرماتے۔ کوئی شخص جھک کر آپؐ کے کان میں کچھ بات کہتا تو اس وقت تک اس کی طرف سے رخ نہ پھیرتے جب تک وہ خود منھ نہ ہٹالے۔ مصافحہ میں بھی یہی معمول تھا۔ یعنی ہاتھ ملاتے تھے تو جب تک وہ خود نہ چھوڑ دے اس کا ہاتھ نہ چھوڑتے۔ مجلس میں بیٹھتے تو آپؐ کے زانو کبھی ہم نشینوں سے آگے نکلے ہوئے نہ ہوتے۔
ایک دفعہ نجاشی کے ہاں سے ایک سفارت آئی۔ آپؐ نے اس کو اپنے ہاں مہمان رکھا اور خود بنفسِ نفیس مہمان داری کے تمام کام انجام دیے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ ہم یہ خدمت انجام دیں گے۔ ارشاد ہوا: ’’ان لوگوں نے میرے دوستوں کی خدمت گزاری کی ہے۔ اس لیے میں ان کی خود خدمت گزاری کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
کسی شخص کی کوئی بات ناپسند آتی تو اکثر اس کے سامنے اس کا تذکرہ نہ فرماتے۔ ایک دفعہ ایک صاحب عرب کے دستور کے مطابق زعفران لگا کر خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؐ نے کچھ نہ فرمایا:جب وہ اٹھ کر چلے گئے تو لوگوں سے کہا: ’’ان سے کہہ دینا کہ اس کو دھو ڈالیں۔‘‘ (ساقی کوثر)
مہمان نوازی
رسول اکرمﷺ مہمان نوازی میں کافر و مسلمان میں کوئی امتیاز نہ کرتے تھے۔ مشرک و کافر سب آپؐ کے مہمان ہوتے اور آپؐ یکساں ان کی مہمان نوازی کرتے۔ جب اہلِ حبشہ کا وفد آیا تو آپؐ نے خود اپنے ہاں اتارا اور خود بنفسِ نفیس ان کی خدمت کی۔
ایک دفعہ ایک کافر مہمان ہوا آپؐ نے اسے بکری کا دودھ پلایا وہ سارے کا سارا پی گیا۔ آپؐ نے دوسری بکری منگوائی وہ بھی کافی نہ ہوئی۔ غرض سات بکریوں تک نوبت آئی۔ جب تک وہ سیر نہ ہوا آپؐ پلاتے گئے۔
حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں اور میرے دو رفیق اس قدر تنگ دست تھے کہ بھوک سے بینائی جاتی رہی۔ ہم لوگوں نے اپنے تکفل (کفالت) کی درخواست کی۔ لیکن کسی نے منظور نہ کی۔ آخر ہم لوگ رسول اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؐ ہمیں اپنے دولت خانہ پر لے گئے اور تین بکریوں کو دکھا کر فرمایا: ان کا دودھ پیا کرو۔ چنانچہ ہم میں سے ہر شخص دودھ دوھ کر اپنا اپنا حصہ پی لیا کرتا تھا۔
انکساری
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ’’رسول اکرمﷺ مریضوں کی عیادت فرماتے تھے۔ جنازوں میں شرکت فرماتے تھے،دراز گوش پر سوار ہوجاتے تھے اور غلاموں کی دعوت قبول فرمالیتے تھے۔‘‘ (شمائل ترمذی)
آپؐ خدمت گار کے ساتھ کھانا کھالیتے اور اس کے ساتھ آٹا گوندھوالیتے۔ اپنا سودا بازار سے خود لے آتے آپ سب سے بڑھ کر احسان کرنے والے اور عدل کرنے والے اور عفیف اور سچ بولنے والے تھے۔ (مدارج النبوۃ)
بچوں سے محبت
رسول اکرمﷺ جب کسی ماں کو اپنے بچے سے پیا رکرتے ہوئے دیکھتے تو بہت متاثر ہوتے۔ کبھی ماؤں کی بچوں سے محبت کا ذکر آتا تو فرماتے:
’’اللہ تعالیٰ جس شخص کو اولاد دے اور وہ اس سے محبت کرے اور اس کا حق بجالائے تو وہ دوزخ کی آگ سے محفوظ رہے گا۔‘‘
رسول اکرم ﷺ جب سفر سے تشریف لالتے تو راستے میں جو بچے ملتے انہیں نہایت شفقت سے اپنے آگے یا پیچھے سواری پر بٹھا لیتے تھے۔ (خصائل نبویؐ)
ایفائے عہد
حضرت عبداللہ بن ابی الخمساء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ’’بعثت سے پہلے میں نے رسول اکرمﷺ سے کوئی چیز خریدی، کچھ رقم باقی رہ گئی۔ میں نے آپؐ سے وعدہ کیا کہ اسی جگہ لے کر حاضر ہوتا ہوں۔ پھر میں بھول گیا۔ تین دن کے بعد مجھے یاد آیا۔ میں وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اکرمﷺ اسی جگہ تشریف فرما ہیں، آپؐ نے فرمایا: تم نے مجھے مشقت میں ڈال دیا۔ تین دن سے اسی جگہ پر کھڑا ہوا تمہارا انتظار کررہا ہوں۔‘‘ (ابوداؤد)
تحمل و بردباری
رسول اکرمﷺ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ آپؐ نے کبھی کسی چیز کو یعنی (آدمی یا جانور کو) اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔ اللہ کی راہ میں جو جہاد کیا وہ اور ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’رسول اکرمﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اللہ تعالیٰ کے لیے جہاد کے علاوہ کبھی کسی کو نہیں مارا۔ نہ کبھی کسی خادم کو نہ کسی عورت (بیوی یا باندی) کو مارا۔‘‘
آپؓ فرماتی ہیں : ’’میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ رسول اکرمﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے ظلم کا بدلہ لیا ہو، البتہ اللہ کی حرمتوں میں سے کسی کی توہین ہوتی (مثلاً کسی حرام فعل کا کوئی مرتکب ہوا ہو) تو رسول اکرمﷺسے زیادہ غصہ والا کوئی شخص نہیں ہوتا تھا۔‘‘ (شمائل ترمذی)
مزاح مبارک
ایک شخص نے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر سواری کی درخواست کی۔ تو آپؐ نے ارشاد فرمایا:’’تم کو سواری کے لیے اونٹنی کا بچہ دوں گا۔ وہ شخص حیران ہواکیونکہ اونٹنی کا بچہ سواری کا کام کب دے سکتا ہے۔ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا ’’کیا کوئی اونٹ ایسا بھی ہوتا ہے جو اونٹنی کا بچہ نہ ہو۔‘‘ (شمائل نبویؐ)
ایک مرتبہ ایک بڑھیا خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے لیے دعائیں فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو جنت نصیب کرے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی۔‘‘
یہ فرما کر آپؐ نماز کے لیے تشریف لے گئے بڑھیا نے رسول اکرمﷺ کے الفاظ سنے تو زار و قطار رونا شروع کردیا۔ آپؐ نماز سے فارغ ہوکر تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ جب سے آپ نے فرمایا ہے کہ بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی یہ بڑھیا رو رہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ : ’’اس سے کہہ دو کہ بوڑھی عورتیں جنت میں جائیں گی مگر جوان ہوکر۔‘‘ (شمائلِ نبوی)
دل جوئی
رسول اکرم ﷺ سب کی دلجوئی فرماتے۔ ایسا برتاؤ نہ کرتے جس سے کوئی گھبرا جائے ظالموں اور شریروں سے خوش اسلوبی کے ساتھ اپنا بچاؤ بھی کرتے مگر سب کے ساتھ خندہ پیشانی، خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آتے ہر کام کو نظم و ضبط اور منصوبہ بندی کے ساتھ کیا کرتے۔ بیٹھتے اٹھتے اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتے، اس کا ذکر کرتے۔ کسی محفل میں تشریف لے جاتے تو جہاں بھی کنارے پر جگہ ملتی، بیٹھ جاتے۔ اگر بات کرنے والے کئی آدمی ہوتے تو باری باری سب کی طرف منھ کرکے بات کرتے۔ (نشر الطیب)
خبر گیری
رسول اکرمﷺ زبان مبارک سے وہی بات فرماتے، جس سے ثواب ملے۔ کوئی پردیسی آتا تو اس کی خبر گیری کرتے۔ ہر شخص کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتے جس سے ہر شخص کو یہی محسوس ہوتا کہ رسول اکرمﷺ کو میرے ساتھ سب سے زیادہ محبت ہے۔ اگر کوئی شخص بات کرنے بیٹھ جاتا تو جب تک وہ نہ اٹھے آپؐ نہ اٹھتے تھے۔
——

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146