مہنگائی سے تو ہر کوئی پریشان ہے۔ تاہم خواتین اپنی پریشانی کم کرنے کے لیے بچت کیسے کرسکتی ہیں؟ اس حوالے سے مندرجہ ذیل تجاویز کارگر ثابت ہونگی۔
٭ اگر خواتین ایک وقت میں ہی مہینہ بھر کی ضروری اشیاء خریدلیں تو بچت ہوسکتی ہے۔ میٹرو/ میکرو جیسے اسٹورز پر ہر آئٹم کی قیمت میں کچھ نہ کچھ کمی ہوتی ہے اگر ہر مہینے ان اسٹورز سے خریداری کی جائے تو بچت یقینی ہے۔
٭ ہر موسم میں ہر چیز پر سیل ضرور لگتی ہے۔ اگر سیل سے اشیاء خریدنے پر توجہ دی جائے تو کافی حد تک بچت ہوسکتی ہے۔ موسم کے لحاظ سے ملبوسات اور جوتے خریدنا خواتین کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
٭خواتین بازاری کھانوں کی بجائے خود گھر پر کھانا تیار کرنے کی عادت ڈالیں تو بڑی رقم بچ جائے گی۔ مثال کے طور دہی بھلے ہی لے لیجیے۔ بازارمیں تیس سے چالیس روپے میں دہی بھلے کی کی ایک پلیٹ ملتی ہے یعنی دو تین افراد پر کم سے کم سو سے ڈیڑھ سو روپے کا خرچہ آئے گا اگر یہی دہی بھلے گھر میںتیار کیے جائیں تو سو روپے میں چار سے پانچ افراد ان سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔
٭ خواتین کو شوقیہ خریداری کرنے کی عادت ہوتی ہے لیکن یہ شوق پیسوں کے زیاں کے مترادف ہوتا ہے۔ اکثر خواتین وہ چیزیں بھی خرید لیتی ہیں جن کی انہیں ضرورت نہیںہوتی، اس طرح نہ تو یہ اشیاء استعمال میں آتی ہیں اور نہ ہی محفوظ رہ پاتی ہیں۔
٭ اکثر خواتین بجلی، گیس، فون وغیرہ کے بل ادا کرنے میں سستی کرجاتی ہیں مقررہ تاریخ کے بعد بل ادا کرنے کی وجہ سے جرمانہ بھی دینا پڑتا ہے اگر مہینے کے آغاز میں ہی بل ادا کردیا جائے تو جرمانے سے بچت ہوگی۔





