خواہش

شمیم ادھیکاری، پنویل

شامی اب پشیمان ہورہا تھا کہ اس نے ایسی تمنا کیوں کی تھی۔ بس اسی تمنا اور اسی خواہش کا نتیجہ تھا کہ وہ اب صحرائے اعظم میں تن تنہا تھا۔ یہاں نہ کوئی آدم تھا نہ آدم زاد۔ چاروں طرف بس ریت ہی ریت تھی۔ دور دور تک کوئی بھی مخلوق نظر نہیں آرہی تھی۔ کئی کوسوں میل چل کر اب وہ بھوک و پیاس سے بے حال ہوچکا تھا۔ ایک ہلکی سی روشنی میں وہ اس صحرائے اعظم میں چلتا رہا، بھٹکتا رہا۔ ریگزاروں میں کوسوں کا فاصلہ طے کرچکا مگر جس کی اُسے تلاش تھی، تمنا تھی، جستجو تھی وہ کہیں بھی نظر نہیں آرہی تھی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو دور تک اسے اپنے ہی قدموں کے نشان نظر آئے۔ چاروں طرف ریت ہی ریت ۔ حدِ نظر تک صحرا۔
دراصل بات یہ ہے کہ اُس نے کتابوں میں پڑھ رکھا تھا اور اپنے استادوں اور بزرگوں سے بھی سنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جنت بنائی ہے، اس میں بہت ساری نعمتیں اور بے شمار آسائشیں موجود ہیں۔ جنت میں باغات ہیں، جن میں نہریں بہہ رہی ہیں۔ ان نہروں کا صاف و شفاف پانی کبھی باسی نہ ہوگا۔ دودھ کی نہریں ہوں گی، اس کا مزہ بھی کھٹاس میں نہیں بدلے گا، نہ اُسی میں کچھ بگاڑ ہوگا۔ لذیذ شراب کی ایسی نہریں ہوںگی کہ نہ اس کے پینے سے مستی ہوگی اور نہ عقل زائل ہوگی۔ میٹھی صاف ستھری شہد کی نہریں بھی ہوں گی لوگ ان نہروں میں جیسا چاہیں گے تصرف کریں گے۔ جو کچھ وہ پسند کریں کھائیں اور جو مشروف چاہیں وہ پئیں۔ پسینے سے کستوری کی خوشبو آئے گی۔ اس جنت کی تعمیر سونے اور چاندی کی اینٹوں سے ہوگی اور گارہ کستوری ہوگا، اس کی کنکریاں موتی اور یاقوت ہوں گے اور مٹی زعفران ہوگی۔ محلات میں کمرے ایسے ہوں گے جن کے اندر سے اُن کا بیرونی حصہ، اور باہر سے اندرونی حصہ نظر آئے گا۔ اہلِ جنت اپنے محلوں سے نکل کر آپس میں باتیں کریں گے۔ جنت میں دو باغ ایسے ہوں گے جس میں ہر پھل کی دو قسمیں ہوں گی اور دو باغ ایسے ہوں گے جن میں خشک میوے، پھل انار اور کھجور ہوں گے۔ کھجور اور انگور ایسے ہوں گے جیسے کہ دنیا میں ہیں، ان کا صرف نام ہی ایک جیسا ہوگا، مگر لذت کچھ اور ہوگی۔ یہاں درختوں کے خوشے جھکے ہوں گے،اگر کوئی بیٹھا، کھڑا یا لیٹا ہے تو آسانی سے پکڑ سکے گا اور جب بھی درخت سے پھل الگ کرلیا جائے تو اس کی جگہ دوسرا پھل اُگ آئے گا۔
بس ان ہی باتوں نے اُس کے دل و دماغ میں ایک ہلچل سی پیدا کردی تھی۔ وہ موت سے پہلے جنت کی سیر کرنا چاہتا تھا، وہ اپنی آنکھوں سے جنت کا نظارہ کرنا چاہتا تھا۔ بالکل ویسے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ جل شانہ کے دیدار پر بضد تھے۔
شامی کے گھر اکثر ایک بزرگ آتے تھے، جو جسمانی ہیئت اور لباس سے شریعت کے پابند، سر پر سفید صافہ، اکثر سفید کرتا، لنگی جو ٹخنوں سے کافی اوپر رہتی، معمولی سے چپل، چہرے پر پُرکشش داڑھی، چوڑی پیشانی، نیک وصالح، متقی و پرہیزگار تھے۔ ان کی زبان ہمیشہ حرکت کرتی رہتی تھی۔ یا تو تلاوتِ کلام پاک کرتے رہتے یا زبان پر حمد و صلوٰۃ جاری رہتے تھے۔ وہ عمر کی اس منزل پر پہنچ چکے تھے، جہاں متعدد امراض اور نقاہت آگھیر لیتی ہیں۔ ان ہی وجوہ کی بنا پر وہ حج جیسے مقدس فریضے سے محروم رہے۔ مگر اس مقدس سرزمین پر نہ پہنچ پانے کے غم میں ایک عجیب سی کیفیت اور ایک عجیب سی تڑپ میں وہ مبتلا رہتے۔ اس کی وجہ سے اکثر وہ کبھی مدینہ کی مٹی کو یاد کرتے، کبھی خانۂ کعبہ کو تو کبھی روضۂ اطہر کو دیکھنے کے لیے اُن پر عجیب اضطراری کیفیت طاری ہوجاتی اور اسی عالم میں آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے اور چہرہ و داڑھی تر ہوجاتی۔ وہ بزرگ عالمِ دین بھی تھے۔ وہ بھی شامی سے جنت کی نعمتوں کا ذکر کیا کرتے تھے۔ ایک روز موقع محل دیکھ کر شامی نے بزرگ سے عجیب فرمائش کی، مولانا … مجھے جنت کی سیر کرنی ہے۔ آپ کے پاس علم کا خزانہ ہے، مجھے ایسی تسبیح یا وظیفہ عطا کیجیے کہ جس سے مجھے جنت کا دیدار ہوجائے۔ یہ سن کر وہ بزرگ ناراض ہوئے اور کہنے لگے ’’موت سے پہلے جنت کا دیدار ناممکن ہے، تم بے وقوف ہو جو ایسی باتیں کرتے ہو، ایسی ضد چھوڑدو۔ موت کے بعد قبر میں ایک عرصہ گزارنا ہوگا اس کے بعد قیامت برپا ہوگی۔ روز محشر ہمارے اعمال کے عوض انعامات تقسیم ہوں گے پھر…‘‘ اس نے بزرگ کی بات کاٹ کر کہا: ’’مولانا میں یہ ساری باتیں جانتا ہوں لیکن پھر بھی میں آپ سے استدعا کرتا ہوں کہ مجھے کوئی ایسا وظیفہ بتلا دیجیے کہ موت سے پہلے جنت کی سیر نصیب ہوجائے، جنت کے نظاروں کا، نعمتوں کا دیدار ہوجائے۔‘‘ عالمِ دین بزرگ نے شامی کو غصیلی نظروں سے دیکھا اور کمرے سے باہر نکل گئے۔
کچھ عرصہ بعد شامی کی عالم دین سے پھر ملاقات ہوئی۔ شب کی اول ساعتیں تھیں۔ دین کی باتیں چل رہی تھیں کہ اچانک شامی نے بزرگ کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ پھر وہی اصرار وہی ضد ’’حضرت … مجھے کوئی وظیفہ بتلا دیجیے۔ میں جنت دیکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے جنت کی سیر کرنی ہے۔‘‘ شامی پر دیوانگی طاری تھی۔ اس جنون کو دیکھتے ہوئے اور پیچھا چھڑاتے ہوئے بزرگ نے شامی کے کان میں کچھ سرگوشی کی اور چند قرآنی آیات پڑھ کر اس کے جسم پر دم کیا اور خود جاکر آرام کرسی میں دراز ہوگئے۔ شامی خوشی خوشی چلا گیا اور پھر اپنے بستر پر نیند کی آغوش میں پہنچ گیا۔
وہ ایک عظیم ترین صحرا تھا۔ وہاں ہلکی سی روشنی میں وہ کئی میلوں دور تک چل چکا تھا مگر کوئی نشانی اسے نظر نہیں آئی۔ اچانک اس کی نظر ایک تختی پر پڑی جس پر ایک تیر کا نشان منزل کی طرف نشاندہی کررہا تھا۔ وہ خوش ہوا کہ اب میں اسے دیکھ لوں گا جس کی تلاش ہے۔ بھوک و پیاس سے برا حال ہونے کے باوجود وہ آگے بڑھتا چلا گیا۔ اسے کچھ دور چند جھلکیاں نظر آئیں۔ خوبصورت دلکش سماں تھا۔ اس سے پہلے اس نے کبھی ایسے نظارے نہیں دیکھے تھے۔ موتی کے محلات، باغات جن کے نیچے دودھ و شہد کی پاکیزہ نہریں بہہ رہی تھیں۔ مرد و زن گاؤ تکیہ لگائے، خوش گپیاں کرتے ہوئے تخت پر بیٹھے کچھ نوش فرما رہے تھے، ماحول معطر تھا۔ یہ سب لوگ ریشمی لباس میں ملبوس، سایہ دار درختوں کے سائے میں تختوں پر براجمان تھے۔ جہاں نگاہ ڈالی نعمتیں ہی نعمتیں۔ نہ دھوپ کی حِدّت نہ سردی کی شِدّت۔ شامی ان نظاروں میں چند پل کے لیے کھوگیا۔ پھر تیز رفتاری سے اُس جانب بڑھنے لگا۔ ابھی چند ہی قدم بڑھائے تھے کہ وہ سارے مناظر نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ پھر وہی صحرا اور ریگزار اور اس میں وہ تنِ تنہا۔ اس نے پاگلوں کی طرح زور زور سے چیخنا چلانا شروع کیا ’’کوئی ہے؟ ارے بھائی کوئی ہے؟؟ میری آواز سنو۔‘‘ مجھے جواب دو۔ کوئی ہے؟ وہ چیختا رہا۔ شور مچاتا رہا۔
اچانک چند میٹرکے فاصلے پر اسے ایک شخص نظر آیا۔ شامی نے اسے آواز دی اور اس کا پیچھا کیا مگر چند ہی سیکنڈ بعد وہ شخص حیرت انگیز طور پر غائب ہوگیا۔ شامی سوچنے لگا میں کہا پھنس گیا ہوں۔ وہ روہانسا ہوگیا اور تھک ہار کر ریت پر لیٹ گیا پھر آہستہ آہستہ خود کو گھسیٹ گھسیٹ کر بڑھنے لگا۔ ابھی وہ چند گز آگے بڑھا ہوگا کہ وہی شخص دوبارہ نظر آیا۔ شامی نے پھر چلاَّ کر کہا: ’’اے بھائی…خدا کے بندے… خدارا، تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر جاؤ۔ اللہ کے واسطے رک جاؤ، مجھ پرمہربانی کرو۔ میں بہت تھک چکا ہوں، میری مدد کرو۔‘‘ پھر شامی کھڑا ہوا اور اس شخص کی جانب دوڑنے لگا۔ اب کی بار وہ شخص اپنی جگہ سے ہلا نہیں بلکہ اسی طرح کھڑا رہا جیسے کوئی جامد مجسمہ ہو۔اس کے قریب پہنچ کر شامی نے سلام کیا۔ وہ جاہ و جلال والا، باوقار، نورانی چہرہ، چہرے پر دودھ کی رنگت سی لمبی داڑھی، سرمیٔ چمکیلی آنکھیں مگر پرنم، چہرے پر اداسی چھائی ہوئی، سفید کپڑوں میں ملبوس شخص نظریں جھکائے خاموش کھڑا تھا۔
اس شخص کے بالکل قریب پہنچ کر شامی مخاطب ہوا ’’جناب میں یہاں ایک طویل عرصے سے بھٹک رہا ہوں۔ یہاں کوئی آدم ہے نہ آدم زاد، کوئی مخلوق بھی نظر نہیں آتی۔ میں یہاں جنت کی تلاش میں آیا ہوں۔ مگر افسوس کہ یہاں جنت کہیں بھی نظر نہیں آرہی ہے۔ یہاں تو صرف ریت ہی ریت اور ہلکی سی روشنی ہے۔ ہاں کچھ دیر پہلے میں نے جنت جیسی کسی جگہ کا نظارہ کیا تھا۔ مگر اب یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘
اس شخص نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا : ’’ویسے تم بالکل ٹھیک جگہ پہنچے ہو، وہ جنت ہی تھی، یہ جنت ہی ہے۔‘‘
’’لیکن یہ کیسی جنت! یہاں تو عیش و آرام کی کوئی شے نہیں ہے۔‘‘ شامی نے جھلا کر پوچھا۔
اُس شخص نے گردن جھکائی اور افسردہ لہجے میں کہنے لگا’’یہاں عیش و آرام کی چیزیں بکھری نہیں ہوتیں، بلکہ ہر شخص اپنے حصے کا عیش و آرام خود لے کر آتا ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘ شامی نے حیرت سے سوال کیا۔
’’ہاں میرے بھائی! نیک و صالح، متقی، ایماندار، سچے لوگ، اللہ کی ہدایات اور رسول کی سنتوں پر عمل کرنے والے لوگ دنیا ہی سے اپنا سازو سامان یہاں روانہ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ان کے محلات اور آسائش کے سامان یہاں پہلے ہی بن چکے ہوتے ہیں۔ تم نے اپنی دنیاوی زندگی میں کوئی چیز اس طرف بھیجی نہیں ہوگی، اسی لیے تمہارے حصے کا محل و آسائش کا ساز و سامان وغیرہ دکھائی نہیں دیا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ شخص اچانک نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
’’یا اللہ یہ بات ہے۔‘‘ شامی لرز کر رہ گیا۔ اس کے پاس کچھ بھی تو نہیں تھا۔ اس مقام پر آنے سے پہلے اس نے کوئی نیکی، کوئی اچھا عمل نہیں روانہ کیا تھا۔ شامی کانپ کر رہ گیا اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ اسے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے وہ جہنم کی کسی گہری کھائی میں گررہا ہو۔ اس کی آنکھ کھلی تو خود کو چارپائی کے قریب فرش پر پایا۔ سامنے ہی مولانا عالمِ دین کھڑے تھے، انھوں نے شامی کو سہارا دیا اور چارپائی پر بٹھا کر پوچھا ’’کیا ہوا؟ طبیعت کچھ ناساز لگ رہی ہے۔ نیند میں تم کچھ بڑبڑا رہے تھے پھر اچانک چارپائی سے فرش پر آگرے۔ کیا بات ہے؟‘‘
شامی نے ساری داستان سنائی۔ اس پر لرزہ طاری تھا۔ عالم دین نے شفقت سے شامی کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:’’جنت اللہ کی بنائی ہوئی ایک انوکھی دنیا ہے۔ وہاں انسان کی تمام خواہشات کی تکمیل ہوگی۔ جنت کی یہ دنیا موت کے بعد کی ابدی زندگی میں اس عورت یا مرد کو ملے گی جو اس کی قیمت اس دنیا میں ادا کرے گا۔
شامی فوراً بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہوگیا، شکر ادا کیا اور سجدے میں ہی دعائیں مانگیں ’’اے رب العالمین! اے مالکِ کائنات! روزِ جزا کے مالک مجھے معاف فرمادے۔ میں غفلت میں تھا، دنیا کی زیب و زینت میں غرق تھا۔ یا اللہ مجھے صراطِ مستقیم پر چلا، قبر میں سونے سے پہلے مجھے بیدار کر۔ دنیاوی زندگی میں رہ کر آخرت والی زندگی کا سامان مہیا کرنے کی توفیق عطا فرما۔
——

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146