تاریخ میں ہے کہ کوفہ کا ایک بادشاہ توبہ بن صمہ اپنا روز جائزہ لیتا تھا۔ ایک دن اس نے حساب کیا۔ تو وہ ساٹھ سال کا ہوچکا تھا۔ اس نے اپنے سالوں کے دن گنے تو وہ اکیس ہزار پانچ سو دن بنے۔ وہ چیخ پڑا اور کہا ہائے افسوس اگر مجھ سے ایک دن کا ایک بھی گناہ ہوا۔ تو میں اللہ کے سامنے اکیس ہزار پانچ سو گناہ لے جاؤں گا۔ حالانکہ ہرروز کئی گناہ ہوجاتے ہیں۔ پھر بے ہوش کر گر پڑا اور فوت ہوگیا۔ اس وقت لوگوں نے غائبانہ آواز سنی جنت الفردوس کی دوڑ کیسی اچھی ہے۔
اس طرح آدمی کو چاہیے کہ اپنے نفس سے ایک ایک سانس کا حساب لے۔ ہر وقت دل اور اعضاء کے گناہوں کا خیال رکھے۔ اگر انسان ہر گناہ کے بعد ایک پتھر اپنے گھر میں پھینکنے لگے تو تھوڑی ہی مدت میں اس کا گھر پتھروں سے بھر جائے گا۔ لیکن وہ گناہوں کو بھول جاتا ہے حالانکہ وہ ثابت ہیں۔ اللہ نے ان کو گن رکھا ہے۔
شداد بن اوسؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ نے فرمایا کہ عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو اپنے تابع رکھے اور موت کے بعد کام آنے والے عمل کرے اورعاجز وہ ہے جو اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے لگ جائے اور اللہ سے بھلائی کی امید رکھے۔
حضرت عمرؓ نے فرمایا: ’’قیامت کا حساب ہونے سے پہلے اپنے آپ کا محاسبہ کرو۔ اور اعمال کا وزن ہونے سے پہلے ان کو تولو اور سب سے بڑی پیشی کے لیے تیار کرو۔‘‘ اس دن تم پیش کیے جاؤگے تم سے کوئی چیز مخفی نہ رہے گی۔‘‘ (سورۃ الحاقہ) حضرت حسن رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اللہ اس بندے پر رحم کرے جو ارادہ کرتے وقت عمل پر غور کرے۔ اگر اللہ کے لیے ہو تو عمل کرے اور اگر کسی اور کے لیے ہو تو پیچھے ہٹ جائے۔
انسان کو چاہیے کہ عمل سے پہلے بھی اور عمل کے دوران بھی اس بات کا جائزہ لے کہ آیا اس عمل کا محرک نفس ہے یا اللہ تعالیٰ کی رضا۔ اگر اللہ کے لیے ہو تو کرے ورنہ چھوڑ دے۔ یہی اخلاص ہے۔
حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تم ہر لمحہ اس بات کا جائزہ لیتے رہو کہ اللہ سے کتنے قریب ہوئے، شیطان سے کتنے دور ہوئے، جنت سے کتنے قریب ہوئے، دوزخ سے کتنے دور ہوئے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اس پر غور کرے جو اس نے کل کے لیے آگے بھیجا ہے۔
انسان کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اور اس محاسبہ اور نیت کے درمیان رابطہ پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ علامہ جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شروع دن میں ایک ایسا وقت لازمی طور پر ہونا چاہیے جس میں انسان اپنے نفس سے شرط طے کرے کہ فلاں کام کروں گا اور فلاں نہیں کروں گا۔ اسی طرح آخر دن میں بھی کوئی وقت رکھے جس میں اپنے نفس سے مطالبہ کرے اور جو کچھ دن میں وہ کرچکا ہے اس کا حساب لے جیسا کہ تاجر لوگ اپنے شریک کار سے کرتے ہیں اور حساب کا مطلب یہ ہے کہ اپنا سرمایہ اور منافع اور خسارہ دیکھے تاکہ اپنا نفع و نقصان کا پتا چلے۔





