بھارت کی روایت میں حجاب کوئی نئی بات نہیں۔ قدیم زمانے سے ہی یہاں نہ صرف مسلمان خواتین بلکہ ہر مذہب کی خواتین سروں پر آنچل ڈالنے کی روایات رکھتی ہے۔ہندوستانی معاشرہ روایت پسند معاشرہ ہے یہاں کے تمام مذاہب خاندانی نظام اور تہذیب و روایات سے جڑے ہوئے مذاہب ہیں جہاں بڑوں کا احترام اور رشتوں کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے شعوری کوششوں کی ایک پوری تاریخ ہے۔لڑکیوں کا پاکدامن رہنا، غلط نظروں سے محفوظ رکھنا، والدین کا اپنی لڑکیوں کی فکر کرنا، شادی کے بعد اپنے شوہر کی وفاداری، سسرال کے دیگر رشتوں جیسے شوہر کے بھائی، یا سسر کے سامنے احترام سے بہو کا آنچل لینا، حتی کہ بیٹوں کے سامنے ماں کا مکمل لباس میں احترام سے آنچل لینا روایات کا حصہ رہا ہے۔جہاں تک اسلام کا معاملہ ہے تو اس کے نزدیک حجاب بنیادی اخلاقی قدر ہے جس کی لازمیت قرآن اوررسول پاکؐ کے دور کے معاشرے سے ثابت ہے۔ اس کا تعلق خواتین کے اس لباس سے ہے جسے پہن کر وہ باہر نکلتی ہے۔
اسلام نے اسے لازم تو کیا ہے، مگر اس کے اصول و ضوابط اور حدود بتاکر اللہ نے اسے انسان کے اپنے کمفرٹ زون یا سہولت پر چھوڑ دیا ہے کہ کیا پہنے؟کیسے پہنے؟اس پورے ضابطۂ اخلاق کا تعلق عورت کے احترام اور تحفظ ہی سے جڑا ہوا ہے ۔مرد کو تاکید کی گئی کہ وہ کسی نامحرم خاتون کی جانب نگاہ اٹھاکر نہ دیکھے ۔اس کے پیچھے سماج کو انتشار اور جرائم سے بچانا بھی مقصود ہے۔
جہاں تک ہندوستان میں حالیہ حجاب تنازعے کی بات ہے تو اڈپی کی گراونڈ رپورٹ پڑھنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان دنوں مسلمانوں کے خلاف منافرت اور اسلامی طرزِ زندگی کے خلاف اعتراضات کے تئیں عوام کا مائنڈ سیٹ کیا جارہا ہے اور یہ ایشو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔
یہ قدیم طریقہ رہا ہے برسرِ اقتدار گروہ جب عدل وانصاف نہ کرسکے تو مذہب کو ہدف بناکر سیاسی ماحول کو گرمانے کی کوشش کرتا ہے تاہم اس مباحث میں یہ سمجھنا اہم ہے کہ اسلام کے خلاف اعتراضات کا ماحول اسلام اور مسلمانوں سے نفرت پیدا کردی جائے تو اس سے اسلام کوفائدہ ہوگا یا نقصان؟اس بات کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ اسلام م لالچ یا طاقت کے ذریعہ پھیلایا گیا دین نہیں ہے۔ یہ ازل سے ہی انسان کو غور و فکر، تجربے اور سائنٹفک سوچ کی دعوت دیتا ہے۔
یہ فطرت کے اس قدر قریب ہے کہ سوائے سرکش انسان کے، ہر ایک پر اس کی حقانیت کھلتی ہے اور واضح ہوجاتی ہے۔مثلاً حجاب ہی کو لیجیے: سرپر آنچل احترام کی علامت ہے۔ نسوانیت کے لیے بہترین ہے جس کے ذریعہ نہ صرف یہ کہ عورت جسمانی اعتبار سے محفوظ ہوتی ہے بلکہ اگر وہ حجاب میں ہو تو کوئی اسے نفسیاتی طور پرکمزور نہیں کر سکتا ۔اسی طرح بہت معتبر قسم کی خواتین کو جو ڈیسنٹ پرسنالیٹی رکھتی ہیں، ان کا مذہب کوئی بھی ہو، آپ انہیں ساتر لباس میں ہی پائیں گے۔ایک مرتبہ ایک یونیورسٹی کی ڈین لیڈی پارلر میں کسی فنکشن کے لئے خودکو تیار کررہی تھیں۔ان کا لباس فل آستین اور بند گلے کا تھا۔ پارلر کی خاتون نے ان سے کہا کہ آپ کے ہاتھوں کی وائٹننگ ہوچکی ہے اب آپ سلیو لیس بھی پہن سکتی ہیں۔تب اس غیر مسلم خاتون نے جواب دیا: ’’سلیو لیس پہنوں تو میرے نالج سبجیکٹ اور کام سے زیادہ مرد اسی کو دیکھیں گے۔ میں ایسا آوٹ فٹ جو مردوں کو الجھا دے کامپلکس مانتی ہوں۔‘‘ یہاں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جو فرد دلائل اور لاجکل ریزننگ کا قائل ہوگا لازما اس کی طبعیت ان احکامات کی حقانیت کو قبول کرے گی۔
اسلام کے کسی حکم پر اعراضات کیے جاتے ہیں تو معقول ذہن اس پر غورو فکر کرتا ہے اور جب غیر متعصبانہ و حقیقت پسندانہ تجزیہ کرتا ہے تو اس کی حقانیت کا دل سے قائل ہوجاتا ہے۔ اس لیے ان اعتراضات پر ہماری کوشش یہ ہو کہ جارحانہ روئیے کے بجائے غور و فکر اور تجربے کی دعوت دی جائے۔اس کے دو فائدے واضح طور پر نظر آتے ہیں۔
ایک فائدہ تو ان خواتین کو ہوا جو اب تک حجاب صرف مسلم کمیونٹی کی روایت سمجھ کر پہنتی آرہی تھیں ۔ اللہ کے حکم اور اس کی حکمت سے نابلد تھیں ۔ اسی لیے حجاب کو روایت سمجھنے والی خواتین نے حجاب کو ایک طرح سے زیب وزینت اور فیشن بنادیا تھا ۔ان اعتراضات کی وجہ سے وہ بھی غور وفکر پر آمادہ پائی گئیں ۔
یہ جاننے کا ماحول بنا کہ حجاب صرف پردہ کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک خاتون کی شخصیت میں حیا پیدا کرتا ہے تاکہ جذبات کی لطافت باقی رہے اور وہ اسے اپنے شریک حیات کے علاوہ کسی اور کے ساتھ برتنے کے لیے کبھی تیار نہ ہو۔ اس طرح اس نے اپنی عفت وآبرو اور نسوانی شناخت کو محفوظ کرلیا۔
مسلم خواتین میں بھی تین گروہ پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو رروایت پربغیر جانے بوجھے عمل کرتی ہیں، جن کے پاس نہ دلائل ہوتے ہیں نہ کوئی وجہ، بس فالو کررہی ہیں۔دوسری وہ جو شعور رکھتی ہیں اور بہ بانگ دہل بولتی بھی ہیں۔ تیسرا گروہ وہ جو اعتراضات کو درست سمجھ کر خود روایت شکن اور روایت ساز کے گروہ میں پاتا ہے،مسلم کمیونٹی کو لعنت ملامت کرنے لگتا ہے،اصلاح کی کوشش کے بجائے دیگر تہذیبوں کی چال ڈھال کو اپنا کر خود کو قابل اور ماڈرن ظاہر کرنے لگتا ہے۔دوسرے نمبر کا گروہ اگرچہ کی تعداد میں کم ہے لیکن اعتراضات کے وقت وہ کھل کر سامنے آتا ہے اور ملک کے دانشوروں کو چونکا دیتا ہے جو ہر قسم کی ترقی کے ساتھ احکامات خدا وندی کی حقانیت کو سمجھتا ہے اور دوسروں کو اس پر غورو فکر کی دعوت بھی دیتا ہے۔ ان اعتراضات کا دوسرا بڑا فائدہ ان غیر مسلم بہنوں کو ہوگا۔ جو فالور ہونے کی بجائے تعلیم یافتہ ہیں، سماجی جہد کار بھی ہیں، خواتین کے ایشوز پر متوجہ ہیں، خواتین کے عدم تحفظ کا اوراستحصال کا گہرائی سے مطالعہ کرتی ہیں،جو خواتین کے جاب پلسیز کی مجبوریوں کو جانتی ہیں، جو کالج کیمپس میں موجود ٹین ایج نوجوان نسلوں پر جنسی جذبات کے غلبے کا احساس رکھتی ہیںاور جنہیں Adolesen period کے stressful ہونے کا اندازہ ہے۔ وہاں وہ جانتی ہیں ایسی جگہ پر لڑکیوں کا حجاب اور فل لباس میں رہنا کتنی بڑی نعمت ہے۔ لڑکوں کے کریئر کے لیے بھی وہ اس سسٹم کی دل سے قائل ہیں۔
بھارت کی وہ خواتین جو اپنے بچوں کے مستقبل کا شعور رکھتی ہیں ان کے نزدیک اپنی بیٹیوں کے تحفظ کی فکر اور وہ اس سے محفوظ رکھنا چاہتی ہیں، انہیں وہ بڑی حد تک ےہندوستان میں منافرت کے ماحول کے پھیلنے اور جنسیات پر گفتگو کو نسلوں کے زبان سے سننے پر پریشان ہوتی ہیں اسے نہیں کرتی ہیں۔
حال ہی میں سلی ڈیل، بلی بائی سائبر کرائم پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر اپیکشہ نے،جو پیشے سے سونالوجسٹ ہیں کہا کہ
’’ہمارے ملک میں مسلم کمیونٹی کے لیے نفرت کا ماحول ہماری نسل کو اتنا تباہ کررہا ہے کہ وہ بنیادی اور آفاقی اقدار بھی کھو رہے ہیں۔ عورت کی عزت اور احترام بنیادی قدر میں سے ہے۔بغیر اقدار کے معاشرہ تباہ ہوگا اور یہ تباہی سیاست کے لیے تو بہتر ہوسکتی ہے مگر ہماری نسلوں کے لیے بالکل نہیں ۔‘‘
چیلنجیز
ایک کمیو نٹی کا مستقل دفاعی محاذ پر موجود رہنا مختلف قسم کے نفسیاتی بوجھل پن کا شکار بھی بنا سکتا ہے۔حجاب پہننے والی خاتون تعلیم حاصل کرنے جیسے حق سے محروم بھی ہوسکتی ہے۔ جمہوری ملک میں ہر فرد کا تعلیم یافتہ ہونا اپنے حقوق کا شعور رکھنا، حقِ رائے دہی کو دیانت داری سے نبھانا نہایت ضروری ہے۔جن علاقوں میں ڈومینیشن ہوگا وہاں لڑکیاں اپنے حق کے لیے لڑیں گی لیکن جن ریاستوں میں ایسے اعتراضات اور حجاب کے خلاف سخت رویہ، جیسا کہ کرناٹک میں نظر آیا ہو،تو وہاں لڑکیاں تعلیم کے حق سے محروم ہوسکتی ہیں۔اور کسی لڑکی کا تعلیم کے حق سے محروم رہنا جمہوری اقدار کی تباہی ہی نہیں بلکہ انسان کا اس بنیادی حقوق سے محروم کرنا ہے۔ اور یہ چیز کسی متمدن سماج کی پہچان نہیں ہوسکتی اور یہ ملک کی سب سے بڑی تباہی ہے۔حجاب سے نفرت جو نوجوان لڑکوں میں نظر آئی ہے وہ نفرت کے علاوہ اس بات کی بھی غماز ہے کہ صنف نازک کے مقابلے اوباش لڑکوں کو اتارا گیا ہے یہ عورتوں کے خلاف مجرمانہ سوچ کو تشکیل دینے والا عمل ہے۔
بلاشبہ ایسے مسائل مسلم طالبات کے لیے چیلنج ہیں تاہم یہ حالات مسلم طالبات کے حقیقی کردار کی بازیافت کے لیے معاون بھی ثابت ہوسکتے ہیں ۔
ساز گار ماحول اور چپقلش کے ماحول میں فرق ہے۔ انتشار کے ماحول میں اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس گہرا ہوتا جاتا ہے ، عوام کا داخلی انتشار کج رو حکمرانوں اور سرمایہ داروں کے علاوہ کسی کے لیے بہتری نہیں لاتا۔
حجاب کیلئے پیدا شدہ منافرت کے ماحول میں مسلم گھرانوں میں سماجی جہد کار خواتین کے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ حجاب اور اس کے فوائد مختلف ڈبیٹس میں زیر بحث لائیں اور ڈسکورس کا موضوع بنائیں۔ حجاب کا رول عورت کے تحفظ میں کتنا اہم ہے اس پر کھل کر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔ اب مسلم والدین کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ بچوں میں بچپن ہی سے اسلامی تعلیم کو بطورِ روایت فالو کرنے کے بجائے دلیل کے ساتھ قبول کرنے کا عادی بنائیں۔ بچپن سے بچوں کا بستر الگ کرنا پاکی کا تصور، فاصلہ بنانے کا انداز، سات سال کی عمر سے نماز کا ماحول، بری نظر سے بچنے کی تلقین اور قرآن سے مضبوط تعلق اور اسلام اور اس کے شعائر پر اعتراضات پر اسکول جانے والی طالبات کے سامنے کھل کر گفتگو کرنے کا ماحول گھروں میں بنائیں۔ بچے سوشل میڈیا پر معترضین کے کمنٹس پڑھتے ہیں اس وقت سے بچوں کے ذہن میں خلجان پیدا ہوتا ہے۔ والدین ان سے خود گفتگو کریں اور ان کے ذہن میں موجود اضطراب کو جاننے کی کوشش کریں یا دینی مزاج کی طلباء تنظیموں سے جوڑ کر بچوں کی ذہنی الجھن کو دور کروانے کی کوشش کریں۔موجودہ الحادی فکر سو کالڈ فیمنزم کے نام پر مادر پدر آزاد معاشرے نے یا سوشل میڈیا کے ماحول نے طلباء و طالبات کو حجاب کی بے شمار نقصانات ازبر کروائے ہیں، جہاں تک ممکن ہو ان کو عقلی دلائل سے قائل کیا جائے۔کوشش یہ ہوکہ شفاف ذہن و دانشور خواتین سے ڈبیٹ رکھوائی جائے تاکہ وہ حیا کے مقابلے بے باکی کے ازدواجی زندگی پر پڑنے والے نقصانات سے آگاہ کرسکیں۔
حجاب پر ہونے والی ایک ٹیبل ٹاک میں مہیلا منڈل آئیو میں فیملی کاونسلنگ کرنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ فیملی تنازعات کی عمومی وجہ اپنی بیوی کا دوسری خاتون سے تقابل ہے۔ جب کھلی عورتیں مخلوط ماحول میں مردوں کی نگاہ کو میسر آئیں تو وہ بیوی کے مقابل دوسری خاتون کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔دورانِ گفتگو اسی بات کو بنیاد بناکر ہم نے پوچھا کہ اس تناظر میں آپ برقعہ پہننے اور نظریں جھکانے کے حکم کو کیسے دیکھتی ہیں؟ تو مسکرا کر جواب دیا:’’ یہ دونوں چیزیں کمپلیٹ ایگزیکیوٹ ہوں تو صد فیصد فیملی رلیشن درست ہوجائیں گے۔‘‘یہ اس خاتون کے طویل تجربے کا نچوڑ تھا۔حجاب ہماری لڑکیوں کو ہر شعبے میں داخلے کے لیے بڑا چلینج بن سکتا ہے اس شعبے سے اس چلینج کی وجہ سے فرار اختیار کرنے کے بجائے اپنے جائز حق پر لڑنا چاہیے اور اس میں بلا تفریق مذہب و ملت پورے سماج سے مدد لینی چاہیے۔ یوں تواسلام کے خلاف اعتراضات کا مجموعی ایجنڈا یہ ہے کہ مسلم امت کی وحدت کو انتشار کا شکار بنادیں،مگر ہماری نسلیں جان لیں کہ حجاب ایک ایسا ایشو ہے کہ جہاں شر پسند مسلمان خواتین کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں ہم اسے صنف نازک کے لیے عالمی تحفظ کی علامت بنانے کا نعرہ بلند کریں۔





