اسلام ایک پرامن اور پاکیزہ معاشرے کے قیام کا داعی ہے۔ معاشرتی نظام سے ہر طرح کی بدامنی اور غلاظت کو دور کرکے پُرامن اور پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے جو احکامات اور اصول و ضوابط اسلام فراہم کرتا ہے ان پر اگر انسانی معاشرے عمل پیرا ہوں تو وہ امن و سلامتی کا حقیقی گہوارہ بن سکتے ہیں۔ اور اگر اس سے روگردانی کی جائے تو بدترین قسم کی بدامنی اور بےسکونی معاشروں پر مسلط ہوجاتی ہے۔
امن و سلامتی کی اصطلاحیں عام طور پر حالتِ جنگ کے خاتمے کے بعد میسر آنے والی صورتحال کے لیے استعمال کی جاتی ہیں لیکن جنگی حالات نہ ہونے کے باوجود بھی معاشرے بدامنی اور بے سکونی کی کیفیت سے گزرتے ہیں۔ بلکہ یہ کیفیت جنگی افراتفری کے مقابلے میں زیادہ نقصان دہ اور خطرناک ہوتی ہے۔ کیونکہ جنگ دشمن سے لڑی جاتی ہے اور دشمن کی شناخت آسان ہے۔ جنگ ختم ہوجاتی ہے اور معاشرہ امن پالیتا ہے۔ اس کے برخلاف اس معاشرے کا تصور کیجیے جس میں ہر طرف دشمن بکھرے ہوئے ہوں اور ان کی شناخت بھی ممکن نہ ہوتو انسان کے لیے گھر سے باہر نکلنا کتنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ جی ہاں، یہ صورت حال آج کے معاشروں میں خواتین کو لے کر ہے۔ جہاں ہم اپنی نصف آبادی، جو ہمارے اپنے گھر کے افراد پر مشتمل ہے، کے بارے میں اسی قسم کے خطرات کا شکار ہیں۔ ہم اپنے گھر کی لڑکیوں اور خواتین کے سلسلے میں عدم تحفظ کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔
آج کے معاشروں کی یہی صورتحال ہے۔ یہاں جنگ کے حالات نہیں ہیں لیکن پھر بھی ہم اپنی خواتین کے سلسلے میں عدمِ تحفظ کے احساس میں جی رہے ہیں۔ ایسی بدامنی اور انتشار کے بے شمار مظاہر ہوتے ہیں ، ذیل میں ہم چند ایک پر گفتگو کریں گے۔
بے حیائی و فحاشی
جن معاشروں میں بے حیائی عام ہوجاتی ہے وہ بدامنی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ حیا جن معاشروں سے ختم ہوجاتی ہے وہ پھر آزاد ہوجاتے ہیں کہ پھر وہاں کے افراد جو چاہیں کرتے پھرتے ہیں۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’جس انسان میں حیا نہیں ہوتی وہ پھر جو چاہے کرے۔‘‘
جب افراد اور معاشرے تمام قسم کے حدود و قیود سے آزاد ہوکر زندگی گزارتے ہیں تو پھر شرم و حیا کی ردائیں تار تار ہوجاتی ہیں اور ان کے افراد غیر مامون زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ زوال ایسے معاشروں کا مقدر ہوجاتا ہے۔ پچھلی تہذیبوں کے زوال کی داستانیں پڑھی جائیں تو واضح طور پر اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ ان کے زوال کی بڑی وجوہات میں سے فحاشی و بے حیائی ایک بڑی وجہ رہی ہے۔
جنسی انارکی
فحاشی اور بے حیائی کے فروغ پانے کے سبب معاشرے میں جنسی انارکی جنم لیتی ہے اور جو معاشرے جنسی بے راہ روی یا انارکی کا شکار ہوتے ہیں، ان کا امن و سکون غارت ہوجاتا ہے۔ زنا کاری، عصمت ریزی، غیر فطری جنسی تعلقات اور رویے جنسی انارکی کی معلوم شکلیں ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں: ’’جس قوم میںزنا اور سود عام ہوجائے۔اس کی تباہی بالکل یقینی ہے۔‘‘ اسی طرح ایک حدیث میں جس کے راوی حضرت عبداللہ بن عمر ہیں بدکاری اور زنا کے معاشرتی نقصانات کو بتایا گیا ہے کہ ’’جب کسی قوم میں بے حیائی، بدکاری اور زنا کاری عام ہوجائے تو اس میں ایسی لاعلاج اور جان لیوا بیماریاں عام ہوجاتی ہیں جو پہلے زمانے میںناپید تھیں۔‘‘ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں ایڈز جیسے لاعلاج مرض نے انسانوں کو اپنی گرفت میں لینا شروع کردیا ہے۔ اس وقت پوری انسانی دنیا میں جنسی انارکی پھیلی ہوئی ہے۔ ملک عزیز ہندوستان میں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق سال 2020 میں 28046 کیس زنا بالجبر کے درج کیے گئے۔ یہ تعداد یومیہ 77 جرائم اور فی گھنٹہ 3-4 جرائم کی بنتی ہے۔ اس سے سماج کی کیفیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
تکریمِ نسواں کا فقدان
کسی سماج میں فحاشی و بے حیائی کا ارتقاء طبقہ نسواں کی تکریم کے خاتمے اور اس کے لیے عدم تحفظ کے حالات پر منتج ہوتا ہے۔ اور اگر سماج و معاشرے سے نصف انسانیت کی تکریم ختم ہوجائے تو سماج کا توازن بگڑ جاتا ہے اور بدامنی کے حالات پیدا کرتا ہے۔ ایسے سماج میں عورتوں کو صرف جنسی تسکین کا ذریعہ تصور کیا جانے لگتا ہے اور ان کے خلاف جرائم کا سیلاب آجاتا ہے جو پورے سماج کو بدامنی سے دوچار کرتا ہے۔ ان معاشروں میں انسانیت کی لاشوں سے تعفن اٹھنے لگتا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج کے سماجوں میں عورتوں کی جنسی ہراسانی ایک معمول بن گیا ہے۔ پوری دنیا میں خواتین کے خلاف جرائم کا سیلاب ہے جس کی گواہی دنیا بھر کے اعداد و شمار دے رہے ہیں۔ ہندوستان میں این سی آر بی کے مطابق صرف سال 2019 میں خواتین سے چھیڑ چھاڑ کے کل 405886 واقعات درج کیے گئے۔ ایک سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 98 فیصد خواتین کو راستہ چلتے ہوئے چھیڑ خوانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چھیڑ خوانی کے طریقوں میں عورتوں کو دیکھ کر فحش تبصرے کرنا، گیت گنگنانا، گھورنا، راستہ روکنا، فحش اشارے کرنا شامل ہیں۔ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے ملک میں خاص طور پر اور دنیا بھر میں عام طور پر عورت کے عزت و وقار اور اس کے تحفظ کی صورت حال کیا ہے۔ جس سماج میں آدھی آبادی کو اپنے عزت و وقار اور عصمت کا خطرہ لاحق ہو وہ پرامن سماج کیسے ہوسکتا ہے۔
اسلام کا فلسفہ حجاب اور سماجی امن و سلامتی
اسلام جو پاکباز معاشرہ تشکیل دینا چاہتا ہےاس کی بنیادی روح شرم و حیا ہے۔ حیا صالح فطرت کی وہ اندرونی کیفیت ہے جو انسان کو عصمت وپارسائی، شائستگی اور شرافت اور اپنے تمام سماجی و معاشرتی رویوں اور افعال و اقدار میں ایک دوسرے کا احترام واکرام سکھاتی ہے۔ اس کا تعلق بندوں سے معاملہ کرنے میں حساس اور ذمہ دار بنانے سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر وقت اس تصور سے بھرا رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اور وہ اپنے اعمال و افعال کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنے دل میںآنے والے خیالات تک کے لیے اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔ جس سماج میں اس تصور کے ساتھ لوگوں کی زندگیاں گزرتی ہوں ، وہاں فحاشی اور بے حیائی فروغ پا ہی نہیں سکتی۔ اور جو سماج بے حیائی اور فحاشی سے دور ہو وہاں طبقۂ نسواں کو عزت و وقار حاصل ہوتا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس سماج میں عورت محفوظ ہوتی ہے اور عورت کے محفوظ اور مامون ہونے کا مطلب سماج میں امن و سلامتی کا قیام ہے۔ حجاب ایک ایسے صالح، پاکباز اور بلند کردار سماج کی تشکیل کا ضامن ہے جہاں عورت کو احترام و تقدس کی نگاہوں سے دیکھا جائے گا برخلاف ان معاشروں کے جو اسے جنسی تسکین کا ذریعہ دیکھتےہوں۔
اس طرح حجاب عورت کو حقیقی آزادی، تحفظ ، شناخت اور عزت و وقار عطا کرتا ہے، اسلام کا فلسفہ حجاب صرف خواتین کی ستر پوشی پر اصرار نہیں کرتا بلکہ مردوں کو بھی نہ صرف اپنی نگاہوں کی حفاظت کی تاکید کرتا ہے بلکہ اپنے دل و دماغ میں آنے والے برے خیالات پر بھی پہرے بٹھانے کی اخلاقیات کو پیدا کرتا اور فروغ دیتا ہے۔ سورہ نور آیت نمبر 30 میں ارشادِ ربانی ہے:
’’ایمان والوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے بہت پاکیزہ ہے۔ بے شک اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔‘‘
سورہ نور کی آیت نمبر 31 میں اسی بات کا حکم عورتوں کو بھی دیا گیا ہے۔ گویا اسلام حیا کے تقاضوں کو پورا کرنے کی ذمہ داری مرد اور عورت دونوں پر عائد کرتا ہے۔ مرد اور عورت دونوں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرکے سماج کو پاکباز بنانے میں تعاون کرتے ہیں۔ اگر معاشرے میں نگاہوں کی حفاظت ہوگی اور حیا و حجاب کی پابندی ہوگی تو وہ تمام چور دروازے بند ہوں گے جو سماج میں بدامنی اور انتشار کا باعث ہوتے ہیں۔
سورہ احزاب کی آیت نمبر 59 میں فرمایاگیا ہے:
’’اے نبیؐ! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہلِ ایمان عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر چادروں کا پلو لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں اللہ تعالیٰ غفور ورحیم ہے۔‘‘
اس آیت کی تفسیر میں صاحب تفہیم القرآن لکھتے ہیں کہ ’’پہچان لی جائیں سے مراد یہ ہے کہ ان کو اس سادہ اور حیادار لباس میں دیکھ کر ہر دیکھنے والا جان لے کہ وہ شریف اور باعصمت عورتیں ہیں، آوارہ اور کھلاڑی نہیں ہیں کہ کوئی بدکردار انسان ان سے اپنے دل کی تمنا پوری کرنے کی امید کرسکے۔’ نہ ستائی جائیں‘ سے مراد یہ ہے کہ ان کو نہ چھیڑا جائے، ان سے تعرض نہ کیا جائے۔‘‘
اس آیت میں دی گئی ہدایت پر عمل پیرا ہوکر عورتیں مردوں کی جانب سے کی جانے والی چھیڑ چھاڑ، نظر بازی اور شہوانی التفات سے محفوظ ہوجاتی ہیں۔ گویا حجاب جنسی انارکی کے فتنے کا قلع قمع کرکے ایک پاکباز اور پرامن معاشرہ تشکیل کرتا ہے۔
اللہ کے رسولؐ نے اپنی دعوت کے آزمائشی مرحلے میں ایک پاکباز اور پرامن معاشرے کا جو وژن دیا تھا وہ خواتین کے تحفظ اور تکریم کی اعلیٰ مثال تھی۔ آپؐ نے حضرت خبابؓ سے مخاطب ہوکر فرمایا تھا کہ’’اے خباب اللہ تعالیٰ ضرور اس دعوت کو پورا کرے گا اور اس کارِ خیر کے نتیجے میں وہ وقت آئے گا کہ ایک عورت صنعاء سے حضرموت تک سونا اچھالتی سفر کرے گی اور اسے کوئی خوف نہ ہوگا۔‘‘ تاریخ نے اس پیشین گوئی کو پورا ہوتا بھی دیکھا ہے۔
اگر حجاب پر عمل پیرا سماج بنانے کی کوشش کی جائے تو یہ تمام فیوض وبرکات آج بھی سمیٹے جاسکتے ہیں۔ خواتین کے خلاف ہونے والے مظالم اور زیادتیوں کو روکا جاسکتا ہے اور سماج میں اندرونی امن و امان اور سکون قائم ہوسکتا ہے جہاں مردوں کو اپنی خواتین کے سلسلے میں کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ خود خواتین کو اپنے سلسلے میں کوئی اندیشہ۔
حجاب کا اصول موجودہ زمانے میں، جب خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم نے پوری دنیا میں معاشرتی و سماجی امن و سکون کی بدترین حالت پیدا کردی ہے، جس کے سدِ باب کے لیے نئی نئی قانون سازیاں کی جارہی ہیں مگر اس سلسلے کو روکنے میں ناکام ہیں، حجاب کا کامیاب اور روحانی والٰہی طریقہ دنیا کے سامنے تمام اصولوں اور قوانین کا بہترین متبادل بن سکتا ہے۔ یہ ایسا متبادل ہے جو سماج اور معاشروں کو اندر سے تبدیل کر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ یہ صرف ایک لباس نہیں ایک سوچ اور فکر کا نمائندہ بھی ہے اور خالق بھی۔ اسباب و عوامل کی اس مادی دنیا میں یہ ایسی روحانی قوت ہے جو انسانوں کو ان کے خالق سے جوڑ کر سماج اور انسان دونوں کو انفرادی و اجتماعی دونوں پہلوؤں سے امن و امان اور سکون و اطمینان قلب سے ہم کنار کرتی ہے۔





