عربی زبان میں بدعت ہر نئی چیز اور ہر نئے کام کو کہتے ہیں گویا لفظ بدعت اختراع اور ایجاد کا ہم معنی ہے او رگڑھی ہوئی بات کا مفہوم دیتا ہے۔ لفظ بدعت کے اس لغوی مفہوم سے بعض لوگوں کو دھوکا ہوگیا ہے او روہ سمجھنے لگے ہیں کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں حسنہ او رسیئہ یعنی ایک اچھی او ردوسری بری۔ حالاں کہ لفظ بدعت کے لغوی مفہوم سے نہیں بلکہ شریعت او ردین میں جو بدعت اختیار کی جائے اس اصطلاحی بدعت سے بحث ہے او ریہ بدعت جو سنت کے خلاف ہوتی ہے سنت کی ضد کہنا زیادہ صحیح تعبیر ہوگی، کیا یہ بھی حسنہ او رسیئہ ہوتی ہے اس کی بھی کیا اچھی او ربری دو قسمیں ہوسکتی ہیں موٹی سمجھ والا مومن بھی آسانی سے سمجھ لے گا کہ جو کام او ربات حضرت محمدﷺ کی سنت اور آپ کے طریقے اور ہدایت کے خلاف اور اس کی ضد ہو وہ بری ہوگی، اچھی کیسے ہوسکتی ہے؟ ناجائز ہی ہوگی، جائز کیسے ہوسکتی ہے؟ باطل ہی ہوگی، حق کیسے ہوسکتی ہے؟ سیئہ ہی ہوگی حسنہ کیسے ہوسکتی ہے، گمراہی ہوگی، ہدایت کیسے ہوسکتی ہے۔
اسلامی معاشرت میں رسوم او ررواج سے کیا کیا خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اس کا ایک اہم پہلو آنکھوں سے اوجھل ہی رہ جائے گا۔ اگر بدعتوں کی خرابیاں آپ کے سامنے نہ آئیں، بدعت کسے کہتے ہیں او روہ اسلامی زندگی میں کیا رخنے ڈالتی ہے اس بات سے پہلے سنت کا تعارف اور دینی زندگی میں اس کا اہم مقام سامنے آنا ضروری ہے کیوں کہ بدعت دراصل سنت کی ضد ہی کا نام ہے۔
نبی کریمﷺ کی پیروی زندگی کے ہر پہلو میں، دنیا و دین کی ہر بات اور کام میں اس قدر ضروری ہے کہ اس کے بغیر اللہ کی عبادت او راطاعت ممکن ہی نہیں۔ قرآن کا ارشاد ہے:
’’رسول جو کچھ دیں وہ لے لو او رجس سے روکیں اس سے رک جاؤ۔‘‘
’’(اے نبی) کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو (ہر کام او ربات میں) میری پیروی کر و(اگر تم میری پیروی کروگے) تو اللہ تمہیں چاہنے لگے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔
’’یقینا تمہارے لیے اللہ کے رسول (کی تعلیم اور زندگی) میں بہترین نمونہ ہے۔
’’اور تیرے رب کی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے اختلافات میں تم کو (اے نبی) جج تسلیم نہ کریں او رتمہارے فیصلے سے اپنے دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں، او رسر تسلیم جھکا نہ دیں۔‘‘
’’پس اگر جھگڑ بیٹھو کسی چیز میں تو اسے اللہ (کی کتاب) او ررسول (کی سنت) کی طرف لوٹاؤ (یعنی ان سے فیصلہ حاصل کرو) اگر تم اللہ او رآخرت پر ایمان رکھتے ہو۔
’’جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘
’’ان لوگوں کو جو نبی کی (سنت کی) مخالفت کرتے ہیں ڈرنا چاہیے اس سے کہ انہیں کوئی فتنہ یا دردناک عذاب پہنچ جائے۔
غرض یہ رسول اللہﷺ کی پیروی اور آپؐ کی سنت کی اتباع صرف عبادات یا زندگی کے کسی ایک یا صرف چند پہلوؤں میں نہیں بلکہ پوری زندگی کے تمام انفرادی او راجتماعی کاموں کے لیے ضروری ہے۔ اللہ سے محبت اور اس پر ایمان کا تقاضا ہے کہ رسول اللہ کی کامل پیروی کیجائے۔ اصل پیشوا، ہادی، رہبر، رہنما اور لیڈر صر ف رسول اللہﷺ ہیں۔ آپ کی زندگی اور تعلیم سارے انسانوں کے لیے اور خصوصاً اہل ایمان کے لیے اسوہ اورنمونہ ہے۔ اور یہ نمونہ زندگی کے کسی ایک پہلو کے لیے نہیں ہے بلکہ عقائد او رافکار میں، اخلاق او رکردار میں، اعمال او رمعاملات میں، معاشرت او رمعیشت میں، تجارت او رصنعت میں، غرض یہ کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو میں، مذہبی اور سیاسی زندگی کے ہر میدان میں آپ کی پیروی ضروری ہے۔
زندگی کے تمام معاملات میں حلال و حرام، جائز و ناجائز، صحیح او رغلط اور حق و ناحق، معلوم کرنے کے لیے رسول اللہﷺ کی تعلیم او رہدایت کو قانون تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں، آپ کی سیرت او راسوہ مبارکہ کی عدالت سے جو فیصلہ حاصل ہو اس کے آگے سر تسلیم جھکا دینا چاہیے۔ او راس سلسلہ میں دل میں کوئی تنگی اور کسک بھی نہ پیدا ہونا چاہیے، ورنہ ایمان کی خیر نہیں، دیوانی اور فوج داری کے تمام عدالتی فیصلے نہ صرف عدالتی بلکہ ذہنی فیصلے، گھریلو او رخاندانی فیصلے برادری اور قوم کی سطح پر جو فیصلے کیے جاتے ہیں وہ بھی، او روہ فیصلے بھی جو بین الاقوامی سطح پر کیے جاتے ہیں او روہ بھی جو معاشرت، معیشت اور سیاست کے میدانوں میں کیے جاتے ہیں۔ غرض یہ کہ سارے فیصلے صرف رسول اللہﷺ کی تعلیم (قرآن و سنت) کے مطابق ہونا ضروری ہیں۔ کیوں کہ آپ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے، سنت سے منہ پھرنے والوں اور آپ کے نقش قدم پر چلنے کی مخالفت کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہیں کسی فتنے میں مبتلا نہ ہوجائیں، درد ناک عذاب میں کہیں گرفتار نہ ہوجائیں۔
خود رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’جب میں تم کو کسی چیز سے روکوں، تو رک جاؤ اور جب میں تم کو کسی کام کا حکم دوں تو اسے کر ہی ڈالو۔‘‘ (متفق علیہ)
حضرت عرباض بن ساریہؓ کہتے ہیں: رسول اللہﷺ نے ہمیں وعظ سنا یا جس سے دل پگھل گئے اور آنکھیں ڈبڈبا آئیں، تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ تو رخصتی وعظ معلوم ہوتا ہے لہٰذا ہمیں وصیت فرمائیے، جب حضورؐ نے فرمایا: میں تم کو اللہ کا تقویٰ اختیا رکرنے اور اسلامی حکمرانوں کی سننے او راطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ امیر بنا دیا جائے کیوں کہ جو زندہ رہے گا وہ بہتیرے اختلافات دیکھے گا، پس تم کو لازم ہے کہ میری اور میرے خلفائے راشدین جو ہدایت دینے والے او رہدایت پر چلنے والے ہیں کی سنت کو دانتوں سے پکڑ لو اور نئی نئی باتوں او رکاموں سے بچے رہو۔ کیوں کہ ہر بدعت گمراہی ہے (ترمذی) حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا میرا امتی جنت میں داخل ہوگا مگر وہ داخل نہیں ہوگا جس نے انکا رکیا،عرض کیا گیا یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فر مایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکا رکیا (بخاری) حضورﷺ نے فرمایا کچھ لوگ میری امت کے لائے جائیں گے تو ان کا بایاں ہاتھ پکڑ کر اُنھیں روک لیا جائے گا تو میں کہوں گا یہ تو میرے ساتھی ہیں، جواب دیا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا نئی باتیں، او رنئے کام کیے، تو میں عرض کروں گا میں تو زندگی بھر ان کی نگرانی کرتا رہا، تو مجھ سے کہا جائے گا آپ جب سے ان سے جد اہوئے تب سے یہ برابر اُلٹے پاؤں پیچھے لوٹتے رہے۔ (متفق علیہ) lll




