شادیاں اور فضول خرچی

رضیہ صابر دہلی

اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کی ضروریات کی فراہمی کو آسان بلکہ آسان تر بنادیا ہے۔ ہوا پانی اور روشنی انسان کی زندگی کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ سب چیزیں رحمن و رحیم نے ہمیں نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ عطا کردی ہیں۔
شادی بھی انسان کی ایک لازمی ضرورت ہے کیونکہ یہ نسل انسانی کے فروغ کی بنیاد ہے۔ اس لیے اس کو بھی آسان و سہل ہونا چاہیے۔ چنانچہ اسلام نے اس کو بہت آسان بنایا مگر افسوس ہم مسلمانوں نے اسے نہ صرف مشکل بلکہ مشکل تر بنادیا۔ اس طرح ہم نے اپنے آپ کو الجھنوں اور پریشانیوں کے جال میں جکڑ لیا۔ اب ہم اس جال کی رسیوں کو مضبوط اور اس کے پھندوں کو تنگ کررہے ہیں۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا (کھاؤ پیو اور فضول خرچی نہ کرو۔)
ایک جگہ کہا گیا ہے’’ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔‘‘ مگر ہم نے فضول خرچی کو اپنا شعار بنالیا۔ ویسے تو ہماری پوری زندگی میں بے اعتدالیاں ہیں لیکن شادی بیاہ میں تو اس کا اظہار کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے نکاح کے بارے میں ارشاد فرمایا: ’’مبارک نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم مشقت ہو۔‘‘ لیکن ہم نے اللہ کے رسول کی ہدایت کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے نکاح کو مشکل اور نمود ونمائش کا ذریعہ بنادیا ہے۔ اپنے اس عمل کو اگر ہم حضورؐ کی نافرمانی نہ کہیں تو پھر کیا کہیں گے؟ شادیوں میں ہم غیر ضروری انتظامات کرتے ہیں۔ بے جا اور بے انتہا بلکہ اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ دکھاوے کا رجحان عام ہے۔ غیرضروری رسمیں، لین دین، رشتہ داروں کے ناز و نخرے اور ان کی ناراضی، ان کی شکایات اور تحفہ تحائف پیش کرنے کے تکلفات وغیرہ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی رشتہ دار اپنے حالات اور مجبوریوں کے باعث تحفے نہ دے تو ناراض ہوتا اور شکایت کرتا ہے۔ پھر جہیز کے مطالبہ نے تو صورت حال انتہائی تباہ کن بنادی ہے۔ کتنے ہی والدین ایسے ہیں جو اپنی غیرت اور جہیز نہ دے پانے کے سبب اولاد کی شادی کی خواہش دل میں لیے اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح سماج میں کتنی کنواری لڑکیاں ہیں جن کی زندگی اسی غم کے آنسوؤں میں گھل رہی ہے۔ اور پورے ہندوستانی سماج کے لیے اس سے زیادہ شرم ناک بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ یہاں ہر پانچ منٹ میں ایک عورت صرف جہیز کی خاطر قتل کردی جاتی ہے۔
اسلام نے شادی کے لیے بہت آسان شرائط مقرر کی ہیں:
(۱) لڑکے اور لڑکی کی باہمی آمادگی
(۲) تقریب نکاح اور اس کا اعلان
(۳) مہر کی ادائیگی۔
ان چیزوں کو نظر انداز کرکے ہم نے طرح طرح کی الجھنیں مول لے لی ہیں۔ ذات پات کی بندشیں ہم نے خود قائم کی ہیں۔ کفو کے معنی ہم نے ذات برادری کے سمجھ لیے ہیں حالاںکہ کفو کے معنی ذہنی فکری اور معاشی ہم آہنگی ہے نہ کہ ذات برادری۔ قرآن نے تو کہا کہ ’’تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔‘‘
ذات اور برادریوں اور اسلام کے خلاف خود اپنی بنائی ہوئی رسموں کو اہم سمجھنے کی وجہ سے ملت کی کتنی لڑکیاں ہیں جو جوانی کی سرحد کو پار کرلیتی ہیں۔ شادی بیاہ طے کرتے وقت اسلام نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ فریقین ایک دوسرے کو دیکھ لیں۔ افسوس بعض حضرات اس بات کو تہذیب کے خلاف سمجھتے ہیں۔ نکاح کی تقریبات بڑے بڑے شادی گھروں میں منعقد کی جاتی ہیں، جس کے لیے لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ یہ تقریبات اگر مسجدوں میں منعقد کی جائیں تو کتنی سہولت ہو۔ اور ایسے معاشرے میں جہاں سیکڑوں یا ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لڑکیاں محض غربت کی وجہ سے کنواری رہ جاتی ہیں اور جہاں مسلمان پسماندہ طبقوں میں پسماندہ ترین ہیں کیا شادیوں میں یہ اور اس جیسے فضول اخراجات اور اسلامی طرزِ زندگی کا مذاق نہیں اڑاتے۔ اور کیا یہ ملت کے اہل دولت کے اندھی بہری اور گونگی ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔
ولیمہ کو اللہ کے رسول نے سنت قرار دیا اور فرمایا: ’’ولیمہ کرو چاہے ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ ولیمہ کے لیے ضروری نہیں کہ گوشت روٹی اور مختلف النوع لذیذ کھانے کھلائے جائیں۔ کھجور کھلادینا یا شربت پلادینا بھی کافی ہے۔
آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ جس ولیمہ میں غریب لوگوں کو مدعو نہ کیا گیا ہو اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔ ہم مسلمان ولیمہ کرتے وقت حضورؐ کی اس ہدایت کو بالکل نظر انداز کردیتے ہیں۔دورِ نبوی اور دورِ صحابہ میں شادی بیاہ کی تقریبات انتہائی سادگی سے ہوتی تھیں۔حضورؐ نے تو اپنی ایک شادی کا ولیمہ اس طرح کیا کہ صحابہ سے فرمایا کہ اپنے اپنے گھر سے کھانا لے کر آئیں اور پھر ایک جگہ بیٹھ کر کھالیا یہی ولیمہ تھا۔ سادگی کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال ہوسکتی ہے۔
موجودہ زمانے میں لڑکے والے لڑکی کے والدین سے طرح طرح کے مطالبات کرتے ہیں، ان فرمائشوں کی وجہ سے دوسرا فریق زیر بار ہوتا ہے۔ قرض کے جال میں پھنستا ہے۔ جو لوگ جہیز کا مطالبہ نہیں کرتے وہ لڑکی والوں سے کہتے ہیں کہ بارات میں جو لوگ آئیں گے ان کے ٹھہرنے کا بہترین انتظام اور عمدہ قسم کے کھانے کا نظم ہونا چاہیے۔ چنانچہ اس پر عمل بھی ہوتا ہے۔ ذرا غور کریں کتنا نامناسب مطالبہ ہے کہ اپنے مہمانوں کو دوسروں کے یہاں لے جاکر خاطر مدارات کرائی جائے۔ کیا یہ غیر اخلاقی حرکت نہیں ہے۔
خود بارات لے جانے کے تصور پر غور کریں یہ تصور اور یہ عمل شریعت محمدی میں دور دور تک نہیں پایا جاتا۔ آج اپنے معاشرے میں یہ دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنی دولت کو اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت پر خرچ کرنے کے بجائے ان کے جہیز کا سامان جمع کرنے پرخرع کرتے ہیں۔ حالاںکہ تعلیم و تربیت جہیز سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ بہت سے لوگوں کی رہائش گاہ اور ان کے گھروں میں استعمال کی ضروری چیزیں بھی نہایت خستہ حالت میں ہوتی ہیں، ان کے لباس بہتر اور صاف ستھرے نہیں ہوتے لیکن جب ان کے یہاں کی شادیوں میں شرکت کی جائے تو وہاں کی رونق، سجاوٹ اور ان کی بیٹی کا جہیز دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے۔ اگر اس صورت حال پر غور کیا جائے تو ہمارے سامنے یہ حقیقت آتی ہے کہ دراصل ہمارے سماج کا سانچا کچھ اس طرح بن گیا ہے کہ یہ لوگ ایسا کرنے کے لیے مجبور ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سماج میں چلے آرہے رواجوں اور رسموں کو اپنی زندگی میں اپنانے سے پہلے ہم اس بات پر غور کریں کہ یہ رسم کس حد تک شریعت کے مطابق اور ہمارے لیے فائدہ مند ہے۔ اگر ہماری خواتین اس معاملے میں حسّاس ہوجائیں اور ہمارے نوجوان فیصلہ کرلیں کہ وہ جہیز نہیںلیں گے تو ہمارے مسائل بہت آسانی سے حل ہوجائیں۔ ہماری ملت کی بچیوں کا مستقبل تابناک ہوگا۔
آئیے ہم اپنے ذہن کو بدلیں اور شادی بیاہ کو آسان بنائیں۔

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146