عجیب عاشق

محشر جہاں بنت طاہر علی

ایک شخص نے یوں قصہ سنایا کہ میں نے اور میرے ماموں نے حسبِ معمول شہر کی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کی اور گھر واپسی کے لیے روانہ ہوئے۔ شہر سے باہر نکل کر سڑک کے کنارے کچھ فاصلے پر ایک بے آباد سنسان مسجد آتی ہے، مکہ شریف کو آتے جاتے سپر ہائی وے سے بارہا گزرتے ہوئے اس جگہ اور اس مسجد پر ہماری نظر پڑتی رہتی ہے، اور ہم ہمیشہ ادھر سے ہی گزرکر جاتے ہیں ، مگر آج جس چیز نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی وہ تھی ایک نیلے رنگ کی فورڈ کار، جو مسجد کی خستہ حال دیوار کے ساتھ کھڑی تھی۔ چندلمحے تو میں سوچتا رہا کہ اس کار کا اس سنسان مسجد کے پاس کیا کام! مگر اگلے لمحے میں نے کچھ جاننے کا فیصلہ کیا اور اپنی کار کی رفتار کم کرتے ہوئے مسجد کی طرف جاتی کچی سائیڈ روڈ پر ڈال دی۔ میرے ماموں جو عام طور پر واپسی کا سفر غنودگی کے عالم میں کرتے ہیں، انھوں نے بھی اپنی آنکھوں کو وا کرتے ہوئے میری طرف حیرت سے دیکھا اور پوچھا: ’’کیا بات ہے؟ ادھر کیوں جارہے ہو؟‘‘
ہم نے اپنی کار کو مسجد سے دور کچھ فاصلے پر روکا اور پیدل مسجد کی طرف چلے۔ مسجد کے نزدیک جانے پر اندر سے کسی کی پُرسوز آواز میں سورۃ الرحمن تلاوت کرنے کی آواز آرہی تھی، پہلے تو یہی ارادہ کیا کہ باہر رہ کر ہی اس خوبصورت تلاوت کو سنیں، مگر پھر یہ سوچ کر کہ اس بوسیدہ مسجد میں جہاں اب پرندے بھی شاید نہ آتے ہوں، اندر جاکر دیکھنا تو چاہیے کہ کیا ہورہا ہے؟
ہم نے اندر جاکر دیکھا کہ ایک نوجوان مسجد میں جائے نماز بچھائے ہاتھ میں چھوٹا سا قرآن شریف لیے بیٹھا تلاوت میں مصروف ہے اور مسجد میں اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ بلکہ ہم نے تو احتیاطاً ادھر ادھر دیکھ کر اچھی طرح تسلی کرلی کہ واقعی کوئی اور موجود تو نہیں ہے۔
میں نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا، اس نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا۔ صاف لگ رہا تھا کہ کسی کی غیر متوقع آمد اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی، حیرت اس کے چہرے سے عیاں تھی۔
اس نے ہمیں جواباً وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا۔
میں نے اس سے پوچھا: عصر کی نماز پڑھ لی ہے کیا تم نے؟ نماز کا وقت ہوگیا ہے، اور ہم نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔ اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر میں نے اذان دینا شروع کی تو وہ نوجوان قبلہ کی طرف رخ کیے مسکرا رہا تھا۔ یہ مسکراہٹ کس بات پر یا کس لیے تھی، مجھے پتا نہیں تھا۔ عجیب معمہ ساتھا۔ پھر اچانک ہی اس نوجوان نے ایک ایسا جملہ کہا کہ مجھے اپنے اعصاب جواب دیتے نظر آئے۔
نوجوان کسی کو کہہ رہا تھا :’’مبارک ہو، آج تو باجماعت نماز ہوگی۔‘‘
میرے ماموں نے بھی مجھے تعجب بھری نظروں سے دیکھا جسے میں نے نظر انداز کرتے ہوئے اقامت کہنا شروع کردی۔ جبکہ میرا دماغ نوجوان کے اس فقرے پر اٹکا ہوا تھا کہ ’’مبارک ہو آج تو باجماعت نماز ہوگی۔‘‘
دماغ میں بار بار یہی سوال آرہا تھا کہ یہ نوجوان آخر کس سے باتیں کرتا ہے! مسجد میں ہمارے سوا کوئی بندہ و بشر نہیںہے،مسجد خالی اور ویران پڑی ہے۔ کیا یہ پاگل تو نہیں ہے؟ میں نے نماز پڑھا کر نوجوان کو دیکھا جو ابھی تک تسبیح میں مشغول تھا۔ میں نے اس سے پوچھا ’’بھائی کیا حال ہے تمہارا؟‘‘ جس کا جواب اس نے ’’بخیروللہ الحمد‘‘ کہہ کر دیا۔ میں نے اس سے پھر کہا ’’اللہ تیری مغفرت کرے، تو نے میری نماز سے توجہ کھینچ لی ہے۔‘‘ ’’وہ کیسے؟‘‘ نوجوان نے حیرت سے پوچھا۔
میں نے جواب دیا کہ ’’جب میں اقامت کہہ رہا تھا ،تو نے ایک بات کہی مبارک ہو، آج تو باجماعت نماز ہوگی۔‘‘
نوجوان نے ہنستے ہوئے جواب دیا: ’’اس میں ایسی حیرت والی کون سی بات ہے؟‘‘
میں نے کہا: ’’ٹھیک ہے کہ اس میں حیرت والی کوئی بات نہیں ہے، مگر تم بات کس سے کررہے تھے آخر؟‘‘
نوجوان میری بات سن کر مسکراتو ضرور دیا مگر جواب دینے کے بجائے اس نے اپنی نظریں جھکا کر زمین میں گاڑلیں، گویا سوچ رہا ہو کہ میری بات کا جواب دے یا نہ دے۔
میں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ تم پاگل ہو، تمہاری شکل بہت مطمئن اور پرسکون ہے اور ماشاء اللہ تم نے ہمارے ساتھ نماز بھی ادا کی ہے۔‘‘
اس بار اس نے نظریں اٹھا کر مجھے دیکھا اور کہا: ’’میں مسجد سے بات کررہا تھا۔‘‘
اس کی بات میرے ذہن پر بم کی طرح لگی۔ اب تو میں سنجیدگی سے سوچنے لگاکہ یہ شخص ضرور پاگل ہے۔ میں نے ایک بار پھر اس سے پوچھا: ’’کیا کہا ہے تم نے؟ تم اس مسجدسے گفتگو کررہے تھے؟ تو پھر کیا اس مسجد نے تمہیں کوئی جواب دیا ہے؟‘‘
اس نے پھر مسکراتے ہوئے جواب دیا: ’’مجھے ڈر ہے تم کہیں مجھے پاگل نہ سمجھنا شروع کردو۔‘‘
میں نے کہا: ’’مجھے تو ایسا ہی لگ رہا ہے، یہ فقط پتھر ہیں، اور پتھر نہیں بولا کرتے۔‘‘
’’اگرتم جانتے ہو کہ یہ صرف پتھر ہیں جو نہ سنتے ہیں اور نہ بولتے ہیں تو باتیں کس سے کیں؟‘‘
نوجوان نے نظریں پھر زمین کی طرف کرلیں، جیسے سوچ رہا ہو کہ جواب دے یا نہ دے۔
اور اب کی بار اس نے نظریں اٹھائے بغیر ہی کہا: ’’میں مسجدوں سے عشق کرنے والا انسان ہوں، جب بھی کوئی پرانی، ٹوٹی پھوٹی یا ویران مسجد دیکھتا ہوں تو اس کے بارے میں سوچتا ہوں، مجھے ان ایام کا خیال آتا ہے جب لوگ اس مسجد میں نمازیں پڑھا کرتے ہوں گے۔
پھر میںاپنے آپ سے ہی سوال کرتا ہوں کہ اب یہ مسجد کتنا شوق رکھتی ہوگی کہ کوئی تو ہو جو اس میں آکر نماز پڑھے، کوئی تو ہو جو اس میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرے۔ میں مسجد کی اس تنہائی کے درد کو محسوس کرتا ہوں کوئی تو ہو جو ادھر آکر تسبیح و تہلیل کرے، کوئی تو ہو جو آکر چند آیات پڑھ کر ہی اس کی دیواروں کو ہلادے۔
میں تصور کرتا ہوں کہ یہ مسجد کس قدر اپنے آپ کو باقی مساجد میں تنہا پاتی ہوگی۔ کس قدر تمنا رکھتی ہوگی کہ کوئی آکر چند رکعتیں اور چند سجدے ہی ادا کرجائے اس میں۔ کوئی بھولا بھٹکا مسافر، یا راہ چلتا انسان آکر ایک اذان ہی بلند کردے۔ پھر میں خود ہی ایسی مسجد کو جواب دیا کرتا ہوں کہ اللہ کی قسم! میں ہوں جو تیرا شوق پورا کروں گا۔ اللہ کی قسم میں ہوں جو تیرے آباد دنوں جیسے ماحول کو زندہ کروں گا۔ پھر میں ایسی مسجد میں داخل ہوکر دو رکعت پڑھتا ہوں اور قرآن شریف کے ایک سیپارے کی تلاوت کرتا ہوں۔
میرے بھائی! تجھے میری باتیں عجیب لگیں گی، مگر اللہ کی قسم میں مسجدوں سے پیار کرتا ہوں، میں مسجدوں کا عاشق ہوں۔‘‘
میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں، اس بار میں نے اپنی نظریں زمین میں ٹکا دیں کہ کہیں نوجوان مجھے روتا ہوا نہ دیکھ لے۔
اس کی باتیں… اس کا احساس … اس کا عجیب کام… اور اس کا عجیب اسلوب… کیا عجیب شخص ہے، جس کا دل مسجدوں میں اٹکا رہتا ہے۔
میرے پاس کہنے کے لیے اب کچھ بھی تو نہیں تھا۔
صرف اتنا کہتے ہوئے کہ ’’اللہ تجھے جزائے خیر دے۔‘‘ میں نے اسے سلام کیا اور ’’مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا‘‘ کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
مگر ایک حیرت ابھی بھی باقی تھی۔
نوجوان نے پیچھے سے مجھے آواز دی تو میں دروازے سے باہر جاتے جاتے رک گیا۔
نوجوان کی نگاہیں ابھی بھی جھکی ہوئی تھیں اور وہ مجھ سے کہہ رہا تھا کہ ’’جانتے ہو جب میں ایسی ویران مساجد میں نماز پڑھ لیتا ہوں تو کیا دعا مانگا کرتا ہوں؟‘‘
میں نے صرف اسے دیکھا تاکہ بات مکمل کرے۔
اس نے اپنی بات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا:’’میں دعا مانگا کرتا ہوں کہ اے میرے پروردگار! اے میرے رب! اگر تو سمجھتا ہے کہ میں نے تیرے ذکر، تیرے قرآن کی تلاوت کی اور تیری بندگی سے اس مسجد کی وحشت و ویرانی کو دور کیا ہے تو اس کے بدلے میں تو میرے باپ کی قبر کی وحشت اور ویرانی کو دور فرمادے، کیونکہ تو ہی رحم و کرم کرنے والا ہے۔‘‘
مجھے اپنے جسم میں ایک سنسناہٹ سی محسوس ہوئی، اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور پھوٹ پھوٹ کر رودیا۔
پیارے دوست، پیاری بہن! کیا عجیب تھا یہ نوجوان او رکیسی عجیب محبت تھی، اسے والدین سے، کس طرح کی تربیت پائی تھی اس نے؟ اور ہم کس طرح کی تربیت دے رہے ہیں اپنی اولاد کو؟ ہم کتنے نافرض شناس ہیں اپنے والدین کے ، چاہے وہ زندہ ہوں یا فوت شدہ۔ بس اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک اعمال کی توفیق دے اور ہمارا نیکی پر خاتمہ کرے۔
——

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146