نہ پیروں کو، نہ وہ سر کاٹتا ہے
وہ بلبل کے فقط پر کاٹتا ہے
دھواں، آہیں، لہو، فریاد و نالہ
مرے شہروں کا منظر کاٹتا ہے
بجا یہ آہ و گریہ یہ مناجات
مگر خنجر کو خنجر کاٹتا ہے
رہو بیدار حزب اللہ والو
کہ ’’بش‘‘ غصے میں چکر کاٹتا ہے
اسامہ ہو کہ بش، صدام ، ہر ایک
سہیلؔ اپنا مقدر کاٹتا ہے





