غزل

پوری

مطلوب ہمیں دولت دنیا بھی بہت ہے

جنت کی مگر دل میں تمنا بھی بہت ہے

سر اپنا در غیر پہ جھکتا بھی بہت ہے

توحید پہ ایمان کا دعویٰ بھی بہت ہے

جو شدت خورشید سے گھبرا گئے ان کو

بارش نہ سہی ابر کا سایہ بھی بہت ہے

اجداد کی بخشی ہوئی دولت کو اڑا کر

یاروں نے مرا جشن منایا بھی بہت ہے

پہچان بھی انسان کی دشوار ہے لوگو

ہر چہرہ یہاں یوں تو دمکتا بھی بہت ہے

جو طالب گل ہیں انہیں گل بخش دے مالک

مجھ کو تِرا بخشا ہوا کانٹا بھی بہت ہے

کیوں آپ مری صحرا نوردی پہ ہیں خنداں

کھویا ہے اگر ہم نے تو پایا بھی بہت ہے

یہ صبح مسرت ہے عجب صبح مسرت

سورج بھی منور ہے اندھیرا بھی بہت ہے

کیا غم ہے اگر سارا زمانہ ہے مخالف

ہم کو تو قمرؔ اس پہ بھروسا بھی بہت ہے

قمرؔ رسول

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146