غزل

عروج زیدی، رامپور، یوپی

جب نئی صبح مسکرائی ہے

تارے تارے کی موت آئی ہے

جس جگہ پر جلیں فرشتوں کے

عیدِ جلوہ وہاں منائی ہے

یہ کہاں آگیا ہوں اب کہ مجھے

آرزوئے شکستہ پائی ہے

اُن کو منزل سلام کیوں بھیجے

جن کو رستے میں نیند آئی ہے

آدمی ایک مشتِ خاک سہی

فرش سے عرش تک رسائی ہے

مرنے والوں نے تیرے کوچہ میں

زندگی کی ہنسی اڑائی ہے

میری منزل کا اک نشاں کہیے

مہر و مہ کی جہاں رسائی ہے

بارگاہِ جمال میں چپ ہوں

یہ رسائی بھی نارسائی ہے

جن کو نامِ غزل سے ضد تھی عروجؔ

اُن کو شوقِ غزل سرائی ہے

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ اگست ستمبر 2026

Hijab Islami Aug-Sept 2026شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ فروری 2026

Hijab Islami Feb 2026شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146