غصہ ایک ایسی چیز ہے جو انسان کی شخصیت پر بہت برے طریقے سے اثر انداز ہوتا ہے۔ بعض اوقات ہر وقت غصہ دکھانے سے آپ کے قریبی لوگ بھی آپ سے دور ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضور اکرمﷺ نے غصہ کو ناپسند فرمایا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں جو میدان میں دوسرے پہلوان کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان وہ شخص ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔
ماہرین صحت اکثرو بیشتر غصے کو انسان کے لیے خطرناک قرار دیتے ہیں، لیکن ایک حالیہ تحقیق کے مطابق غصہ لڑکوں کی بجائے لڑکیوں کے لیے زیادہ نقصان دہ اور خطرناک ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے لڑکیوں کی صحت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ غصے کی وجہ سے عام انسان پریشانی اورڈپریشن کا شکار ہوتا ہے اور اس کا بلڈ پریشر معمول سے بڑھ جاتا ہے۔ لیکن ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین کے لیے غصہ زیادہ خطرناک تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے۔ غصے کی صورت میں خواتین کے دماغ میں کچھ ایسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو بعد میں یادداشت کی کمزوری کا باعث بنتی ہیں۔ ان تبدیلیوں سے بعض اوقات تھائیرائیڈ گلینڈز کی کارکردگی میں بھی فرق پڑتا جاتا ہے جو خواتین کی معمول کی زندگی کے لیے بڑی خطرناک چیز ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق ابھی اس پر تحقیق ہورہی ہے۔ حتمی طور پر اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ غصے کی وجہ سے بلڈ پریشر میں جو اضافہ ہوتا ہے وہی بعد میں ان تبدیلیوں کا باعث بنتا ہو۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ زیادہ غصیلے اور زیادہ جوشیلے دونوں طرح کے انسان اپنی صحت کے لیے مسائل پیدا کرلیتے ہیں اور خاص طور پر غصہ دبانے کی صورت میں دل کے مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
غصہ بعض اوقات ایک فطری عمل ہوتا ہے جو انسانی طبیعت کا خاصہ ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ غصہ کی حالت میںانسان قابو سے باہر ہوجائے اور اول فول بکنے لگے یا گالم گلوچ اور دل شکنی کے کلمات پر اتر آئے۔ بعض اوقات غصہ کا اظہار بھی ضروری ہوجاتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری نہیں کہ آپ کچن میں کھڑی ہوکر تمام برتن توڑ ڈالیں یا چھوٹے اور معصوم بچوں کی دھنائی کرکے غصہ اتاریں۔ ایسی ہی صورت میں حضورﷺ نے غصہ پر قابو رکھنے کی تلقین کی ہے۔
غصہ ایک نفسیاتی اور جسمانی بیماری کا بھی مظہر ہوسکتا ہے۔ کاموں کا بوجھ، نفسیاتی تناؤ یا مسلسل صحت کی خرابی بھی بعض اوقات غصیلا مزاج پیدا کردیتے ہیں۔ لہٰذا ایسی صورت میں جب آپ محسوس کریں کہ آپ کے مزاج میں چڑچڑاپن یا جلد غصہ کی کیفیت پیدا ہورہی ہے تو صحت کی طرف مناسب توجہ دیں اور جسمانی و نفسیاتی صحت کوفٹ بنانے پر توجہ دیں۔ ایسی صورت میں مناسب علاج و معالجہ کے علاوہ اس کے اسباب کا پتہ لگا کر انھیں دور کرنے کی کوشش کریں اور ساتھ ہی مناسب اور ہلکی پھلکی جسمانی ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔ اس طرح آپ جسمانی طور پر زیادہ چاق و چوبند اور تناؤ سے دور ہوجائیں گی۔
غصہ کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان سے محبت کرنے والے اور بہی خواہ غصیلے مزاج کے سبب دھیرے دھیرے دور ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور بعد میں انسان اکیلا رہ جاتا ہے جو مزید پریشانیوں اور ذہنی تناؤ کا سبب بنتا ہے۔ مذکورہ بالا چیزوں کو اپنا کر آپ لوگوں کی محبت کو باقی رکھ سکتی ہیں اور ایک خوش و خرم معاشرتی زندگی گزارسکتی ہیں۔