قصہ بھکاریوں کا

حسین الدین قریشی

دوپہر کی سخت گرمی کی وجہ سے سڑکیں اور گلیاں سنسان پڑی تھیں۔ کھانا کھانے کے بعد آرام کی غرض سے لیٹا ہی تھا کہ کسی نے زور دار گھنٹی بجائی۔ دروازہ کھولا تو دیکھا ایک چودہ پندرہ سالہ لڑکا اسکول یونیفارم پہنے ہاتھ میں تھیلا پکڑے کھڑا ہے۔
’’معاف کرنا انکل! میں نے آپ کو ڈسٹرب کیا۔‘‘ معذرت کے بعد اس نے اپنا مدعا بیان کرنا شروع کیا اور ساتھ ہی تھیلے میں سے ازار بند نکال کر لجاجت کے ساتھ کہنے لگا : ’’انکل! آپ یہ ازار بند خرید لیجیے۔ آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ میں آٹھویں جماعت کا طالب علم ہوں۔ کاپیاں، کتابیں خریدنے کے لیے پیسے نہیں۔‘‘
’’کیا تمہارا باپ نہیں ہے؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’انکل! میرے ابّا بیمار ہیں۔ ماں اور بڑی بہنیں سلائی کا کام کرتی تھیں۔ گزارہ ہورہا تھا، مگر پھر ابا کی دوائیں خریدنے کے لیے مشین بیچنی پڑی۔ ہم بھکاری نہیں۔ مجبوری سب کچھ کرادیتی ہے۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ لڑکا زار و قطار رونے لگا اور دردناک آواز میں کہنے لگا: ’’کل سے سب بھوکے ہیں۔ گھر میں راشن کے بھی پیسے نہیں۔‘‘
’’کیا کرتا تھا تمہارا باپ؟‘‘
’’میرے والد سبزی کی ریڑھی لگاتے تھے۔ انکل! لے لیں ایک درجن ازار بند۔ آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔‘‘ میں نے اسے پانچ روپے کا نوٹ دیتے ہوئے کہا: ’’مجھے ازار بند کی ضرورت نہیں۔ یہ لو اور جاؤ۔‘‘ لڑکے نے ماتھے پر تیوری ڈالی اور ٹول لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا: ’’انکل! میں آپ سے بھیک نہیں مانگتا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چل دیا۔ پھر میں نے اس سے کچھ ازار بند خرید لیے اور اسے مشورہ دیا: ’’تم اپنے باپ کا کام سنبھال لو۔ اس طرح تم لوگوں کا کب تک گزارہ ہوگا!‘‘
’’انکل! اس کے لیے رقم چاہیے۔ ہمارے پاس راشن کے لیے بھی پیسے نہیں۔‘‘ ذرا بدلی ہوئی آواز میں اس نے جواب دیا۔
’’کتنی رقم چاہیے؟‘‘ میں نے پوچھا
’’پانچ سو روپے انکل! اگر آپ دے دیں تو میں کل سے ریڑھی لگالوں گا۔ در در کی ٹھوکریں کھانے سے بچ جاؤں گا۔‘‘
میں نے اس کا پتہ نوٹ کرلیا اور کہا: ’’پھر کبھی ادھر سے گزر ہوتو مل لینا، شاید انتظام ہوجائے۔‘‘
٭٭٭
کچھ دن بعد وہ لڑکا جس نے اپنا نام منصور اقبال بتایا تھا دوبارہ آیا، مدد کا وعدہ یاد دلایا اور متوقع نگاہوں سے دیکھ کر گردن لٹکالی جیسے شرم کے مارے نگاہیں اوپر نہ اٹھ رہی ہوں۔ مجھے اس پر رحم بھی آیا اور غصہ بھی۔ ’’میں نے تم سے وعدہ نہیں کیا تھا۔ اگر انتظام ہوگیا تو تمہیں رقم پہنچادی جائے گی۔ تمہارا پتہ میرے پاس ہے۔‘‘ یہ سن کر لڑکا کچھ نہ بولا اور سلام کرکے چلا گیا، تاہم اس کی معصوم شکل، ملتجی نگاہوں اور اس کی خستہ حالت نے مجھے جلد ہی اس فیصلے پر پہنچا دیا کہ اس کا گھر تلاش کرکے کچھ رقم اس کے بیمار باپ کے حوالے کی جائے، چنانچہ میں دوسرے دن تلاش کرتے کرتے اس بستی میں پہنچا جہاں کا اس لڑکے نے بڑے اعتماد کے ساتھ مکمل پتہ نوٹ کرایا تھا۔ خاصی دیر ادھر ادھر گھومنے کے باوجود اس کا گھر نہ ملا۔ وہاں نہ کوئی منصور کو جانتا تھا نہ اس کے باپ اقبال کو۔ ایک گلی میں کچھ لوگ چارپائیوں پر اور کچھ زمین پر بیٹھے اس طرح گپ شب میں مصروف تھے جیسے دنیا میں انہیں کوئی غم اور فکر نہ ہو۔ ان میں سے اکثر لوگوں کے داڑھی تھی۔ لیکن حیرانی کی بات یہ کہ ان کی میلی میلی داڑھیوں سے نور کے بجائے پھٹکار برس رہی تھی۔ جیسے ہی میں ان کے قریب پہنچا وہ سب ایک دم کھڑے ہوگئے اور ’’حاجی صاحب، حاجی صاحب‘‘ کی رٹ لگاتے ہوئے مجھے بیٹھنے پر مجبور کرنے لگے۔ میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے کہا: ’’بڑی مہربانی آپ کی۔ مجھے اقبال نامی آدمی کے گھر کی تلاش ہے، اس کے لڑکے کا نام منصور ہے اور…‘‘
میرا فقرہ پورا ہونے سے پہلے ہی ان میں سے ایک صحتمند باریش آدمی نے مجھے پکڑ کر چارپائی پر بٹھا دیا۔ ’’آپ تشریف رکھو جی! ارے چھوکرے ایک پیالی دودھ پتی ذراجلدی۔‘‘ اور پھر مجھ سے مخاطب ہوکر بولا: ’’آپ چائے پیو، اتنی دیر میںآدمی اقبال کو بلاکر لے آئے گا۔‘‘
میں چارپائی سے اٹھ کھڑاہوا۔ وہ لوگ خوشامد کے ساتھ دوبارہ بٹھانے کی کوشش کررہے تھے کہ اتنی دیر میں ایک تندرست جوان نے مجھے سلام کیا اور مصافحہ کرکے اس طرح بغلگیر ہوا جیسے بچھڑا ہوا عزیز بہت دنوں کے بعد اچانک ملا ہو۔ کہنے لگا: ’’آپ کو اقبال کی تلاش ہے تو میرے ساتھ آئیں۔‘‘ میں اس کے ساتھ چل دیا۔ راستے میں اس نے کہا: ’’یہ لوگ آپ کو بے وقوف بنا رہے تھے، اس لیے میں آپ کو وہاں سے اٹھا کر لے آیا۔ آپ شریف آدمی ہیں، یہ لوگ فراڈی ہیں…‘‘ باتیں کرتے کرتے وہ مجھے ایک تنگ سی گلی میں لے گیا جہاں چارپائی پر ایک سفید ریش بڑے میاں محوِ استراحت تھے۔ اس نوجوان نے مجھ سے کہا: ’’لو جی یہ ہے اقبال۔ اس لڑکے کا والد جسے آپ تلاش کررہے تھے۔‘‘ یہ فقرہ اس نے اتنی بلند آواز سے بولا کہ بڑے میاں بڑی پھرتی کے ساتھ اٹھ کر بیٹھ گئے۔‘‘
’’لیکن یہ خاصے عمر رسیدہ ہیں، منصور تو چودہ پندرہ سال کا ہوگا۔ وہ ان کا …‘‘
’’حاجی صاحب میری عمر جادہ (زیادہ) نہ ہے۔‘‘ بڑے میاں نے کراہتے ہوئے میری بات کاٹی۔
میں نے پوچھا : ’’کیا منصور آپ ہی کا بیٹا ہے؟‘‘
اس سے پہلے کہ وہ ہاں یا نہ میں جواب دیتے میرے ساتھ آنے والے جوان نے بڑے میاں کے ہاتھ لگاتے ہوئے ان سے کہا: ’’انہیں شبہ ہے کہ منصور آپ کا بیٹا نہیں۔‘‘
’’کون کہوے ہے منصور میرا لڑکا نہ ہے، بیماری نے یہ حال کردیا ہے، میری عمر ۴۵ ؍ ۵۰ سال سے جادہ (زیادہ) نہ ہے… جارے چھورے جلدی سے حاجی صاحب کے لیے دودھ پتی کی چائے لا۔ حاجی صاحب تشریف رکھو۔‘‘
اب میرا شبہ یقین میں بدل گیا کہ یہ بستی ٹھگوں سے بھری پڑی ہے۔ اقبال نام کا کوئی آدمی یہاں نہیں، لہٰذا میں نے بیٹھنے سے معذوری ظاہرکرتے ہوئے کہا: ’’ٹھیک ہے، میں سمجھ گیا۔ انشاء اللہ پھر آؤں گا۔ اب تو میں ذرا جلدی میں ہوں۔ اتنی دیر میں وہ نوجوان ایک بوسیدہ سا تھیلا اٹھا لایا، اس میں دور ہی سے پرانے گھسے پٹے ایکسرے کی کاپی نظر آرہی تھی۔ اس سے پیشتر کہ وہ نحیف و نزار بڑے میاں تھیلے میں سے ایکسرے کی کاپی اور پرانے نسخوں کی پرچیاں نکال کر اپنی بیماری و پریشانی کا رونا رو کر طالبِ امداد ہوتے، میں وہاں سے نو دو گیارہ ہوگیا۔ میرا رہبر جوان پھر میرے ساتھ ہولیا۔ کہنے لگا:’’یہ بڑے میاں کئی سال سے بیمار ہیں، ان کے دونوں گردے ختم ہوچکے ہیں۔ پھیپھڑے سڑ گئے ہیں اور …‘‘
’’علاج کیوں نہیں کراتے؟‘‘ اس سے پہلے کہ وہ جوان، بڑے میاں کی مزید بیماریوں کی فہرست شمار کراتا، میں نے سوال داغ دیا۔
’’ہرجگہ علاج کراچکے ہیں۔ کوئی حکیم، کوئی ڈاکٹر، کوئی وید نہیں چھوڑا۔ اب تو ان کے پاس کھانے کو بھی پیسے نہیں۔ ان کا دنیا میں کوئی نہیں۔‘‘ پھر ایک دم لہجہ بدل کر بولا: ’’بس ایک لڑکا ہے، جو آپ کے پاس گیا تھا۔‘‘
’’مگر وہ تو کہہ رہا تھا کہ میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی ہیں، کل سے بھوکے بیٹھے ہیں۔‘‘ میں فقرہ بول کر تیزی سے آگے بڑھ گیا۔ اس نے میرا تعاقب نہیں کیا۔ غالباً اس کو اپنے جھوٹ در جھوٹ کا احساس ہوگیا تھا۔
میں تھوڑی دور ہی چلا تھا کہ میرے قریب آکر ایک ماروتی وین رکی۔ اس میں تین بڑی دیگیں پکی ہوئی تھیں۔ ڈرائیور کی برابر والی سیٹ پر بیٹھے ایک شریف صورت آدمی نے مجھ سے کسی مکان کا پتہ پوچھا۔ میں نے معذرت کی اور ساتھ ہی ان سے بھی پوچھا کہ کیا وہ یہ دیگیں کہیں پہنچانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے اثبات میں جواب دیا، پھر خود ہی تفصیل بتانے لگے: ’’کل بنگلے پر ایک برقع پوش عورت آئی تھی۔ وہ زارو قطار رو رہی تھی، کہہ رہی تھی : ’’سیٹھ صاحب! اللہ نے آپ کو بہت کچھ دیا ہے۔ خدا کے واسطے! آپ میری مدد کرو۔ اللہ آپ کو اس کا بہت بڑا اجر دے گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ زور زور سے رونے لگی۔ میں نے اور مجھ سے زیادہ میری بیوی نے اس کوتسلی دی تو وہ دوپٹے سے آنسو پونچھتے ہوئے بولی: ’’کل میری لڑکی کی شادی ہے اور گھرمیں پھوٹی کوڑی نہیں۔ میرا میاں ٹی بی کا مریض ہے۔ جوان لڑکا فوت ہوگیا ہے۔ لڑکے والے مجبور کررہے ہیں کہ طے شدہ تاریخ کے مطابق شادی آج ہی ہوگی۔ آپ اتنے پیسے دے دو کہ میں لڑکی کے ہاتھ پیلے کردوں۔‘‘
سیٹھ صاحب کا بیان سن کر میں نے انہیں غور سے دیکھا تو وہ بولے: ’’بڑی دیر سے تلاش کررہا ہوں مگر اس بے چاری غریب عورت کاگھر نہیں مل رہا۔‘‘
’’کھانے کی دیگوں کے علاوہ کچھ اور بھی دینا چاہتے ہیں آپ؟‘‘ میں نے پوچھا
وہ بولے: ’’جی ہاں میں نے سارا انتظام کردیا ہے، تھوڑا سا زیور اور کچھ نقدی بھی ساتھ لایا ہوں۔ ایسوں کو دینے کا بہت ثواب ہے۔‘‘
ہم یہ باتیں کر رہے تھے کہ بستی کے بہت سارے لوگ سوزو کی کے گرد جمع ہوگئے اور ان میں سے ہر ایک سیٹھ صاحب کو یہ باور کرانے کی کوشش کرنے لگا کہ وہ اس عورت کو جانتا ہی نہیں بلکہ اس کا قریبی عزیز بھی ہے۔ کوئی کہہ رہا تھا : سیٹھ صاحب! آپ میرے ساتھ آئیں۔ کوئی کہہ رہا تھا : ’’آپ کسی کی باتوں میں نہ آئیں میرے ساتھ چلیں۔ جب میں وہاں سے چلا تو ماروتی وین نے رینگنا شروع کردیا اور بہت سارے لوگ ساتھ ساتھ اس طرح چل رہے تھے جیسے دولہا کی گاڑی کے ساتھ ساتھ دلہن کے استقبال کرنے والے رشتے دار ہوں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کوئی ماہر فنکار سیٹھ صاحب کو جل دے کر اپنے گھر لے گیا۔ کچھ دن بعد مجھے کسی نے بتایا کہ وہ آدمی کو اس عورت کے گھر تو لے گیا لیکن ’’شکار‘‘ کو گھر تک پہنچانے اور گھر والوں کو ہوشیار کرنے کا معاوضہ بھی خوب اچھی طرح وصول کیا۔
٭٭٭
کچھ دن بعد میری ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو اس ’’بستی فنکاراں‘‘ کے قریب لانڈری کی دکان کرتے تھے۔ انھوں نے مجھے ان لوگوں کے حیران کن بلکہ پریشان کن واقعات سنائے جن میں سے ایک یہ ہے:
اس بستی کے ایک خوبرو جوان نے میری لانڈری سے پینٹ اور شرٹ ارجنٹ دھلوائے۔ اس دن جمعہ تھا۔ جمعہ کی نماز سے پہلے میں نے دوکان بند کی اور دکان سے خاصی دور اپنی بستی کی مسجد میں نماز پڑھنے چلا گیا۔ جماعت کے بعد ابھی لوگ بقیہ نماز پڑھ ہی رہے تھے کہ صحن مسجد کے نمایاں حصے میں بہت سے لوگ اکٹھے ہوگئے۔ میں نے دیکھا کہ ایک خوش پوش جوان کو کچھ لوگ سہارا دے کر اٹھا رہے ہیں اور وہ جوان کراہتے ہوئے کہہ رہا ہے:’’گھر میں ولادت ہونے والی ہے۔ بیوی اسپتال میں ہے۔ میری جیب کٹ گئی۔ اللہ، میں کیا کروں۔‘‘
’’کتنی رقم تھی؟‘‘ کسی نے پوچھا
’’پانچ ہزار دو سو روپئے۔ اے اللہ، اب کیا ہوگا۔ کہیں میری بیوی اللہ کو پیاری نہ ہوجائے۔‘‘
’’کہاں رہتے ہو، کیا کام کرتے ہو؟‘‘ لوگوں نے دریافت کیا۔
’’میں کالونی میں رہتا ہوں۔ تعلیم یافتہ ہوں۔ بے روزگار ہوں۔ خدا کسی پر برا وقت نہ لائے…‘‘ وہ اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ لوگوں نے روپوں کی بارش کردی اور میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ یہ وہی جوان ہے جو صبح میری لانڈری سے ارجنٹ کپڑے دھلواکر لے گیا تھا اور بتارہا تھا کہ ’’میں اپنی ہونے والی سسرال جارہا ہوں۔‘‘
——

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146