آپ نے اکثریہ دیکھاہوگاکہ ایک بازار میں ایک ہی قسم کی کئی دُکانیں ہیں۔لیکن ان دکانوں میں کسی پر خریداروں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگے ہیں۔اورکسی میںاِکادُکاخریدار ہیں۔دیکھنے والاحیران ہوتاہے کہ یا اللہ یہ کیاماجراہے لیکن کوئی اس پر غورکرنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتا۔بات صرف اِتنی سی ہے کہ دکان پر خریدار کازیادہ یاکم آنااِنسانی اختیارکی چیزنہیںہے۔یہ سب کچھ حکم الٰہی ہی سے ہوتاہے۔آدمی کاکام صرف اتنا ہے کہ اچھی مارکیٹ اوراچھی جگہ دکان کا اِنتخاب کرکے اس میںاِنسانوں کی ضروریات کا سامان لاکر سجابناکر دُکان کھول کر بیٹھ جائے۔خریدار بھیجنااس کا کام ہے جو سارے جہاں کا مالک اورپالنہار ہے۔ قرآن میں جابجااللہ کایہ وعدہ دُہرایاگیاہے کہ ساری مخلوق کو رزق پہنچانااس کی ذمہ داری ہے،کسی کو کمی اور کسی کو بیشی یہ بھی اس کی اختیاری شے ہے۔
آدمی کے دل میںاگریہ بات جمی رہے تو کبھی بھی اس کی زبان پر حرف شکایت نہیںآئے گاکہ میری آمدنی کم ہے۔اورفلاں کی زیادہ،یہ دینے والا مالک ومولاہی جانتاہے کہ کس کی کیاضرورت ہے اور کس کو کتنادیناچاہیے۔اس سے بھی قناعت اورتوکل دل میںگھربنالیتاہے اورآدمی کو طمانیت قلب اورسکون کی دولت حاصل ہوتی ہے۔
توکل کے تذکرے میںیہاں ایک واقعہ یاد آگیا۔بیان کیاجاتاہے کہ حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک انگریز افسریہ تفتیش کرنے کے لیے پہنچاکہ مدرسہ دیوبند کے اِخراجات کس طرح اور کہاں سے پورے ہوتے ہیں۔ اوراس اِدارہ کی آمدنی کا ذریعہ کیا ہے، انگریز افسر کے اِستفسار پر حضرت نانوتویؒ نے فرمایاکہ اِدارہ اللہ کے توکل پر چلتاہے۔
حضرت نانوتویؒ کی یہ بات انگریزافسرکے خاک بھی نہ پلے پڑی،وہ وہاں سے چلاگیا۔ چند روز دیوبند میں رہ کر اس کی تحقیق وتفتیش کرتارہاجب وہ اپنی تفتیش مکمل کرکے دیوبند سے واپس جانے لگاتو جاتے ہوئے وہ پھر حضرت نانوتویؒ کے پاس آیا۔اوراس بار اس نے مولاناکی خدمت میں مدرسہ کے اِخراجات کے لیے اپنی طرف سے کچھ روپیے بھی پیش کیے۔ مولانا نے یہ روپے قبول کرتے ہوئے اس انگریز افسر سے فرمایاکہ آپ جب پہلے دن میرے پاس آئے تھے، تو آپ نے مجھ سے پوچھاتھاکہ مدرسہ کی آمدنی کا ذریعہ کیا ہے۔ تومیں نے عرض کیاتھاکہ اللہ پرتوکل سے سارا کام چلتاہے۔تویہ بات اس دن آپ کی سمجھ میں نہیںآئی تھی۔آج آپ مدرسہ کے لیے چندہ دینے آئے ہیں۔میں نے توآپ سے کوئی رقم نہیںطلب کی تھی۔ آپ خود اپنی تفتیش پوری کرنے کے بعددیوبند سے واپس جاتے ہوئے بچوں کے لیے یہ رقم دینے آئے ہیں،اب توآپ کی سمجھ میںیہ بات آجانی چاہیے کہ اللہ پر توکل کیاچیزہے۔آپ ہی کی طرح بن مانگے اللہ کے بندے مدرسہ کے لیے رقمیں بھجواتے رہتے ہیں۔اوراس طرح اس مدرسہ کاکام بحمداللہ چلتا رہتا ہے۔
آج ہمارے معاشرہ میں،ایسابگاڑ پیدا ہوچکا ہے کہ پوری قوم جائز وناجائز آمدنی سے بے نیاز، دولت کمانے اورسمیٹنے میںمصروف ہے۔کسی کو اس کا ہوش نہیںہے کہ وہ کس طرح بھاگے دوڑے چلے جا رہے ہیں،اللہ ہی بہترجانتاہے کہ قناعت وتوکل کے جذبہ سے بے نیاز اس ملت کا انجام کیاہوگا۔ —





