آسمان پر کالے اور بھورے بادل دوڑ رہے تھے۔ جس سے موسم خوشگوار ہوگیا تھا۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ فضا میں ساز کا رنگ پیدا کررہی تھی۔ ادھر سامنے والے مندر سے گھنٹے کی آواز مسلسل آرہی تھی۔ پیپل کے پیڑ پر بیٹھی کوئل کی کوٗکوٗ ماحول کو مستانہ کیے دیتی تھی۔ اپنی روشنی بکھیرنے کے لیے بے تاب سورج بادلوں سے کشمکش میں مصروف تھا۔ کبھی وہ بادلوں کو شکست دے کر نمودار بھی ہوجاتا لیکن دوسرے ہی پل بادل اس کو چھپانے میں کامیاب ہوجاتے۔ مندر کی چھت پر لگی ہوئی کالے رنگ کی ٹنکی سے پانی بھر بھر کرتا نکل رہا تھا۔ ایک سفید کبوتر کا جوڑا پانی میں اپنی چونچ ڈال رہا تھا پھر نکال رہا تھا۔ اور ہر ایک دوسرے کو غور سے اس طرح دیکھ رہا تھا گویا عاشق و معشوق دنیا کی فکر سے آزاد راز ونیاز کی باتوں میں مصروف ہوں۔ فہد اپنی بالکنی سے یہ منظر غور سے دیکھ رہا تھا۔ زاہدہ بیگم نماز پڑھ کر قرآن کی تلاوت کررہی تھیں۔
’’بھائی جان، بھائی جان! آج آپ کا رزلٹ بھی تو آئے گا۔‘‘ آشی نے ریلنگ کو پکڑتے ہوئے فہد سے پوچھا۔
’’ہاں آئے گا تو‘‘ فہد نے کرسی کو اپنی طرف کھینچے ہوئے کہا۔
عابد صاحب ایک کمپنی میں کلرک تھے۔ ان کی بیوی زاہدہ بیگم بڑی نیک خاتون تھیں۔ عابد صاحب بھی سادہ لوح انسان تھے۔ قدرت نے انہیں اولاد بھی نیک عطا کی تھی۔ فہد نے ۱۲ ویں پاس کرکے بی ٹیک میں داخلے کے لیے امتحان دیا تھا اور تحریری امتحان پاس کرنے کے بعد انٹرویو کے رزلٹ کے لیے منتظر روشن مستقبل کے لیے خوابوں کے تانے بانے میں محو تھا۔
’’فہد کیسا رہا رزلٹ‘‘؟ عابد صاحب نے آفس سے آتے ہی سوال کیا۔
’’ابو میرا نام آگیا ہے۔‘‘
’’تو پھر یہ منہ لٹکائے ہوئے کیوں بیٹھے ہو؟‘‘
’’داخلہ میں پورے دو لاکھ روپے لگیں گے۔‘‘ زاہدہ بیگم نے فریج سے ٹرانس پیرنٹ بوتل نکال کر گلاس میں پانی انڈیلتے ہوئے کہا۔
’’داخلہ تو دلائیں گے ہی کیونکہ روشن مستقبل کا سوال ہے۔‘‘
’’لیکن اتنا زیادہ پیسہ کہاں سے آئے گا؟‘‘ زاہدہ بیگم نے فکر مندی سے پوچھا۔
’’پیسے کا انتظام تو کرنا ہی ہوگا۔ چاہے کہیں سے بھی کریں۔‘‘
’’ابو کیا آپ کے لیے چائے لاؤں؟‘‘ آشی نے عابد صاحب کے پیروں کے پاس ہوائی چپل رکھتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں چائے نہیں، ذرا سی شکنجی بنادو۔ بہت گرمی پڑ رہی ہے۔ ابھی اپریل میں سورج کی تپش کا یہ عالم ہے۔ تو مئی جون میں کیا حال ہوگا۔‘‘
’’فہد داخلہ لے لینا۔ پیسے کا انتظام ہوگیا ہے۔‘‘عابد صاحب نے آفس سے آکر خوش خبری سنائی۔
’’کہاں سے ہوا ابو۔‘‘
’’ایک لاکھ ایجوکیشن لون مل جائے گا باقی روپیہ ہم فنڈ سے نکال لیں گے۔‘‘
’’لیکن ابھی تو آشی کی تعلیم اور شادی…‘‘ زاہدہ بیگم نے متفکر لہجے میں کہا۔
’’پڑھائی کے لیے تو میری تنخواہ کافی ہے شادی میں تو پانچ چھ سال ہیں اور پھر فہد کو بی ٹیک کرنے کے بعد اچھی نوکری مل جائے گی۔ تو سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔‘‘
وقت کا پہیہ اپنی رفتار سے گھومتا رہا۔ فہد ہر سال امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوتا رہا۔ آخر ایک دن فہد نے بی ٹیک پاس کرلیا۔ آج وہ بہت خوش تھاکیونکہ آج وہ ایک سند یافتہ انجینئر بن گیا تھا اور وہ بھی امتیازی نمبرات کے ساتھ۔ اب نوکری کی تلاش کا مرحلہ درپیش تھا، اس نے اس مرحلے کو سر کرنے کے لیے بھی بھاگ دوڑ شروع کردی۔ روز صبح گھر سے نکلتا اور شام کو واپس آتا۔’’ فہد کیسا ہوا انٹرویو؟ ‘‘زاہدہ بیگم نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا۔
’’آشی ذرا ایک گلاس پانی دو۔‘‘
’’نہیں فہد کچھ کھالو پہلے، صبح سے بھوکے ہو۔‘‘
’’اماں! میرا انٹرویو تو بہت اچھاہوا ہے ایک دو دن میں رزلٹ آجائے گا۔‘‘ اس نے پلیٹ میں سبزی نکالتے ہوئے کہا اور پھر اسی طرح ایک کے بعد ایک انٹرویو دیتا رہا لیکن کہیں بھی اس کا سلیکشن نہیں ہوسکا۔
ایک روز تنگ آکر اس نے بنگلور جانے کا ارادہ اپنی اماں کے سامنے ظاہر کردیااور وہ سن کر ششدر رہ گئیں۔ ’’اتنی دور‘‘
’’ہاں میرے دوست کافون آیا تھا۔ کہتا ہے یہاں ٹرائی کرکے دیکھ لو۔‘‘
’’ہاں بیٹا اگر اللہ کی مرضی اسی میں ہے تو یہی سہی، اس کے لیے تو روپے کا بھی انتظام کرنا ہوگا۔‘‘ عابد صاحب نے گہری سانس لی۔ اور پھر وہ پارکوں کے شہر بنگلور کی خاک چھاننے پہنچ گیا۔ فہد کو بنگلور آئے ہوئے پورا ایک مہینہ گزر گیا تھا لیکن نوکری کا کوئی بندوبست نہیں ہوپایا تھا۔اس دن وہ انٹرویو دے کر آیا تو اداس ہوکر بیٹھ گیا۔
’’کیا بات ہے کیوں منہ لٹکا ہوا ہے۔‘‘ اس کے دوست نے پوچھا۔
’’یار فیضان! سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ میرا سلیکشن کیوں نہیں ہو پارہا ہے۔ ہر کلاس میں امتیازی نمبر ہیں پھر بھی… ‘‘
’’یار آج کل نمبر کو کون چاٹتا ہے تم فریش ہو نا اور فریشر کو کام دینے کے لیے بھی ڈونیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر تم یہ ڈونیشن دینے کے لیے پیسہ جمع کرلو تو دیکھو۔‘‘
’’اتنا پیسہ تو بی ٹیک میں لگ چکا ہے۔ پہلے سے ہی سر پر قرض ہے۔ اب یہا ںڈونیشن؟‘‘
’’اچھا ایک آئیڈیا ہے میرے پاس۔ اس سے تمہارا قرض بھی اتر جائے گا اور نوکری بھی مل جائے گی۔‘‘
’’بتاؤ کیا؟‘‘ فہد نے بے صبری سے کہا۔
اور پھر دوسرے ہی لمحے وہ بول اٹھا :’’نہیں میں ایسا نہیں کرسکتا۔‘‘ فہد نے فیصل کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی جواب دیا۔
’’تو پھر گزارو ایسی ہی فقیری کی زندگی۔‘‘
’’نہیں میں گھر جاکر کوئی کام کرلوں گا، لیکن ایسا نہیں کرسکتا۔‘‘
’’فہد تمہارا فون ہے۔‘‘ اتنے میں نیچے کی دکان سے آواز آئی۔
’’ہلو بیٹا فہد! کیسے ہو؟‘‘ دوسری طرف زاہدہ بیگم تھیں۔
’’ٹھیک ہوں امی!‘‘
’’کہیں نوکری ملی؟‘‘
’’نہیں امی میں کل کی ٹرین سے واپس آرہا ہوں۔‘‘
’’نہیں نہیں میرے بچے تو واپس مت آ۔ تیرے ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔‘‘ یہ کہہ کر زاہدہ بیگم نے فون رکھ دیا۔
عابد صاحب کو اسپتال سے آئے ہوئے پورا ایک ہفتہ گزر گیا تھا ان کی حالت پہلے سے بہتر تھی۔ لیکن ڈاکٹر نے آفس جانے کے لیے منع کررکھا تھا۔
’’نہ جانے کہاں سے بندوبست کیا ہوگا فہد نے پیسے کا۔ کوئی فون بھی نہیں آیا۔‘‘
’’نوکری مل گئی ہوگی۔‘‘
اور پھر فہد کے ہر مہینے چیک آتے رہے جس سے سارا قرض ادا ہوگیا۔ گھر کا خرچ اور عابد صاحب کا علاج بھی اچھی طرح چلتا رہا۔ سارے اخراجات پورے ہورہے تھے۔ ساری پریشانیاں پیسے سے دور ہوگئی تھیں۔ اس درمیان فہد بس ایک مرتبہ آشی کی شادی میں ایک دن کے لیے آیا تھا۔
’’نہ جانے آج کیوں مجھے فہد کی یاد بہت آرہی ہے۔‘‘ زاہدہ بیگم نے ٹیبل پر کھانا لگاتے ہوئے کہا۔
’’ہاں کئی دن سے کوئی فون بھی نہیں آیا۔‘‘ عابد صاحب نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’اب ہمیں فہد کی بھی شادی کردینی چاہیے۔‘‘
’’ہاں فہد کے لیے تو میں چاند سی دلہن لاؤں گی۔‘‘ زاہدہ بیگم کے لہجے میں تمام جہاں کی امیدیں سمٹ آئی تھیں۔
وہ دونوں باتیں کرہی رہے تھے کہ دروازے کی گھنٹی بجی۔
’’کون ہے؟‘‘ عابد صاحب نے اٹھتے ہوئے کہا۔
’’ارے آپ بیٹھیے ،میں دیکھتی ہوں۔‘‘
’’ارے فہد تم؟ کوئی اطلاع بھی نہیں کی آنے کی۔‘‘
’’بس آپ لوگوں کی بہت یاد آرہی تھی۔‘‘
’’بہت بڑے بڑے بیگ لائے ہو کیا ہے ان میں؟‘‘
یہ لیجیے آپ لوگوں کے لیے۔ اس نے سوٹ کیس سے کپڑے نکالتے ہوئے کہا۔
’’اوہ بہت اچھے ہیں۔‘‘ اور اس دوسرے سوٹ کیس میں کیا ہے۔
’’اس میں میرا ضروری سامان ہے۔‘‘ اس کو کمرے میں رکھ دیجیے۔
’’اچھا سامان رکھ دو اور نہا دھوکر کھانا کھالو۔‘‘
’’اچھا امی اب صبح بات کریں گے۔ میں بہت تھک گیا ہوں۔‘‘
آدھی رات گزر گئی تھی چاروں طرف سناٹا تھا۔ دور دور تک کہیں سے کوئی آواز نہیں آرہی تھی۔ سب لوگ گہری نیند میں سور ہے تھے۔ لیکن زاہدہ بیگم کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ ان کے ذہن میں طرح طرح کے خیال آرہے تھے۔ اف یہ برے برے خیالات کیوں آرہے ہیں۔ تبھی دروازے کی گھنٹی بجی۔ ’’اف اس وقت کون ہوسکتا ہے؟‘‘ عابد صاحب کی آنکھ کھل گئی۔ دروازہ کھولتے ہی زاہدہ بیگم حیران رہ گئیں۔ دروازہ پر پولیس والے تھے اور دروازہ کھلتے ہی سب ایک ساتھ اندر آگئے۔
’’ارے ارے آپ اندر چلے آرہے ہیں۔ بولتے کیوں نہیں کس لیے آئے ہیں؟‘‘
’’مسٹر فہد کا وارنٹ ہے ہمارے پاس۔‘‘
’’لیکن کیوں؟ کوئی میرا بیٹا مجرم ہے؟‘‘ عابد صاحب تھر تھر کانپ رہے تھے۔
’’وہ ایک اسمگلر ہے۔‘‘
’’دیکھو کہاں چھپایا ہے سامان؟ ایک پولیس انسپکٹر نے سپاہی کو حکم دیا۔
یہ لیجیے جس کی آپ کو تلاش تھی۔ فہد سوٹ کیس لے کر آگیا۔ سوٹ کیس چرس اور افیون سے بھرا تھا۔ زاہدہ کو کچھ سمجھنے میں ذرا دیر نہ لگی۔ آنسو کے دو قطرے ٹپک کر اس کے گالوں پر آئے۔ یہ سب ہماری ہی غلطی تھی کہہ کر عابد صاحب گرنے کے انداز میں کرسی پر دراز ہوگئے۔ زاہدہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔ گویا کہہ رہی ہوں مجرم کون ہے؟




