حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت ۶۳۶ء میں مسلمانوں نے فلسطین کو فتح کرلیا اور ایک طویل عرصے تک فلسطین پر مسلمانوں کی حکومت رہی۔ بارہویں صدی عیسوی میں فلسطین کو مسلمانوں کے قبضے سے چھیننے کی یہودیوں نے زبردست مہم چلائی اور ایک خاص قسم کی سیاسی صورتحال پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں تاریخ عالم کی مشہور صلیبی جنگیں لڑی گئیں۔ لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی اور فلسطین کا علاقہ مسلمانوں ہی کے پاس رہا۔ سلطنتِ عثمانیہ میں بھی یہ علاقہ مسلمانوں کے زیرِ نگیں رہا۔
یہودیوں کی نظر یں فلسطین پر کافی مدت سے لگی ہوئی تھیں کہ اس پر قبضہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں برطانیہ اور امریکہ کے بڑے یہودی سرمایہ داروںاور سیاسی لیڈروں کی حمایت سے تھیوڈورہرزل نے سلطنت عثمانیہ کے سلطان عبدالحمید سے ملاقاتیں کیں اور انہیں اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ سلطان عبدالحمید فلسطین میں یہودیوں کے وطن کے قیام کے سلسلے میں انہیں کچھ مراعات دیں۔ جس کے بدلے میں انھوں نے سلطان کو کئی ایک ترغیبات و لالچ دیئے مثلاً سلطان کے تمام قرضہ جات کی یہودی سرمایہ داروں کی طرف سے ادائیگی ‘ ترکی کے لئے ایک بحری بیڑے کی تیاری میں مدد ‘ فلسطین میں ایک اعلی یونیورسٹی کا قیام جہاں ترک طلبا یورپ جانے کی بجائے تعلیم حاصل کرسکیں اور اس کے علاوہ دوسری مالی امداد لیکن سلطان راضی نہ ہوئے۔
یہودیوں نے سلطان کے دوست جرمنی کے قیصر ولیم دوم کو مختلف قسم کی ترغیبات دے کر اپنا ہم نوا بنایا چنانچہ 1898ء میں قیصر ولیم دوم نے اپنے دورہ عثمانیہ سلطنت کے دوران سلطان کو اس کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن جب اسے اشارتاً آگاہ کیا گیا کہ اگر اس نے اصرار کیا تو جرمنی مجوزہ برلن بغداد ریلوے منصوبہ سے محروم ہوجائے گا۔ تووہ خاموش ہوگیا۔اس کے بعد ہرزل نے ترک یہودی ماخام قرضو آفندی کی وساطت سے سلطان عبدالحمید کو پیغام بھیجا تو سلطان نے کہا اگر یہودی اپنی ساری دولت بھی میرے قدموں میں لاڈالیں تب بھی میں فلسطین میں مسلمانوں کی ایک انچ زمین یہودیوں کو دینے کا روادار نہیں ۔ 1902ء میں سلطان عبدالحمید نے ہرزل کو کہلا بھیجا کہ فلسطین میں یہودی ریاست قائم کرنے کی مزید کوشش نہ کرے۔ جب تک میں زندہ ہوں اور سلطنت عثمانیہ قائم ہے فلسطین میں یہودی ریاست کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ اس طرح یہودی سلطان کو تو رشوت دینے میں ناکام ہوگئے لیکن بین الاقوامی یہودیوں نے خلافت عثمانیہ کو سازشوں کے ذریعے ختم کرادیا۔
۱۹۱۷ء میں فلسطین پر جنرل ایلن بی کی قیادت میں انگریزوں کا قبضہ ہوگیا اور یہ برطانوی استعمار کے قبضے میں آگیا اور اس کے ساتھ ہی یہودیوں نے برطانوی حکومت کے ساتھ ساز باز شروع کردی اور اسے اس بات کے لیے آمادہ کرلیا کہ موجودہ فلسطین کے علاقے میں وہ یہودیوں کو ایک سلطنت دینے میں مدد کرے جو یہودیوں کا وطن ہو اور جہاں وہ مستقل طور پر امن و سکون کے ساتھ رہ سکیں۔ چنانچہ برطانوی حکومت کے ساتھ ایک سودا طے پا گیا اور دنیا بھر سے یہودی ہجرت کرکے فلسطین پہنچنے لگے اور انھوں نے سادہ لوح عربوں کی زمینوں اور مکانوں کو مارکیٹ سے کئی گنا زیادہ قیمت پر خریدنا شروع کردیا اور یہ تقریباً30 سال تک جاری رہا جس کے نتیجے میں یہودیوں کی تعداد فلسطین میں وہاں کی آبادی کا تقریباً 30 فیصد ہوگئی۔ اور وہ ملک کی8 فیصد آراضی خریدنے میں کامیاب ہوگئے ۔ برطانیہ کا سورج جب زوال کی طرف بڑھنے لگا تو اسرائیل کے قیام کی منزل قریب ہوتی گئی۔ بالآخر ۲؍نومبر ۱۹۴۷ء کو اقوامِ متحدہ نے تقسیم فلسطین کی تجویز پیش کی جس میں فلسطینی علاقہ کا 56.74%حصہ ملک کی ۳۰ فیصد یہودی آبادی کو دے دیا گیا۔ اور موجودہ یروشلم کو اوپن سٹی کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا۔
۱۹۴۷ء میں برطانیہ نے فلسطین سے واپسی کا فیصلہ کرلیا اور اقوامِ متحدہ نے زبردست امریکی دباؤ کے تحت تقسیم فلسطین کے منصوبے کی منظوری دے دی۔ اس طرح جن فلسطینیوں کی ملکیت میں ۹۲ فیصد فلسطین کی اراضی تھی محض ۴۳ فیصد فلسطین کے حق دار ٹھہرائے گئے، جبکہ یہودیوں کو جو کل آبادی کا صرف ۳۰ صدفیصد تھے اور جن کے قبضے میں فلسطین کی صرف آٹھ فیصد اراضی تھی انہیں ۵۶ فیصد ملک دے دیا گیا۔
۱۴؍مئی ۱۹۴۸ء کو برطانیہ نے مکمل طور پر فلسطین سے دستبرداری کا اعلان کردیا اور اسی تاریخ کو یہودی ریاست ’’اسرائیل‘‘ کے قیام کا اعلان کردیا گیا۔
اس وقت سے اسرائیل اپنی توسیع پسندانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس نے اپنے عزائم’نیل سے فرات تک‘ کی تکمیل کے لیے خطہ پر کئی جنگیں مسلط کیں۔ ۵؍جون ۱۹۶۷ء کو اسرائیل نے اچانک ایک جنگ کے ذریعے اپنے ہمسایہ عرب ممالک پر بھر پور حملے کرکے ان کے کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا۔
مصر کو غزہ کی پٹی اور جزیرہ نما سینا، اردن کو دریائے اردن کے کچھ مغربی علاقے اور یروشلم،شام کو قنطیرہ اور جولان کی پہاڑیوں سے محروم ہونا پڑا۔
اسرائیل نے جنوبی لبنان کے بھی ایک بڑے علاقے پر بھی ایسی ہی ایک جنگ میں قبضہ کرلیا تھا۔ جو بالآخر ۲۰۰۰ء میں اسے چھوڑنا پڑا۔
فلسطینی عوام گزشتہ نصف صدی سے اپنے علاقوں اور بالخصوص بیت المقدس پر یہودیوں کے غاصبانہ قبضے کو ختم کرانے کے لیے تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) اور حماس کے تحت بھر پور جدوجہد کررہے ہیں۔ تنظیم آزادی فلسطین کی قیادت یاسر عرفات کررہے تھے۔ انہیں عرب اور غیر عرب ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ ۱۱۵ ممالک نے تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کو تسلیم کیا۔ خود ہمارا ایک ملک ہندوستان بھی ان ممالک میں شامل ہے اور یہ اول روز سے فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کا حامی رہا ہے۔
۱۹۶۶ء میں اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد ۱۱۰ تھی جبکہ اسرائیل کے ۸۰ سے بھی کم ممالک سے سفارتی تعلقات ہیں۔
ایک طویل جدوجہد کے بعد مرحوم یاسر عرفات نے ۱۹۸۸ء میں ریاست فلسطین کے قیام کا اعلان کیا اور انہیں اسرائیل کی طرف سے کچھ اختیارات میسر آگئے۔ اس ریاست فلسطین میں غزہ پٹی اور مغربی اردن کے کچھ علاقے شامل کیے گئے۔ مگر اس ریاست جسے فلسطینی اتھارٹی کا نام دیا گیا ایک بے روح اور بے جان حکومت ہے جسے ہمارے ملک کی کسی میونسپلٹی کے اختیارات بھی حاصل نہیں ہیں اور یہ مکمل طور پر اسرائیل کی گرفت میں ہے۔
۱۹۹۳ء میں ناروے میں پی ایل او اور حکومت اسرائیل کے درمیان خفیہ مذاکرات ہوئے اور ’’اوسلو معاہدہ‘‘ طے پایا جس کے تحت پانچ سال کے اندر اندر مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کو خود مختار حکومت مل جانا قرار پایا۔ ۱۳؍دسمبر ۱۹۹۳ء کو یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیر اعظم رابن نے ’’اصولوں کی قرارداد‘‘ پر دستخط کیے۔۱۹۹۴ء میں معاہدے کے مطابق اسرائیل نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے سے جیریکو کے علاقے خالی کردیے۔
’’فلسطینی اتھارٹی‘‘ نے منتخب رہنما یاسر عرفات کی قیادت میں تمام حکومتی اختیارات سنبھال لیے۔ اس طرح فلسطینیوں کو پورے ارض فلسطین کے رقبے میں سے صرف مغربی کنارہ اور غزہ کی پٹی کے علاقے ملے اور ان علاقوں کا موجودہ حال یہ ہے کہ یہ اپنی نام نہاد آزادی کے باوجود مکمل طور پر اسرائیل کے کنٹرول میں ہیں اور اسرائیل نے مختلف پلوں اور گزرگاہوں پر چیک پوسٹ بناکر یہاں کے لوگوں کو قید جیسی صورت سے دوچار کررکھا ہے جبکہ چند سال پہلے کئی ہزار کلومیٹر لمبی دیوار بناکر فلسطین میں عربوں کی زندگی کو ایک عملی قید خانہ یا جیل میں تبدیل کردیا ہے جبکہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے اس دیوار کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسی فوری طور پر منہدم کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ مگر اسرائیل نے عالمی عدالت کے عزت و احترام کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اسے منہدم کرنے سے صاف انکار کردیا اور اب غزہ کی مکمل طور پر ناکہ بندی کرکے اہلِ غزہ کو بھوک پیاس سے مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ غزہ کے بھوکے پیاسے لوگ مصری سرحد عبور کرکے مصر سے کھانے پینے اور دیگر بنیادی اشیاء حاصل کرلیا کرتے تھے، مگر اس سال کی ابتداء ہی میں مصر نے غزہ کی سرحد سے ملنے والے علاقہ میں ایک زبردست آہنی دیوار بنادی جس سے اہل غزہ کی زندگی موت کے کگار پر پہنچ گئی۔
چار سال سے بھی زیادہ مدت پر محیط غزہ کی یہ ناکہ بندی نے عالمی ضمیر پر کوئی ضرب لگانے میں ناکام رہی۔ اس دوران یوروپی ممالک کے ممبران پارلیامنٹ اور سرکردہ شخصیات کے وفود نے بھی غزہ کا محاصرہ ختم کرانے کے لیے غزہ پہنچے۔ قبرص سے ایک کشتی بھی اسی مقصد سے غزہ آئی مگر اسرائیلی فوجوں نے اس پر حملہ کرکے اسے واپس ہونے پر مجبور کردیا۔ بالآخر ترکی حکومت کی کوشش سے ایک بحری بیڑہ ضروری اور غذائی سامان لے کر غزہ کے لیے روانہ ہوا اور حسبِ روایت اسرائیل نے اس پر بھی حملہ کردیا اور جہاز پر سوار نو رضاکاروں کو قتل کردیا۔ اس واقعے نے بے حسی کے سمندر میں کچھ ہلچل پیدا کی اور پوری دنیا غزہ کی ناکہ بندی کی طرف متوجہ ہوئی۔ اگرچہ یہ ناکہ بندی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے مگر اس کے لیے عالمی کوششوں کو مہمیز ضرور ملی ہے۔





