موجودہ دور کی عورت کا اہم مسئلہ

عابدہ فرحین

عورت سے عورت کی پر خاش کا مسئلہ ہمیں صرف اداروں، تنظیموںمیں ہی نہیں بلکہ گھروں اور خاندانوں میںبھی کثرت سے نظر آتا ہے۔ اکثر خواتین مختلف اداروں میں، خاندانوں میں اپنا بیش تر وقت اس باہمی رقابت ، رسہ کشی اور کھینچا تانی میں ضائع کر دیتی ہیں۔ تعمیری کاموں کے بجاے تخریبی سرگرمیوں میں لگا دیتی ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق ۹۵ فی صد خواتین روایتی ’شہد کی ملکہ مکھی کا نشانہ‘ (کوئین بی سنڈروم) بنتی ہیں، یعنی افسر خواتین اپنی نوجوان خواتین کارکنان ہی سے عدم تحفظ (Insecurity) محسوس کرتی ہیں۔پروفیسر ہیری کوپر نے اس حوالے سے کہا کہ اسکیفیت (سنڈروم) کی وجہ سے وہ اپنے جونئیرز کی سرپرستی نہیں کر سکتیں۔ ایک تحقیق نے یہ بھی بتایا ہے کہ جو عورتیںمردانہ برتری کے ماحول میں جدوجہد کرتے ہوئے ترقی کرتی ہیں، وہ اپنی ماتحت نوجوان خواتین کے لیے ’شہدکی ملکہ مکھی کے عتاب‘ کا شکار ہوتی ہیں۔ اپنی جونئیرز کے لیے ان کے اندر ہمدردی کا جذبہ کم ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ جب ہم اتنی مشکلیں اٹھا کر کام کر سکتے ہیں تو یہ کیوں نہیں کر سکتیں۔ (دراصل وہ اپنے ماضی کے حالات کا بدلہ اپنی جونئیرز سے لیتی ہیں، اور بسا اوقات یہ صورتِ حال بالکل اسی طرح ساس بہو یا دیوارنی اور جیٹھانی کے معاملے میں بھی نظر آتی ہے۔)
معروف ادیبہ کیلی ویلن نے ایک دلچسپ کتاب لکھی ہے، جس میں وہ تین ہزار سے زائد عورتوں سے کیے گئے ایک سروے کے نتائج پیش کرتی ہیں کہ ’’۹۰ فی صد سے زائد خواتین میں دوسری خواتین کے بارے میں منفی جذبات پائے گئے ہیں۔‘‘کیلی ویلن مزید بتاتی ہیں کہ: ’’۵۰سوالات پر مشتمل ایک سروے میں ۸۵ فیصد عورتوں نے کہا کہ ہم نے اپنی زندگی میں دوسری عورتوں ہی کے ہاتھوںبہت سی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کیا ہے۔‘‘
گیٹ ہاپکن کی تحقیق یہ ہے کہ اکثر سینئر خواتین میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ غیر اہم ہو جائیں گی۔ شاید یہی خوف ان کے منفی رویے کی وجہ ہوتا ہے۔ہرچند کہ اس نوع کے مسائل مردوں کے درمیان بھی پائے جاتے ہیں، لیکن یہ خواتین میں بہت زیادہ موجود ہیں۔
کچھ نہ کچھ منفی جذبات انسانی نفسیات کا حصہ ہیںاور بنیادی طور پر انسانی سرشت میں پائے بھی جاتے ہیں۔ بعض جذبات و خصوصیات صنفی(Gender) بنیاد پر بھی کم یا زیادہ ہوسکتی ہیں، مگر ان کو تراش خراش کر درست سمت دینے اور شر کو خیر کے رخ پہ موڑنے کا کام گھر،مذہب ، معاشرتی اقدار اور نظام تعلیم و تربیت کرتا ہے۔ بدقسمتی سے آج کے معاشرے میںجیسے جیسے مادیت پرستی کے رجحانات میں اضافہ ہورہا ہے، ویسے ویسے اخلاقی بلندی اور اعلیٰ ظرفی کا دامن بھی ہاتھ سے چھوٹاجارہا ہے اور افراد اور معاشرے سے وہ اخلاقی صفات ختم ہوتی جارہی ہیں۔
l اس اخلاقی زوال کی بنیادی وجہ تو ہمارے نظام تعلیم سے تربیت کے عنصر کا خاتمہ ہے، جس کا مرکزِ نگاہ اب سیرت سازی کے بجاے صرف پیسہ کمانا رہ گیاہے اور اس نے معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے اور مرد و عورت سبھی اس کا شکار ہیں۔ چوں کہ بد قسمتی سے عورت کے لیے نہ صرف آگے بڑھنے کے مواقعے نسبتاً کم ہوتے ہیں اور اس کے کام کو مطلوبہ پذیرائی بھی نہیں ملتی، شاید ان میں اس لیے عدم تحفظ کااحساس زیادہ نظر آتا ہے۔ عورت سے عورت کی اس انہدامی فطرت کی وجہ یہ ہے کہ شاید ہماری نظروں سے بہت سے حقائق اوجھل ہو جاتے ہیں۔ مثلاً جو گروہ اندر سے کمزور ہو، وہ بیرونی طاقت سے کیوں کر مقابلہ کر سکتا ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ عام طور پر گھروں کے اندر پائی جانے والی کشیدگی گھر کی عورتوں کی وجہ سے ہی ہوتی ہے۔ گھریلو سیاست میں قیادت کی باگ ڈور انھی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ بلاشبہ اداروں اور تنظیموں میں پیشہ ورانہ سیاست تو مردوں کے درمیان بھی بہت ہوتی ہے لیکن عموماً خواتین کے درمیان یہ چپقلش اور پیشہ ورانہ حسدکاری (professional jealousy)اتنی زیادہ پائی جاتی ہے کہ بسااوقات وہاں کا نظام ہی چلانا مشکل ہوجاتا ہے۔
l اگر ہم نے کبھی اپنے بڑوں سے اور اپنے سینئرز سے یا اپنے نگرانوں کے ہاتھوں کبھی کوئی مشکل وقت برداشت کیا ہے، تو اس میں ہمارے بے چارے جونیئرز کا کوئی قصور نہیں ہے کہ ہم ان کا بدلہ اپنے جونیئرز سے لیں، یا اگر کسی نے اپنی ساس یا شوہر کی زیادتی برداشت کی ہے، تو اس میں ان کے گھرآنے والی بہو کا تو کوئی قصور نہیں کہ اس تلخی کا حساب اس سے برابر کیا جائے۔ ایسا غیرمنصفانہ قدم اُٹھانے سے سواے ماحول خراب ہونے اور کشیدگی میں اضافہ کرنے کے کچھ حاصل نہیں ہوگا، جب کہ اس کے برعکس رویہ اختیار کرکے ہم نہ صرف اپنے ساتھیوں سے عزت و احترام پائیں گے، بلکہ خود ذہنی طور پہ آسودہ ہوں گے۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہمارے گھروں اور دفاترکا ماحول بھی خوش گوار ہو گا۔ ایسے ماحول میں پروان چڑھنے والے افراد ہی معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ بن سکتے ہیں،کیوںکہ کسی بھی طرح کا انتشار، خواہ فکری ہو یا عملی، ہمیشہ اداروں، تنظیموں، خاندانوں حتیٰ کہ افراد کو آگے بڑھنے سے روکتا ہے اور ترقی میں سدِّ راہ بن جاتا ہے۔
l عموماً دیکھا گیا ہے کہ اگر لوگ کسی سے عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں تو اس کی خامیوں کودوسروں کے سامنے نمایاں کرکے اس کی پوزیشن خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔حالاںکہ رسولِ کریم ؐنے فرمایا کہ:’’ جو لوگ اپنے مسلمان بھائی کے عیب کے پیچھے پڑیں گے تو اللہ ان کے عیب کے پیچھے پڑ جائے گا اور جس شخص کے پیچھے اللہ پڑ جائے گا اسے رسوا کر ڈالے گا۔ اگرچہ وہ اپنے گھرکے اندر ہو۔‘‘ (ترمذی) یہ بات ذہن میں ہو تو وہ کیسے دوسروں کی عیب جوئی کرسکتا ہے؟
l ہم اگر کسی کو کچھ سکھا دیں گے یا بتا دیں گے تو ہمارا علم ہرگز کم نہیں ہوگا،بلکہ اس میں اضافہ ہوگا۔اس سے سکھانے والے کے رُتبے میں کمی نہیں آتی، بلکہ اضافہ ہی ہوتا ہے۔ اگر ہم کسی کے لیے آسانی پیدا کریںگے تو ہماری ہی عزت میں اضافہ ہوگا اور اس سے معاشرے میں خیرپھیلے گا۔ ایسا رویہ اختیار کر کے ’شہد کی ملکہ مکھی کے عتاب‘ کی سی فطرت سے نجات ملے گی۔
lاسی طرح اپنے سے زیادہ عمر، رُتبے اور علم والوں کو عزت دینے سے ہم چھوٹے نہیں ہوجاتے بلکہ ہماری عزت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر ہم کسی سے کچھ سیکھتے ہیں یا سیکھ سکتے ہیں تو اس کو تسلیم (acknowledg) کرنے سے ہماری بڑائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے گھروں اور اداروں کا ماحول بھی بہتر ہوتا ہے، جو کہ نہ صرف مجموعی طور پرگھر ،اداروں اور معاشرے کے لیے بہتر ہے بلکہ خود عورت کے اپنے لیے بھی بہت اچھا ہے اور اس کا وقت اس غیر تعمیری اندرونی سیاست میں ضائع ہونے کے بجاے تعمیری کاموں میں صرف ہوتا ہے۔ تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیںاور گھروںاور اداروں میں پُرسکون ماحول و ذہنی آسودگی میسرہوتی ہے۔
دراصل عورت ہی وہ کردار ہے جو معاشرے اور نسلوں کو بنانے سنوارنے کا کام کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مردانہ برتری کے معاشرے میں دراصل مرد سے عدم تحفظ کے باعث عورت کے بہت سے رویے جنم لیتے ہیں، مگرمعاشرے کا ہرمرد بھی کسی عورت کی گود ہی سے تربیت پاکر جوان ہواہوتاہے۔ماں کی گود کو بچے کا پہلا مدرسہ کہا جاتا ہے۔ نپولین نے بھی کہا تھا کہ:’’تم مجھے اچھی مائیں دو، تو میں تمھیں اچھی قوم دوںگا‘‘۔ اگر عورت ہی اخلاقی معیارسے گر جائے تو نہ صرف معاشرہ انتشار اورزوال کا شکارہوگا، بلکہ اعلیٰ اخلاقی صفات سے عاری نسلیں جنم لیں گی۔
عورت اپنے اس مقام کا ادراک کرتے ہوئے کم از کم اپنی ذات میں، جہاں جہاں وہ موجود ہے، اس ’عورت سے عورت کی دشمنی‘ جیسی بیماری کو ختم کرنے کا تہیہ کرے تو ہم دیکھیں گے کہ طبقۂ نسواں کے ۵۰ فی صد مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146