میں پردہ کیوں کرتی ہوں؟

فرزانہ عباس

شیطانی نگاہوں سے بچنے کے لیے پردے میں رہنا نہایت ضروری ہے، اس سے نہ صرف انسان بری نگاہوں سے بچ سکتا ہے بلکہ اللہ کی خوشنودی بھی حاصل ہوتی ہے۔ ایک باعزت عورت پردے میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی ہے۔ پردہ بری نگاہوں میں قدرتی حیا پیدا کردیتا ہے اور بے پردگی کسی وقت بھی ڈگمگاسکتی ہے جبکہ پردہ میں عورت کو عزت و حیا کا احساس ہوتاہے۔ مسلم عورت کی پہچان پردہ ہونا چاہیے۔ جسم کے پردے کے ساتھ ساتھ آنکھ اور دل کا پردہ بھی ضروری ہے۔
جب سے میں نے پردہ شروع کیا، سفر میں خود کو پرسکون محسوس کرتی ہوں اور ایک خاص آزادی کا احساس ہوتا ہے، پردہ ایک زیور سے ہرگز کم نہیں لیکن اگر یہ زیور خدانخواستہ اترجائے تو جو بھیانک اسباب سامنے آتے ہیں، اس لیے روز مرہ کے اخبارات اور حالات دیکھ لیجیے۔ پردہ ہماری شرم و حیا کو برقرار رکھتا ہے اور جب یہ چیزیں برقرار رہیں تو برائی سے بچا جاسکتا ہے۔ یہ ایک ایسا زیور ہے جسے پہننے کی خدا ہر عورت کو توفیق دے۔
اسلام نے زندگی کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں چھوڑا۔ عورت کو تنگ باریک، عریاں اور بھڑکیلا لباس پہننے سے منع کیا گیا ہے۔ خوشبو لگانے سے روکا ہے۔ نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ان تمام احکامات میں ہماری نہ صرف دنیاوی بلکہ آخرت میں بھی بھلائی ہے۔ اس ضمن میں مرشد سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کتاب ’’پردہ‘‘ اور ہر بہن کو پڑھنا چاہیے۔
میں جب پردہ نہیں کرتی تھی تو گھر سے اسکول کا فاصلہ صدیوں پر محیط ہوجاتا تھا، ایک عذاب تھا، کبھی تعلیم ختم کرنے کا فیصلہ کرتی، روزانہ ایک دلدل سے گزرنا پڑتا۔ ماشاء اللہ جب سے پردہ کرنا شروع کیا تو ایک عجیب روحانی خوشی ہوئی۔ آج عورت پردہ کرکے نہ صرف اپنے والدین بھائیوں خاوند کی عزت محفوظ رکھ سکتی ہے بلکہ اپنی آخرت بھی سنوار سکتی ہے۔ اس ضمن میں اسلامی تعلیمات سے روشناسی نہایت ضروری ہے۔ یہاں ایک بات میں ضرور کہوں گی کہ پردہ بطور فیشن نہ ہو جو خود بھی ایک برائی ہے۔ پردہ باوقار اور اس کے تقاضے پورے کرتا ہو۔ میری جو بہنیں تاحال اس نعمت سے فیض یاب نہیں ہوئیں ان سے میری اپیل ہے کہ خدارا مغربی تہذیب چھوڑ کر مدنی و مکی تہذیب اپنا کر اسلام کی شان میں اضافہ کریں۔
اگر غیر مسلم ہماری تہذیب نہیں اپناسکتے تو ہم کیوں ان کی تہذیب اپنائیں؟ ہماری تہذیب میں کیا برائی ہے؟ صرف ایک سازش کے تحت ہمیں اپنی تہذیب اور دین سے دور کیا جارہا ہے اور بازاروں اور محفلوں کی زینت بنایا جارہا ہے۔ آئیں عہد کریں۔ حجاب کو اپنے ارد گرد ایک تحریک حجاب بنادیں۔

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146