جسم کا صحیح درجہ حرارت 98.6فارن ہائٹ ہوتا ہے۔ اگر اس کا درجہ حرارت 98.6فارن ہائٹ سے زیادہ ہو تو بخار کہلاتا ہے۔
بخار ایک علامت ہے، یہ کوئی مرض نہیں۔ بخار کسی وائرل یا بیکٹیریل انفیکشن کے خلاف جسم کا طبعی ردِ عمل ہے۔ جسم کے درجۂ حرارت میں تبدیلی لانے والے دیگر اسباب میں ورزش، گرم پانی سے غسل، ضرورت سے زیادہ گرم کپڑوں کا استعمال اور گرم موسم شامل ہیں، جن سے بچوں کے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔
اگر بچے کو بخار ہوجائے
٭ اگرآپ کے پاس تھرمامیٹر یا اسٹرپ ہے تو اس کے ذریعے بچے کا درجہ حرارت دیکھئے۔
٭ اگر آپ تھرمامیٹر کو بغل میں رکھتے ہیں تو اس کی ریڈنگ میں ایک ڈگری جمع کرلیں۔
٭ ڈاکٹر کی تجویز کردہ بخار کی دوا پلائیں۔
٭ پانی اور مشروبات کا استعمال بڑھائیں۔
٭ بچے کو آرام کروائیں اور کھیل کود ترک کروادیں۔
٭ ہر چار گھنٹے بعد اپنے بچے کا درجہ حرارت دیکھئے۔
مندرجہ ذیل صورتوں میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں:٭ بخار 104 سے بڑھ جائے۔
٭ بچے کو دورے پڑنے لگیں یا ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہونے لگیں یا سانس میں دقت ہو۔
بخار کیسے کم کیا جائے؟
٭ دوا ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق دیں۔
٭ بخار کم کرنے کے لیے ڈاکٹر جو دوائیں تجویز کرے گا وہ بخار کو کم کرنے میں مدد دیں گی۔ ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق دوا کی صحیح مقدار کے لیے پلاسٹک کا پیمائشی چمچہ استعمال کریں۔
٭ دوا دینے سے پہلے لیبل کو اچھی طرح پڑھ لیں اور صرف ڈاکٹر کی تجویز کردہ مقدار ہی دیں۔ چار ماہ سے کم عمر بچے کو اُس وقت تک بخار دوا نہ دیں، جب تک ڈاکٹر مشورہ نہ دے۔ دوا کی کی تجویز کردہ مقدار سے تجاوز نہ کریں۔ دوا کی خوراک میں وقفہ ڈاکٹر کی ہدایت سے زیادہ یا کم نہ کریں۔
٭ ٹھنڈی پٹی سر اور پیروں پر رکھنے (اسٹیچنگ کرنا) سے بچے کا درجہ حرارت نیچے لانے میں مدد ملتی ہے۔ ایک پیالے میں نل کا پانی لے کر سر اور پیروں کی اسٹیچنگ کریں۔اس سارے عمل سے آپ کے بچے کے درجۂ حرارت میں کمی ہوگی اور وہ کم تکلیف محسوس کرے گا۔
٭ بچے کی طبیعت میں بہتری لانے کے دیگر طریقوں میں کمرے کا ٹمپریچر خوشگوار اور معتدل رکھا جائے۔ بچے کو ہلکے سوتی کپڑے پہنائے جائیں تاکہ جسم کی گرمی خارج ہوسکے۔
اگر بچے پر کپکپی طاری ہوتو چادر وغیرہ اڑھادیں لیکن کپکپی کے رکتے ہی اتار دیں۔
لاڈ پیار اور مناسب دیکھ بھال سے بھی بیمار بچے کو آرام پہنچتا ہے۔





