چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کی عزت

؟

لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَ مَنْ لَّمْ یُؤَقِّرْ کَبِیْرَنَا

’’وہ شخص ہم (مسلمانوں) میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کی عزت نہیں کرتا۔‘‘

گویا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ چھوٹوں پر رحم و شفقت اور بڑوں کا ادب و احترام کرے۔ اس کے بغیر اس کی مسلمان خام ہے۔

چھوٹوں سے مراد چھوٹے بچے ہیں، اپنے ہوں یا بیگانے حتی کہ دوست کے بچے ہوں یا دشمن کے، سب کے ساتھ پیار اور شفقت کا معاملہ کرنا ضروری ہے۔

بڑوں سے مراد عمر میں بڑا ہونا ہے۔ چھوٹی عمر کے لوگ اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں کا احترام کریں۔ جیسے چھوٹے بہن بھائی، بڑے بہن بھائی کا، اور اولاد اپنے ماں باپ کا اور عام افراد اپنے خاندان، قبیلے اور محلے کے بزرگوں کا ادب کریں۔ اسی طرح کوئی علم و فضل اور شرف و مجد میں ممتاز ہے تو وہ بھی قابل احترام ہے اور اس کی تکریم ضروری ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ ارشاد اس وقت فرمایا تھا جب آپ لوگوں کے ساتھ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے کہ ایک بزرگ آدمی آپ سے ملنے آیا لیکن لوگوں نے اس کے لیے مجلس کو فراخ کرنے میں تاخیر کی، جس پر آپ نے مذکورہ بات ارشاد فرمائی۔ اس سے ادب و احترام کی بعض صورتوں کی نشان دہی بھی ہوتی ہے۔

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ اگست ستمبر 2026

Hijab Islami Aug-Sept 2026شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ فروری 2026

Hijab Islami Feb 2026شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146