تقسیمِ ہند کے بعد سرحد کے اس پار چلے جانے والے بہت سارے لوگوں کی متروکہ جائیدادیں سیٹھ کنجو لال نے سرکاری افسروں کو گھوس کھلاکر اونے پونے خرید لی تھیں۔ سبزی منڈی، کاسی روڈ کی دوکانیں، تیل گودام کی کٹرہ نما دکانیں، مگر تھے بڑے دیالو، سبزی منڈی میںایک بڑی سی دھرم شالہ بنوائی جس کے آہنی گیٹ کے اوپر بڑے بڑے الفاظ میں لکھا تھا: ’’سیٹھ کنجو لال دھرم شالہ‘‘ یہاں بھانت بھانت کے لوگ آتے جاتے رہتے۔ ساتھ ہی ایک ملنگ نما سادھو بھی رہتا تھا، گورا چٹا، لال لال آنکھیں، ذاتی کردار نے اس کا چہرہ مسخ کررکھا تھا۔ وہ انگلیوں میں سچے نگینوں کی بے شمار انگوٹھیاں پہنتا اور گلے میں منکوں کی وزنی مالائیں۔ سیٹھ نے ایک خالی دکان میں اسے تنور لگوادیا جو رفتہ رفتہ ملنگ ہوٹل کے نام سے مشہور ہوگیا۔
سیٹھ ہی کے اخراجات پر دن میں تین بار روٹیاں مفت تقسیم ہوتیں۔ غریب غربا، پردیسی، مہاجر، صبر و تحمل سے خیرات کا انتظار کرتے، مگر جونہی تقسیم کا عمل شروع ہوتا، وہی پرسکون بے ضرر لوگ وحشی بن کر روٹیوں پر جھپٹتے، آپس میں الجھتے، روٹی بھی انسان کو لڑاتی ہے۔ شرفا جو خیرات دینے اسی تنور پر آتے، گاڑیوں میںبیٹھے دلچسپی سے یہ منظر دیکھتے۔ حکمران طبقہ صدیوں پہلے انسان کو جانور سے لڑایا کرتا تھا۔ اب انسان کو انسان سے لڑا کر محظوظ ہوتا ہے۔ رومن اکھاڑہ آرینا (Arena) نہ سہی، شہر کے بازار ہی سہی۔
ان بے شمار بدحال دکانوں میں رفتہ رفتہ کباڑ کے کپڑوں کا کاروبار ہونے لگا اور یہ علاقہ کباڑی بازار کے نام سے موسوم ہوگیا۔ پھر کیا تھا چند ہی سالوں میں ہر قسم کا پرانا سامان یہاں ملنے لگا جن میں پرانے بوٹ، کوٹ، جیکٹ، براؤن فوجی کمبل، جنگ ویت نام کی چیزیں، امریکی فوج کا پرانا سامان غرض یہ کہ ایک دنیا آباد تھی۔
کباڑ کی چیزیں استعمال کرنے والے سفید پوش دن میں تو کنّی کترا کر گزرجاتے اور شام کو مفلر یا چادر چہرے پر لپیٹ کر خریداری کے لیے آتے یا گھر کی برقع پوش خواتین کو بھجواتے۔
سیٹھ کنجو لال کے تین بیٹے تھے ایک تو پولیس افسر بن گیا، دوسرا پڑھنے سے انکاری ہوگیا۔
’’پڑھ کر کیا کریں گے؟ ہمارے منشی جو پڑھے لکھے ہیں۔‘‘
’’مگر بیٹا تعلیم تو زیور ہے اس کے بڑے فائدے ہیں۔‘‘ باپ نے سمجھانا چاہا۔
’’کیا فائدہ ہے؟ ملک کے تمام پڑھے لکھے، ان پڑھوںکے ملازم ہیں۔‘‘
سیٹھ نے چپ سادھ لی۔ وہ خود بھی ان پڑ تھا اس کے منیجر، منشی ایم اے اور بی اے تھے، لہٰذا اس نے بیٹے کو کاروبار ہی پر لگا دیا۔ کاروباری ذہن جھگڑے سے ڈرتا ہے۔
تیسرا بیٹا بیزن البتہ پڑھنے کا شوقین تھا اور یونیورسٹی میں پڑھتا تھا وہ ایم اے فائنل میں تھا۔ بڑا ذہین، ہنس مکھ اور دلیر، انکسار تو کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ کار کے بجائے موٹر سائیکل پر یونیورسٹی جاتا، عام سی جینز پہنتا تاکہ دولت مندی کا اظہار نہ ہو اور نہ مختلف دکھائی دے۔ سوائے کلائی کی قیمتی گھڑی کے کوئی چیز اس کی دولت کی نشاندہی نہ کرتی۔
بیزن بہت دنوں سے پروانہ کے خیالوں میں رہتا۔ پروانہ کو کسی کلاس فیلو کی پروا کب تھی، کتابوںمیں کھوئی رہتی۔ اس کے والد ایک اعلیٰ افسر تھے۔ پروانہ دن بھر نظریاتی مطالعے میں مصروف رہتی۔ ساری فلاسفی پڑھ ڈالی، حتی کہ امریکن فلاسفر جو ناتھن جیمز جیسے رائٹر بھی پڑھ ڈالے جو فلاسفر کم اور پادری زیادہ تھے۔ ورنہ کیا امریکہ اور کیا اس کی فلاسفی! اس ملک کی تہذیبی عمر بھی کیا ہے، یہی کوئی دو ڈھائی سو سال۔ اکثریت تو ان سزا یافتہ ملزمان کی تھی، جو گناہوں کی سزا بھگتنے اس براعظم میں بھیجے گئے تھے، یا وہ حریص جو گولڈرش (سونے کی بہتات) کے چکر میں چلے آتے تھے۔ جان برکلے، اور برٹرینڈرسل کو پڑھ کر اسے یقین ہونے لگا تھا کہ یہ دنیا محض محسوس طلسم ہے، اس لیے وہ ایک مختلف انداز کی زندگی گزارتی۔ لڑکیاں بھی اس سے دور دور ہی رہتیں۔ بیزن نے کئی ماہ تک نہایت شائستگی سے پروانہ کو متوجہ کرنے کی کوشش کی، مگر مسلسل ناکامی نے اسے جرأت رندانہ پر مجبور کردیا۔ ایک روز جب باہر برف جیسی سردی پڑرہی تھی، اور فضا میں ہلکی ہلکی اداسی تھی، وہ بے دھڑک پروانہ کے سامنے آکھڑا ہوا۔ راہداری دور تک ویران تھی اور شیشے سردی سے دھندلے ہورہے تھے۔
پروانہ نے رک کر حسبِ عادت اسی لاتعلقی سے کہا: ’’کیا بات ہے؟‘‘
’’بہت سردی ہے، کنٹین میں چائے پلادیں۔‘‘ بیزن نے نہایت شائستگی سے کہا۔
پروانہ نے ایک گہری نظر ڈالی جس کی طاقت سے بیزن مرتے مرتے بچا۔ پروانہ کو ان آنکھوں میں سچائی اور شرافت نظر آئی، اس لیے اس نے نرم لہجہ اختیار کرلیا۔ ’’کنٹین کھلی ہے، خود جاکر پی لو۔‘‘
بیزن نے راستہ دینے سے انکار کردیا۔ ’’میرے پاس پیسے نہیں، دو روپے دے دیں۔‘‘ پروانہ نے پرس سے دو روپے نکال کر دیے۔ اسی دوران اس کے ہاتھوں سے شیکسپئر کی ضخیم کتاب گرگئی۔ بیزن نے فوراً کتاب اٹھالی اور دو ہاتھوں سے پیش کی جو ہمارے ملک میں شائستگی اور احترام کا انداز ہے۔
’’خدا آپ کو شیکسپئر پڑھنے اور ٹمپسٹ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! … ویسے یہ شیکسپئر یہیں دہلی کا تھا۔ اس کا نام دراصل شیخ پیر تھا، انگریزوں نے بگاڑ کر شیکسپئر رکھ دیا۔‘‘
پروانہ مسکراتی ہوئی آگے بڑھ گئی اور وہ دل تھام کر کینٹین کی ایک کرسی پر جاگرا۔ اس نے روپے کے دو نوٹوں کو بار بار چھوا، سونگھا اور بائیں جیب میں رکھ لیے جہاں دل ہوتا ہے۔
پروانہ کا قد پانچ فٹ چار انچ تھا۔ وہ اکثر اونچی ہیل پہنتی تاکہ کچھ زیادہ چھوٹی نہ لگے۔
اگلے روز اس نے چوتھے پیریڈ کے بعد پھر دست سوال بڑھایا۔ پروانہ کسی اچھے موڈ میں تھی، وہ بے پروائی سے چلتی رہی۔ ’’غریب ملکوں کی طرح کب تک امداد پر چلو گے؟ تمہارا مستقل بندوبست کیوں نہ کردوں؟‘‘
’’شکریہ مس حاتم طائی۔‘‘
’’تمہیں کسی اناتھالیہ (یتیم خانے) میں داخل کردایتی ہوں۔‘‘
’’مگر میرے لواحقین تو زندہ ہیں۔‘‘
’’کیا نام ہے تمہارے والد کا؟‘‘
بیزن ذرا سا ہچکچایا ۔ ’’سیٹھ کنجو لال۔‘‘
پروانہ کے قدم رک گئے۔ ’’اوہ! تم ان کے بیٹے ہو؟‘‘
سیٹھ کی دولت مندی کے قصے مشہور تھے مگر پروانہ دوبارہ نارمل ہوئی۔ ’’تو پارٹ ٹائم جاب کرلو میرے ابو کے پاس۔‘‘
’’میں فل ٹائم جاب کرنا چاہتا ہوں آپ کے ابو کے پاس بطور …‘‘ وہ رک گیا۔
پروانہ نے اسے استفہامیہ نظروں سے دیکھا۔
’’بطور داماد‘‘ اس نے ہمت سے کام لے کر کہہ ڈالا۔
پھر وہ اکٹھے دیکھے جانے لگے۔ پروانہ کے والدین کو بھی اعتراض نہیں تھا۔ مگر پروانہ نے بڑی عجیب سی شرط رکھ دی۔ کباڑ کے یہ استعمال شدہ کپڑے، یہ انسانیت کی توہین ہے۔ پلیز کباڑی بازار بند کرادو۔ میری خاطر یہ کام کردو یہی میری شادی کا تحفہ ہوگا۔‘‘
بیزن نے اگلے ہی روز اپنے کرائے داروں کو بلوایا۔ ان کو آسان زبان میں بات سمجھائی کہ وہ کباڑ کا کاروبار بند کریں ورنہ وہ انہیں اپنی دکانوں سے بے دخل کرادے گا۔ دکاندار اس افتاد پر حیران رہ گئے۔ نئے کاروبار کے لیے رقم چاہی، وہ بیزن نے ان کو مہیا کردی، بالکل غیر مشروط کہ ان کا نیا کاروبار چل نکلے تو قسطوں میں واپس کردیں۔ چونکہ جامع مسجد نزدیک تھی، کچھ دکاندار مصلّے، تسبیحیں اور مسواک فروخت کرنے لگے، بعض پلاسٹک کے برتن اور کھلونے، کچھ نے فلمی ادا کاروں کے بڑے بڑے پوسٹر فروخت کرنے شروع کردیے۔
موسم رنگ بدلتا رہا سردی کی لہر آئی، جس سے کچھ بچوں کو نمونیا ہوگیا۔ ایک ہفتے بعد کئی مزدور سردی لگنے سے بیمار پڑگئے۔ چند روز کے بعد تین بوڑھے اور آٹھ بچے سردی کے ہاتھوں ہلاک ہوگئے۔ شہر میں سردی سے ہونے والے نقصانات بڑھنے لگے۔ مزدوروں نے دھواں دھار تقاریر شروع کردیں۔ چند فیکٹریوں میں ہڑتال ہوگئی۔ ریڑھی بانوں نے گورنر ہاؤس کا گھیراؤکرلیا۔ ہرجانب ایک شور اور ہنگامہ مچ گیا۔ تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ شہری زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ صنعتی امن خطرے میں پڑگیا۔ سرکاری ملازمتوں کانچلا طبقہ بھی سڑکوں پر نکل آیا۔ جب تمام شہر درہم برہم ہورہا تھا۔ اچانک غیر ملکی دورے سے صنعت و تجارت کے وزیر موصوف واپس آئے۔ اس نے برنس کلاس کی بپتا سنی، مزدور لیڈروں سے ملاقات کی اور اسی شام بند کمرے میں ایک اجلاس طلب کیا۔ موقع کی نزاکت کے پیشِ نظر اعلیٰ حکام نے بھی بند کمرے کے اجلاس میں شرکت کی۔ لوگو ںکا خیال تھا کہ وزیر صنعت و تجارت بہت لمبی تقریر کرے گا اور نکات پیش کرے گا مگر اس نے اٹھ کر محض ایک فقرہ کہا: ’’سب ہنگامہ کباڑی بازار بند کرنے کی وجہ سے ہورہا ہے۔ میں نے حالات کاتجزیہ کیا ہے۔ فوری طور پر کباڑی بازار کھول دیں۔‘‘ سیٹھ کنجو لال اور اس کے حواری احتجاج کرنے لگے۔ میں نے جو کچھ کیا، انسانیت کے مفاد میں کیا ہے۔ تم پہنو گے یہ ایڈز زدہ کپڑے؟‘‘ سیٹھ نے کہا۔
سیٹھ اور ان کا گروپ بطور احتجاج واک آؤٹ کرنا چاہتا تھا مگر انھوں نے سمجھا بجھا کر انہیں بٹھا دیا۔
وزیر نے دوبارہ خطاب شروع کیا: ’’بھائیو اور بزرگو! دنیا میں دوقومیں ہیںحاکم اور محکوم۔ سرکش شیر کو پیٹ بھر کر کھانا دیں تو مداری کے اشاروں پر نہیں چلے گا، پنجرہ توڑ ڈالے گا۔ کھانا بند کردیں تو مرجائے گا۔ اسے درمیانی کیفیت میں رکھنا بھی فن ہے۔ یہی بنی نوع انسان کی تاریخ ہے۔ کباڑ کے کپڑے بھی نہ ملے تو عوام ہمارے محلوں کو آگ لگادیں گے۔ انہیں زندہ رکھو، دو روپے میں کمبل اور کوٹ خریدنے دو۔ اس کے بچے کباڑ کے کپڑوں میں زندہ رہیں گے تو وہ تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر صابر و شاکر رہے گا اور ہماری خدمت کرے گا، جیسا کہ ہزاروں برس سے کررہا ہے ورنہ بغاوت پر اتر آئے گا اور ہمارے محلوں کو پھونک ڈالے گا۔ اسے اور اس کے بچوں کو زندہ رکھو۔‘‘
کمرہ تالیوں سے گونج اٹھا۔ سرمایہ داروں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو جھلملانے لگے۔ سیٹھ نے بڑھ کر وزیر سے ہاتھ ملایا، اس کی آنکھوں میں مسرت کے آنسو تھے۔
اگلے روز کباڑی بازار کھول دیا گیا۔ گاڑیاں اعلان کرتی پھر رہی تھیں کہ سردی کے پیش نظر کباڑ کا تمام سامان سیٹھ کنجو لال مفت تقسیم کریں گے۔ انبوہ ٹوٹ پڑا۔ کباڑی بازار میں تل دھرنے کی گنجائش نہ تھی۔ لوگ سیٹھ کے گن گا رہے تھے۔ لوگوںنے بیزن کی گاڑی پر پتھراؤ بھی کیا اور نعرے لگائے: ’’سامراج کا پٹھو، ہائے ہائے۔‘‘
بیزن نے چند روز بعد ڈرتے ڈرتے پروانہ کو فون کیا: ’’میں بھی تم سے ملنا چاہتی ہوں آخری ملاقات! میںایک بزدل اور کمزور انسان سے شادی نہیں کرسکتی۔‘‘ اور فون بند ہوگیا۔
بیزن بہت دیر تک ریسیور تھامے خاموش کھڑا رہا۔ ان چند دنوں میں وہ پروفیسروں سے مل کر اپنا ڈیفنس تیار کررہا تھا۔
پروانہ یونیورسٹی کینٹین میں اس کا انتظار کررہی تھی۔
’’میں بے بس ہوگیا ہوں۔ پوری بزنس کلاس خطرے میںتھی۔‘‘
’’بولو چپ کیوں ہوگئے؟ تم تو بڑی اچھی تقریر کرتے ہو۔‘‘
’’میں کہہ رہا تھا کہ ہمارے سارے ادبی، سیاسی، سماجی، معاشی نظریات بھی تو غیر ملکی اترن ہیں۔ ہمارے نظریات یہودی لابی کنٹرول کرتی ہے۔ فرائیڈ، کارل مارکس، روسو اور میکیاولی کے نظریاتی چیتھڑے ہماری انٹلکچوئل کلاس کا لباس ہیں۔ ہمارے نقاد غیر ملکی بیساکھیوں کے بغیر چل نہیں سکتے۔ یہ ناول، یہ ڈرامہ، یہ سب بھی تو غیر ملکی ادب سے ہم نے لیا ہے۔ ہمارے کئی ادیبوں نے ثابت کیا ہے کہ ہمارے بڑے بڑے ادیبوں نے دوسروں کے پرانے نظریات و خیالات کو اپنا کر اپنا نام اونچا کیا ہے۔ برگساں، کانٹ، نطشے سب وہیں کے ہیں۔ اپنا کیا ہے؟ ہمارا سب کچھ کباڑی بازار ہے۔ ہمارے ذہن میں بھی فرسودہ نظریات کے کباڑی بازار ہیں۔‘‘
اس کے ہونٹ خوش ہوگئے، وہ ہار چکا تھا۔
پروانہ نے حقارت آمیز مگر دبے لہجے میں کہا: ’’یہ رائے تمہاری اپنی حد تک درست ہے۔‘‘
اس نے کتابیں سمیٹیں، میز پر ایک نوٹ پھینکا اور کینٹین سے نکل گئی۔ ہیل کی ٹک ٹک آج بیزن کے سر پر ہتھوڑے کی طرح برس رہی تھی۔





