’’اماں میں تنگ آگیا ہوں… عذاب ہے اِس ملک میں رہنا۔‘‘ اسکول سے آتے ہی جیرے نے اپنا بیگ زمین پر پٹخا۔
’’کیوں کیا ہوا؟‘‘ اس کی ماں نے باورچی خانے سے جھانکتے ہوئے دیکھا اور پوچھا: ’’اور بھی کچھ رہتا ہے ہونے کے واسطے!‘‘ جیرے نے پاؤں سے موزے اتارتے ہوئے کہا: ’’ویسے باہر ممالک کے لوگوں کو ہمارے لیے بھی کوئی ایوارڈ بنانا چاہیے۔‘‘ ’’کیسا ایوارڈ کاکے؟‘‘ آپی نے کمرے سے باہر آتے ہوئے پوچھا جو کافی دیر سے دونوں ماں بیٹے کی گفتگو سن رہی تھیں۔
’’ایوارڈ تکلیفیں برداشت کرنے کا… بجلی آئے تو پانی غائب، پانی آئے تو بجلی غائب… کبھی یہ ٹینشن تو کبھی وہ ٹینشن۔‘‘جیرے نے حالِ دل سناتے ہوئے کہا۔
’’ویسے کاکے تو صحیح کہہ رہا ہے، ’لکس اسٹائل ایوارڈ‘ کی طرح ’لکس برداشت ایوارڈ‘ بھی ہونا چاہیے۔ لیکن سارے ایوارڈ تو ہم ہی جیت جائیں گے۔‘‘ آپی نے بھی جیرے کی تائید کرتے ہوئے کہا۔
یہ کہانی ہے ایک غریب گھرانے کی ہے، جہاں روز ہی اس قسم کی یعنی ملکی حالات درست کرنے، تو کبھی اپنے حالات درست کرنے سے متعلق بحث چلتی رہتی ہے۔ اس گھر میں دو بہن بھائی اور ایک غریب ماں رہتی تھی۔ یہ گھرانا تین افراد پر مشتمل تھا، جو ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی تھے۔ والد کی وفات کے چند ماہ پہلے ایک بم دھماکے میں ہوئی۔ اس کے بعد سے آپا صفیہ گھر کا سارا کام کرتیں، کپڑے دھوتیں، برتن مانجھتیں، صفائی، جھاڑو، پوچھا اور شام کو ٹیوشن پڑھاتیں۔ نصیباں اپنے برے نصیبوں کے سائے تلے صبح روز کوٹھیوں کا رخ کرتی۔ صفائی او رکپڑے دھونے سے جو آمدنی ہوتی اس سے گھر کا اور جیرے کی پڑھائی کا خرچ چل رہا تھا۔
’’آپا…‘‘ جیرے نے اپنی بہن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’کیا ہوا کاکے نیند نہیں آرہی؟ سوجا صبح اسکول بھی جانا ہے۔‘‘ آپا جو خودبھی سونے کی ناکام کوشش کررہی تھیں، جیرے سے کہنے لگیں ’’سوجاؤں گا پر بجلی بھی تو آئے…‘‘ جیرے نے اپنے منہ پر سے مچھر اڑاتے ہوئے کہا۔ ’’آپا جب تم چھوٹی تھیں تب بھی اسی طرح بجلی چلی جایا کرتی تھی؟‘‘
’’ہاں…‘‘ آپا نے جان چھڑاتے ہوئے کہا۔ ’’جب اماں چھوٹی تھیں تب بھی؟‘‘ جیرے نے معصومیت سے ایک اور سوال کرڈالا۔ ’’دیکھ جیرے دماغ نہ کھا اور سوجا، پہلے ہی سر درد کے مارے پھٹا جارہا ہے، ٹیوشن پڑھنے والے بچوں نے میرا دماغ خالی کردیا ہے۔‘‘ آپا جھنجھلاتی ہوئی بولیں۔
جیرا خاموش ہوگیا اور آسمان پر موجود ستاروں کو تکنے لگا۔ آپا نے خاموشی سے اٹھ کر جیرے کی طرف دیکھا کہ شاید سوگیا مگر… دوسری چارپائی پر نظر پڑی تو اماں بے خبر پڑی سورہی تھیں، اس بڑھاپے میں اتنا کام بھی تو کرتی ہیں، تھک گئی ہوں گی۔ مجھے جیرے کے سوالوں کا جواب دینا چاہیے، اسے سمجھانا چاہیے، اس چھوٹے سے دماغ میں اتنے سارے سوالات کہیں آتش فشاں کی طرح پھٹ نہ پڑیں۔‘‘صفیہ آپا اپنے آپ کو سمجھانے لگیں۔
’’جیرے سو گیا تو…؟‘‘ ’’نہیں تو…‘‘ جیرے نے ستاروں کو تکتے ہوئے جواب دیا۔ ’’کیا سوچ رہا ہے؟‘‘ آپا نے پوچھا ’’وہی کہ تم چھوٹی تھیں تب بھی ملک کی یہی حالت تھی، ہم تب بھی غریب تھے۔ اماں چھوٹی تھیں تب بھی حالات ایسے ہی تھے، ایک ایک روٹی کو ترستے تھے۔ آخر حالات کب بدلیں گے؟ ملک میں سب برابر کیوں نہیں ہیں؟ اماں شانی کے گھر کام کرتی ہیں۔ شانی اتنے اچھے اسکول میں پڑھتا ہے، تو پھر میں کیوں نہیں… ان کے گھر تو آپا پتا ہے بجلی بھی نہیں جاتی، وہ ایک موٹر سے لگا لیتے ہیں اور مزے سے رہتے ہیں، اس کی اماں تو آٹے کے لیے بھی پریشان نہیں ہوتیں، وہ تو روٹیاں اپنے ٹومی کو کھلا دیتی ہیں،دیکھو آسمان پر ستارے بھی تو ایک جیسے ہیں ناں… تو پھر ہم انسان کیوں نہیں…؟ آپا تم سن رہی ہو نا…‘‘ اور آپا نہ جانے کب نیند کی وادیوں میں پہنچ گئی تھیں۔ ویسے بھی ان کے پاس جیرے کے سوالوں کا جواب نہ تھا۔
’’ارے واہ آج ناشتے میں انڈا پراٹھا!اور یہ میرے لیے بوٹ …واہ واہ …اور میرا نیا بیگ… اور یہ اماں آج کام پر نہیں گئیں کیا…‘‘
’’کام پر جانا چھوڑ دیا اماں نے۔‘‘ آپا بھی دھیرے دھیرے مسکرا رہی تھیں۔ جیرے نے جھٹ پٹ ناشتہ ختم کیا، تیار ہوا اور اسکول کے لیے نکل پڑا۔
’’ارے یہ میں کہاں آگیا…‘ یہ ساری سڑکیں صاف… کوئی گندگی، کوئی کیچڑ نہیں، آج تو استاد سے مار پڑے گی، سبق جو یاد نہ تھا… اور سارے لوگ خاموش کیوں ہیں…‘‘
کوئی بس میں جھگڑ نہیں رہا، کنڈیکٹر نے خاموشی سے آدھا کرایہ لیا اور ایک طرف ہوگیا۔ میرے مالک!… یہ کیا سماں ہے؟ میں کہاں آگیا ہوں…؟ ’’ارے شانی تو بھی بس میں اسکول جارہا ہے…؟ تو تو اپنے پاپا کے ساتھ جاتا تھا ناں…؟ آج پھر بس میں…؟ آج تو ماسٹر جی نے بھی نہیں مارا، بڑے پیار سے پڑھایا۔‘‘
اسکول میں بھی وہ سارا دن حیرت زدہ رہا۔ گھر پہنچا، ہاتھ منہ دھویا، یونیفارم تبدیل کیا، آپا کھانا لگارہی تھیں۔ ڈونگے کا ڈھکن اٹھاتے ہی منہ سے چیخ برآمد ہوئی: ’’مرغی… اماں آج مرغی پکی ہے۔ ہائے میں تو جم کر کھاؤںگا۔‘‘ کھانا سیر ہوکے کھایا تو خیال آیا کہ آج صبح سے لائٹ نہیں گئی… اور آج محلے میں کوئی لڑائی بھی نہ ہوئی۔ پرانا ٹی وی لگایا تو خبریںہیں کہ امن کا گہوارہ محلے کی مسجدیں نمازیوں سے بھر گئیں، کوئی فقیر سڑک پر نظر نہ آیا۔‘‘
’’جیرے جیرے… اٹھ ساڑھے سات ہوگئے، رات بھر اوندھے سیدھے سوالات کرتا رہا اور صبح اسکول جانے کا ہوش نہیں نکمّے…‘‘اماں کا زور دار تھپڑ پڑتے ہی جیرا واپس اپنی دنیا میںآگیا… وہی پرانے بوٹ، وہی بستہ، وہی اماں… ’’چلو حالات خواب میں سہی، بدلے تو …میں کوشش کروں گا اندھیرے میں روشنی بننے کی… میں حالات ممکنہ حد تک تبدیل کرنے کی کوشش کروں گا… میں جس جس دائرے میں اپنی کوئی سی بھی حیثیت رکھتا ہوں، میں وہاںرات کے تارے کے طرح دمکوں گا… ہاں… میں…‘‘ دل میں مضبوط ارادہ کرتے ہی جیرا اسکول کے لیے تیار ہونے لگا۔





