گھر کا بسانا کھیل نہیں!

سنا ہے نجمہ کی بیٹی کی طلاق ہوگئی!‘‘

دوسری طرف سے آواز آئی ’’ہاں بھئی اب تو ایسی ہی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ طلاق کیا اب تو خلع بھی عام ہوگئے ہیں۔ لڑکیاں اتنی دلیر ہوگئی ہیں کہ عدالت پہنچ کر خلع طلب کرنے لگی ہیں۔ اب تو وہ بہت خوش قسمت گھرانے ہیں جن کی بہو بیٹیاں عزت اور محبت سے نباہ کررہی ہیں۔‘‘

ایک محفل کی عورتوں کی یہ گفتگو ایک حقیقی کہانی ہے۔ اس نسل میں یہ اتنا زیادہ کیوں ہورہا ہے کہ ہر محفل کی عورتوں کا یہ گرماگرم موضوع ہوتا ہے۔

اس نسل سے صرف ایک نسل پہلے مڑکر دیکھیے۔ شادیاں جب بھی ہوتی تھیں اپنوں میں بھی، پرایوں میں بھی، مزاج کے اختلافات ہونا ایک فطری بات ہے، بہت زیادہ نہیں تو کسی حد تک تو یہ ایک ضروری سی بات ہے، لیکن طلاق اور خلع کو بہت معیوب سمجھا جاتا تھا اور اس کی شرح بہت کم تھی۔ مزاج کا اختلاف تو سگے بھائی بہنوں میں بھی ہوتا ہے جو ایک گھر میں، ایک فضا میں، ایک جیسا ڈی این اے لے کر پیدا ہوتے ہیں اور پرورش پاتے ہیں، تو پھر میاں بیوی تو دو الگ الگ گھروں سے آتے ہیں، جن کے رہن سہن اور قدروں میں بھی فرق ہوسکتا ہے۔

بعض گھرانوں میں ماں باپ کا بہت زیادہ رعب ہوتا ہے، یا دوسرے الفاظ میں بہت احترام کیا جاتا ہے، جب کہ بعض گھرانوں میں ماں باپ سے دوستانہ رشتہ ہوتا ہے۔ دونوں طریقے بہت اچھے ہیں، لیکن بہرحال الگ الگ ہیں۔ دو سگی بہنوں کے یہاں، بیاہ جانے کے بعد، اپنے اپنے گھر کا طور طریقہ الگ ہوجاتا ہے۔

گھروں کو توڑنے والے منفی رویّے کو ختم کرنے کے لیے دو طرفہ کوشش ضروری ہے۔ لڑکی جو بیاہ کر نئے گھر میں آئی ہے اْس کے شوہر اور ساس سسر کے ساتھ محبت اور نرمی کا رویہ رکھنا چاہیے اور اس کو وقت دیا جانا چاہیے کہ وہ خود کو نئے ماحول میں ڈھال لے۔ شروع ہی سے اس پر اعتراضات کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ دوسری طرف لڑکی اور اْس کے گھر والے سمجھ دار ہیں تو ان شاء اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا اور ایک نیا خوش گوار گھرانہ جنم لے گا۔

عورتیں بھی ماشاء اللہ بہت اچھی تجزیہ نگار ہوتی ہیں۔ زیور اور کپڑوں کے علاوہ اب اس تیزی سے بڑھتے ہوئے المیے پر بھی بات ضرور ہوتی ہے۔ ان تجزیہ نگاروں نے جو بالکل عام گھریلو عورتیں ہیں، کوئی فلسفہ نگار نہیں، اس ’’نئی بیماری‘‘ کے جو اسباب بتائے وہ تین ہیں، پہلا سبب ہے موبائل فون، جس کی وجہ سے پل پل کی خبر اِدھر سے اْدھر جاتی ہے، یعنی سسرال سے میکے۔ ماں پوچھتی ہے کہ کہو کیا حال ہے، کیسی گزر رہی ہے، اور ادھر بیٹی شکایتوں کے دفتر کھول دیتی ہے جس میں بہت سی باتیں صرف گمان پر مبنی ہوتی ہیں، حقیقت نہیں۔ ادھر ماں کی محبت جوش مارتی ہے اور نصیحتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ نصیحتیں یہ نہیں ہوتیں کہ بیٹا اپنے سسرال والوں اور شوہر کی اچھی باتوں اور اچھے پہلوئوں پر نظر ڈالو، سو فیصد کوئی اچھا نہیں ہوسکتا، نکاح ایک مقدس رشتہ ہے، اللہ اور رسولؐ کا نام بیچ میں ڈال کر تمہیں وہاں بھیجا گیا ہے، اگر کوئی بات تمہیں بری بھی لگی ہے تو برداشت کرنا سیکھو، بہت جلد وہ لوگ تمہارے گن گانے لگیں گے۔

دوسرا سبب جو تجزیہ نگاروں نے بتایا، یہ ہے کہ لڑکیوں کی پڑھائی نے انہیں خودمختار بنادیا ہے۔ وہ سوچتی ہیں کہ ہم کیوں اس طرح دب کر رہیں؟ ہم خود کماکر کھا سکتے ہیں اور اگر اولاد ہے تو اس کو بھی کھلا سکتے ہیں۔ تعلیم بہت اچھی چیز ہے، نعمت ہے، دماغ کھولتی ہے، دین کا علم بھی دیتی ہے، لیکن یہی تعلیم اگر کسی کا دماغ خراب کردے اور گھر بسانے کے بجائے اجاڑنے کی ترغیب دے تو اسے کیا نام دیا جائے! ویسے آج کل تو بے پڑھی لکھی لڑکیوں میں بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر والدین کے گھر بیٹھنے کا رواج شروع ہوگیا ہے۔ ’’خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے‘‘ والی کہاوت صحیح ثابت ہورہی ہے۔ اس نسل سے پہلی والی نسل میں بھی لڑکیاں پڑھی لکھی ہوتی تھیں، پھر اْن کی تعلیم نے اْن پر ایسا اثر کیوں نہیں چھوڑا؟ اس لیے کہ غالباً اْس وقت کے والدین کی تربیت یہ تھی کہ دوسرے گھر جاکر لڑکی کو جھکنا چاہیے۔ شوہر، ساس، سسر اس سے رشتے میں بڑے ہوتے ہیں، اور بڑوں کے آگے جھک جانا ہی خوبی میں شمار ہوتا ہے۔ یعنی نتیجہ یہ نکلا کہ نئی نسل کی غلطی میں والدین بھی برابر کے شریک ہیں جنہوں نے تعلیم تو دلوا دی لیکن تربیت دینے میں صفر رہے کہ لڑکی اپنا گھر بسا سکے، بلکہ اس کو الٹا صرف اپنی تعلیم پر ناز کرنے والا بنادیا۔

تیسرا سبب جو تجزیے سے سامنے آیا، وہ یہ ہے کہ اس نئی روش کا ذمہ دار ہمارا ٹی وی اور اس کے پروگرام ہیں۔ ٹی وی کی ہر لڑکی بنی سنوری ہوتی ہے اور اچھی لگتی ہے۔ لڑکیوں کی جس عمر میں شادیاں ہوتی ہیں انہیں بھی بننا سنورنا، اچھے سے اچھا فیشن والا لباس پہننا اچھا لگتا ہے، اور یہ سبق ان کو ٹی وی بہت اچھے طریقے سے سکھاتا ہے۔

آج سے پندرہ بیس سال پہلے ٹی وی ڈرامے اچھے الفاظ، مہذب طور طریقے سکھانے والے اور اصلاحی ہوا کرتے تھے۔ ان ڈراموں میں ماں باپ اور ساس سسر کی عزت کرنا سکھایا جاتا تھا۔ آج کے ڈراموں میں نئی تہذیب کی چھاپ ہے جو مغرب سے متاثر ہے۔وہی لباس، وہی رشتوں کو کوئی اہمیت نہ دینا وغیرہ وغیرہ۔

آج کی نسل اس لیے نڈر ہے کہ اسے سوشل میڈیا استعمال کرنا آتا ہے۔ وہ وہیں سے اچھا یا برا کیا ہے، سیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یعنی جہاں کوئی مسئلہ ہوا، گوگل بھائی سے رائے لے لی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچوں کو شروع سے ہی اس طرح پالا جاتا ہے کہ دنیاوی تعلیم پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے، اور سوچ لیا جاتا ہے کہ وقت آنے پر ان کو دین کی ضروری معلومات خودبخود ہوجائیں گی۔ دراصل یہی سب سے بڑی غلطی ہے۔ تعلیم آج کل کی ضرورت ہے اور عزت کا باعث بھی… لڑکی کی شادی میں بھی اس تعلیم کا بڑا دخل ہے۔ لیکن تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین سکھانا بھی بہت ضروری ہے۔ لڑکی کو مخلوط تعلیم سے دور رکھا جائے تو بہت ہی اچھا ہے، لیکن کم از کم دین تو سکھایا جائے۔

دین کی تعلیم لڑکی کو اپنے شوہر اور اْس کے ماں باپ کی عزت اور خدمت کرنا سکھاتی ہے۔ دنیاوی تعلیم میں دینی تعلیم کا جزو شامل ہونا چاہیے۔ آج کل نصاب سے اخلاقیات اور دین کو نکالا جارہا ہے، حالانکہ دینی تعلیم اور حسن اخلاق زندگی کے ہر شعبے میں بہتر طریقے سے زندگی گزارنا سکھاتے ہیں۔ یہ سب باتیں مشکل ضرور ہیں لیکن ناممکن نہیں۔

دعا ہے کہ اللہ ہماری بیٹیوں کو بھی اچھی بیویاں، اچھی بہوئیں اور اچھی مائیں بنائے تاکہ وہ اپنی آنے والی نسل کو بھی صحیح راہ دکھا سکیں، آمین۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر زرینہ