خوش گوار ازدواجی زندگی کوئی مادی شئے نہیں ہے کہ اسے اس کے حجم، اس کی شکل، اس کی خوش بو اور اس کے رنگ سے پہچانا جاسکے۔ اگرچہ بعض لوگوں نے اس کو گلابی رنگ سے تعبیر کیا ہے لیکن دراصل خوش گوار ازدواجی زندگی نام ہے راحت و سکون کے شعور و احساس کا۔ اور یہ شعور و احساس ازدواجی زندگی کے دو بنیادی ستونوں شوہر اور بیوی کے درمیان مشترک ہے۔ اس خوش گوار زندگی کی طرف جانے والا راستہ کون سا ہے؟

پہلا پڑاؤ ’’حسنِ آغاز‘‘

خوشگوار ازدواجی زندگی کی طرف جو راستہ جاتا ہے وہ ایسے راستے کی طرح ہے جس میں مختلف پڑاؤ ہوں۔ اس راستے کا پہلا پڑاؤ حسنِ آغاز ہے۔

حسنِ آغاز سے میرا مقصد یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے کسی بھی کام کا آغاز اچھے انداز سے کرے اور ایسی چیز کے ساتھ پیش قدمی کرے جو تعلیمات شریعت کی روشنی میں بھی ہو اور بیوی کی محبت کو بڑھانے والی ہو۔ ’شوہر‘ بھائی مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کا ایک عملی نمونہ پیش کروں۔ شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ ان بہت سی شکایات کا مداوا کردے جو بیویوں کی جانب سے اکثر سننے میں آتی ہیں۔ اکثر بیویاں اس بات پر پریشانی اور تکلیف کا اظہار کرتی ہیں کہ ان کے شوہر لٹکا ہوا چہرہ اور شکن آلود پیشانی لیے گھر میں داخل ہوتے ہیں اور ان کے چہرے پر 111لکھا ہوتا ہے۔ ترش روئی کی تعبیر کے لیے یہ عام معروف نمبر ہے۔ یہ درست ہے کہ زندگی اپنے انجام، ذمہ داریوں، پریشانیوں اور پیچیدگیوں کی وجہ سے اسے مجبور کردیتی ہے۔ بیویوں کی بہت سی غلطیاں یا ان کے بعض کام بھی شوہروں کے لیے تنگی کا سبب بن جاتے ہیں، لیکن ایک شوہر یہ استطاعت رکھتا ہے کہ وہ حکمت کا طریقہ اختیار کرکے اور اپنے دین کی ہدایت کو اپنا کر اس تنگ نائے سے بہ آسانی گزر سکتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں ہوں تو وہ اپنے گھر کو سعادت و خوشی کا گہوارا بناسکتا ہے۔

حسنِ آغاز کے تین عملی ہتھیار ہیں یا یہ کہیے کہ نقشہ عمل تین ضروری کاموں پر مشتمل ہے:

۱- مسکراہٹ اور خندہ پیشانی

سرور کائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت یہ ہے کہ ’’اپنے بھائی کے لیے تمہارے چہرے پر مسکراہٹ کا آنا صدقہ ہے۔‘‘ (ترمذی) اب دیکھئے کہ آپ کا اپنی بیوی کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ جب کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات پر ابھارا ہے:

’’ مسکراہٹ اور تبسم ہمارے چہرے پر عیاں رہے۔ وہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’تم میں بہتر شخص وہ ہے جو اپنے بیوی بچوں کے لیے بہتر ہے اور میں اپنے اہلِ خانہ کے لیے تم سب میں بہتر ہوں۔‘‘ چناںچہ بیوی کے ساتھ مسکراتے چہرے کے ساتھ ملنے کے معاملے میں ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرنی چاہیے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ مسکرانے والے اور خوش مزاجی شخص تھے، جیسا کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصف بیان کیا ہے۔ بلکہ ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم صرف اپنے صحابہ کے ساتھ ہی ہنستے مسکراتے نہیں تھے بلکہ اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ بھی خوب ہنستے اور مسکراتے تھے۔ کیا ایک مسلمان شوہر کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنی ہنسی اور مسکراہٹ کے تحفے عام لوگوں میں تو تقسیم کرتا پھرے اور اپنی بیوی کو اس نعمت سے محروم رکھے؟!

شوہر بھائی! آپ اپنے آپ سے پوچھیے کہ ترش رو لوگوں کو عام لوگوں سے نفرت اور کراہیت کے سوا کیا ملا؟ اس کے برعکس خوش مزاجی اور مسکراتے رہنے والوں کو کتنی خوشی اور مسرت و راحت ملتی ہے۔ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی شگفتہ مسکراہٹ جو پورے چہرے پر پھیل جائے، ایک گھنے سایے کی مانند ہوتی ہے جہاں آپ کی بیوی اپنے آپ کو سمیٹ کر اس کی پناہ میں آجاتی ہے اور اسے خوشیوں سے، انس محبت اور سکون سے مالا مال کردیتی ہے۔ اس لیے آپ اپنی بیوی کے لیے مسکراتے رہنے والے اور خوش مزاج شوہر بنے رہیے، ترش رو اور بدمزاج مت بنئے۔

سلام کرنے میں پہل کیجیے

خزانۂ نبوت کے آبگینوں میں سے ایک آبگینہ اور زریں نصیحتوں میں سے ایک نصیحت وہ ہے جو نبی کریمؐ نے اپنے خادم حضرت انسؓ کو فرمائی تھی: ’’اے انس! جب تم اپنے گھر میں داخل ہو تو اہلِ خانہ کو سلام کرو۔ تمہارا سلام تمہارے لیے اور گھر کے لیے برکت بن جائے گا۔‘‘

۳- بیوی اور بچوں سے مصافحہ

مصافحہ کرنے سے انگلیاں ملتی ہیں اور دو ہاتھ ایک ساتھ جڑ جاتے ہیں، دو قلب یک جان ہوجاتے ہیں، جذبات و احساسات کا امتزاج ہوتا ہے اور محبت میں شفافیت آتی ہے، محبت کی شعاعیں پھیلنے لگتی ہیں، رحمت کانزول ہوتا ہے اور برکت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مصافحہ وہ پٹّی ہے جو زخموں کو ڈھانپ لیتی ہے، دراڑوں کو بھردیتی ہے، دلوں کو پاکیزہ بنادیتی ہے، ٹوٹے ہوئے حصوں کو جوڑ دیتی ہے۔

دوسرا پڑاؤ

’’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمۂ طیبہ کی کس چیز سے مثال دی ہے؟ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی قسم کا درخت، جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں، ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے۔ یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ ان سے سبق لیں۔‘‘(ابراہیم: ۲۴،۲۵)

حبیبِ خداؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ الکلمۃ الطیبۃ صدقۃ (اچھی بات کہنا صدقہ ہے۔) اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ اچھی بات / گفتگو آپ کی خوش گوار ازدواجی زندگی کی مستقل بنیاد بن جائے تو آپ کو یہ چند چیزیں کرنی ہوں گی:

۱- اپنی بیوی سے نرمی کے ساتھ گفتگو کرنے کی عادت ڈالیے، کیونکہ عورت کا اپنا الگ مزاج ہوتا ہے، اس مزاج کے مطابق نرم گفتگو ہی اس کو متاثر کرتی ہے۔ محبت بھرے جملے، اس کے حسن، خوبصورتی اور اس کی تعریف سے اس کو خوشی حاصل ہوتی ہے۔

۲-اپنی بیوی کو اس کے پسندیدہ ناموں سے پکاریے۔ مثال کے طور پر اکثر لوگ اجتماعی و معاشرتی رواج کی وجہ سے اپنی بیوی کو مثلاً عبداللہ کی ماں، یعنی اپنے بڑے بیٹے کے نام سے پکارتے ہیں حالاںکہ بیوی کا نام ’مروہ‘ ہے۔ کبھی اسے ’حجّن‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں حالاںکہ عورت کا حال یہ ہے کہ خواہ اس نے سات بار حج کیا ہو اور عمر ستّر سال سے متجاوز ہوچکی ہو، اس وقت بھی اس نام کو وہ اپنے لیے زیادہ عمر کا اظہار سمجھتی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے مزاج اور ان کی طبیعت سے بڑی اچھی طرح واقف تھے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیویوں کو خوش نما ناموں سے پکارنے پر ابھارا ہے۔

۳- انھیں ایسے ناموں سے بلائیے جن سے ان کی صفات کا اظہار ہوتا ہو۔ چناںچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نام کو مختصر کرکے بلاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ’’یا عایش‘ کہہ کر بلاتے۔ آپ یہ ہرگز نہ سوچیں کہ ایسا کرنے میں مسلمان شوہر کا وقار اور اس کی شخصیت مجروح ہوجائے گی۔ کیا دنیا میں کوئی ایسا شخص ہے جس کی شخصیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت سے زیادہ قوی اور باوقار ہو؟

۴- شوہر حالت سفر میں ہو تو اس کے لیے مذکورہ بالا وسائل اختیار کرنے کی زیادہ گنجائش نہیں رہتی جب تک کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں کو دوبارہ اکٹھا نہ کردے۔ لیکن جدید وسائل ابلاغ مثلاً ای میل، موبائل وغیرہ بہت سے ایسے وسائل ہیں جن کو اپنے جذبۂ شوق کے اظہار اور روابط و تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان کے ذریعہ ایک دوسرے کو محبت بھرے جملے اور خواہشات پہنچائی جاسکتی ہیں۔ ان وسائل کا استعمال حالت سفر کے علاوہ حالتِ قیام میں بھی کرسکتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سمیر یونس، ترجمہ: تنویر آفاقی