رسوم و رواج بھی گناہ میں شامل ہیں

بہت سے گناہ ایسے ہیں کہ جن کی طرف آج کل خیال بھی نہیں جاتا، بلکہ چھوڑنے سے جی برا ہوتا ہے۔ او ریوں تو گناہ سب ہی برے ہیں، لیکن ایسے گناہ زیادہ خطرناک ہیں جو عموماً عادت اور رواج میں داخل ہوگئے ہوں، کیوں کہ طبیعتیں ان سے مانوس ہوگئی ہیں حتی کہ ان کی برائی ذہن سے دو رہوگئی ہے ان کے چھوٹنے کی کیا امید ہوسکتی ہے، آدمی چھوڑتا ہے اس چیز کو جس کی برائی خیال میں ہو۔ اور جس چیز کی برائی ذہن سے نکل جاتی ہے پھر اس کو کیوں چھوڑنے لگا۔

یہ وہ حالت ہے جس کو موت قلب کہتے ہیں اس کے بعدتوبہ کی بھی کیا امید ہے۔ کیوں کہ توبہ کی حقیقت ہے ندامت یعنی پشیمانی، اور پشیمانی اس کام سے ہوا کرتی ہے جس کی برائی ذہن میں ہو او رجب گناہ دل میں ایسا رچ گیا کہ اس پر فخر کرتے اہیں تو پھر پشیمانی کہاں۔

ان (رسوم) نے ایسا رواج پایا ہے جیسے سالن میں ہلدی، مصالح، نمک کہ ان کے بغیر سالن بنتا ہی نہیں حتی کہ جو لوگ مرچ زیادہ کھاتے ہیں ان سے کوئی ماہر طبیب بھی کہے کہ مرچ میں یہ نقصان ہے تو کبھی ان کا دل قبول نہ کرے گا او ریہی جواب دیں گے کہ میاں طب کو رہنے دو تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے ساری عمر کھاتے ہوگئی کوئی بھی نقصان نہیں ہوا اور بے مرچ کے لطف ہی کیا۔

اسی طرح مسلمان غیر قوموں کی صبحت سے رسموں کے ایسے خوگر ہوگئے ہیں کہ بلا ان کے کسی تقریب (شادی) میں لطف ہی نہیں آتا، چاہے گھر ویران ہی ہوجائے۔ لیکن یہ نہ قضا ہوں۔ اصل یہ ہے کہ اعتقاد میں ان کا معصیت اور گناہ ہونا ہی نہیں رہا حتی کہ اگر کوئی رسم رہ جاتی ہے تو مرتے مرتے وصیت کر جاتے ہیں۔

کیسا حس باطل ہوا ہے جب کسی کو پاخانہ میں خوشبو آنے لگے تو کیا تعجب ہے کہ مہمانوں کے سامنے بجائے کھانے کے غلیظ (پاخانہ) کو رکھ دے مگر یاد رکھئے کہ مہمانوں کا حس باطل نہیں ہوا، آپ کے بے حس ہو جانے سے معصیت طاعت نہیں بن جائے گی۔ خدا تعالیٰ کے یہاں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگا یہ حالت بہت اندیشہ کی چیز ہے کہ معصیت کا برا ہونا بھی ذہن سے اٹھ جائے۔

پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ گناہ کیا چیز ہے، گناہ کی حقیقت ہے خدا کے احکام کو بجا نہ لانا، آپ نے جو فہرست گناہوں کی بنائی ہے اس میں بہت سی کوتاہیاں ہیں۔ شریعت کی دی ہوئی فہرست میں او ربھی گناہ ہیں آپ کی نظر چوں کہ اپنی فہرست پر ہے، اس واسطے رسموں کو گناہ نہیں سمجھتے۔ میں نے بتلا دیا کہ شریعت کی فہرست میں ایک گناہ تفاخر بھی ہے جس عمل میں پایا جائے گا اسی کو فاسد کردیتا ہے۔

(خوب) سمجھ لیجئے کہ شریعت نے جو گناہوں کی فہرست دی ہے اس میں اور بھی گناہ ہیں جو آپ کی رسوم کا جز ہیں اس میں تکبر اور تفاخر وغیرہ بھی داخل ہیں۔

حق تعالیٰ فرماتے ہیں ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسوں کو پسند نہیں کرتے جو اپنے کو بڑا سمجھتے ہوں شیخی کی باتیں کرتے ہوں۔‘‘

او رفرماتے ہیں ان اللہ لا یحب المستکبرین ’’بے شک اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، او ررسول اللہﷺ فرماتے ہیں۔

’’جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی کبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔‘‘

اور دوسری حدیث میں ہے:

’’جو شخص شہرت کے واسطے کوئی کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو شہرت دے دے گا (اور قیامت کے دن اس کو رسوا کرے گا)۔

اور ایک حدیث میں ہے ’’جو شخص دکھاوے اور شہرت کی غرص سے کوئی کپڑا پہنے گا خدا تعالیٰ اس کو قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا، ان آیات او راحادیث سے عجب،تکبر تصنع او ردکھلاوے کی برائی ثابت ہے۔ اب دیکھ لیجئے کہ رسوم کی بناء ان ہی پر ہے یا نہیں۔

ہمارے پاس دلیل موجود ہے جس کی بنا پر ہم ان رسوم کو بر اکہتے ہیں۔ وہ دلیل یہ ہے کہ تکبر اور تفاخر اور دکھلاوے کو شریعت نے معصیت قرار دیا ہے۔ جس فعل میں یہ معصیت موجود ہوگی وہ بھی معصیت ہوگا۔

اب آپ دیکھ لیجئے کہ آپ کی رسموں کا یہ جزئِ اعظم ہے یا نہیں او ریہ جز ایسا ہے کہ تمام ان اجزا کو جن کو آپ نے مباح کہا تھا سب کو اباحت سے نکال دیتا ہے۔

دیکھئے کپڑا پہننا جائز ہے مگر جب تفاخر شامل ہوجائے تو جائز نہیں۔ کھانا کھلانا جائز ہے مگر تفاخر کے ساتھ جائز نہیں۔ کسی کو لینا دینا رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا سب سے اچھا ھے مگر تفاخر کے ساتھ جائز نہیں۔ یہ تفاخر حلال چیزوں کو ایسا گندہ کرتا ہے جیسے نجاست کنویں کو جس کو آپ نے بہت سہل سمجھ رکھا ہے، او راس کا نام ہی اپنی فہرست سے اڑا دیا ہے۔ حالاں کہ غور سے دیکھا جائے تو رسموں کی بنا اور اصل بھی تفاخر ہے حتی کہ بیٹی کو جو چیز جہیز میں دی جاتی ہے اس کی اصل بھی یہی ہے بیٹی لخت جگر کہلاتی ہے ساری عمر تو اس کے ساتھ یہ برتاؤ رکھا کہ چھپا چھپا کر اس کو کھلاتے تھے دوسرے کو دکھانا پسند نہ تھا شاید نظر لگ جائے، نکاح کا نام آتے ہی ایسا کا یا پلٹ ہوا کہ ایک ایک چیز مجمع کو دکھائی جاتی ہے۔ برتن اور جوڑے او رصندوق حتی کہ آئینہ کنگھی تک شما رکر کے دکھلائے جاتے ہیں۔

اگر آپ غو رکریں گے تو اس کی وجہ صرف تفاخر پائیں گے۔ برادری کو دکھانا ہے کہ ہم نے اتنا دیا یہ منظو رنہیں ہوتا کہ ہماری بیٹی کے پاس سامان زیادہ ہوجائے اسی واسطے تمام جہیز ایسا تجویز کیا جاتا ہے کہ ظاہری بناوٹ میں بہت اجلا ہو او رقیمت کے اعتبار سے یہی کوشش کی جاتی ہے کہ سب چیزیں ہلکی رہیں۔ بازار خریدنے جاتے ہیں تو کہتے ہیں شادی کا سامان خریدنا ہے، لینے دینے کا سامان دکھاؤ۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مولانا اشرف علی تھانویؒ

Leave a Reply