صبر اور استقامت

حسنی سرور بنت الطاف حسین

یہ بلالؓ ہیں۔ ایک سیاہ فام غلام! انہیں گرم کوئلوں پر لٹا دیا جاتا ہے اور پوری پیٹھ جل جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہورہا ہے ان کے ساتھ؟ اس لیے کہ انھوںنے محمدؐ کی رسالت اور اللہ کی وحدانیت کا کلمہ پڑھ لیا ہے۔ اسی وجہ سے لوگ ان کے دشمن بن گئے ہیں۔ کوئلوں پر لٹاتے لوگ ان سے پوچھتے ہیں کہ کلمہ ’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ سے پھر جاؤ، امان مل جائے گی۔ مگر وہ انکار کردیتےہیں۔ تکلیف! ہر قسم کی تکلیف قبول ہے مگر اس اقرار سے واپسی منظور نہیں جو توحید اور رسالت محمدی کی صورت میں کرچکے ہیں۔
یہ کیا ہے؟ یہ’صبر‘ ہے۔ اللہ کے لیے صبر! صبر وہ صفت ہے جس کے بعد کامیابی اور جیت ہوتی ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے مکہ میں مشرکین مسلمانوں پر ہر قسم کا ظلم و ستم روا رکھے ہوئے تھے یہاں تک کہ انہیں مکہ چھوڑ کر چلے جانا پڑا۔
پھر کیا ہوا — چند ہی سالوں کے بعد یہ نکالے ہوئے لوگ دوبارہ مکہ میں داخل ہوئے، فاتح بن کر، قوت اور غلبے کے ساتھ۔ اس وقت وہ لوگ کانپ رہے تھے جنھوں نے ان پر مظالم ڈھائے تھے اور سوچ رہے تھے کہ اب اپنے ظلم کے بدلے میں قتل کردیے جائیں گے…. مگر یہ کیا ہوا؟ لا تثریب علیکم الیوم، آج تم سے کوئی بدلہ نہیں لیا جائے گا جاؤ! سب کو معاف کردیا گیا۔
یہ ہے ’صبر‘ کا دوسرا پہلو! اسے قرآن میں بڑے عزم کی بات کہا گیا ہے۔ ولمن صبر وغفر فان ذالک لمن عزم الامور۔ ترجمہ:’’ اور جو صبر کرے اور معاف کردے تو یہ عظیم کاموںمیں سے ایک ہے۔‘‘ جی ہاں! ان مظلوموں نے، جب انہیں طاقت ملی تو تمام ظالموں کو معاف کردیا۔ سوچئے! اس کا اثر کیا ہوا اور کیا ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے۔
اس حیثیت سے صبر ایک صفت ہی نہیں اسٹریٹجی اور پالیسی بھی ہے جسے اہلِ ایمان سے زیادہ نہ تو کوئی سمجھ سکتا ہے اور نہ کوئی دوسرا اسے عملی طور پر برت سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صبر کو اہلِ ایمان کے لیے کمزوری، مایوسی، بزدلی یا معطلی اور پژمردگی کا ذریعہ نہیں بلکہ بطورِ پالیسی بیان فرمایا ہے۔ دیکھئے سورۃ العصر جس میں بیان ہوا :
ترجمہ: زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اور ایک دوسرے کو صبر دلائیں اور حق کی وصیت کریں۔‘‘
صبر کا صاف اور سیدھا مطلب ہے اللہ کو حاصل کرلینا، اس کو اپنا بنالینا اور اس کی مدد کی یقین دہانی کا حصول۔ جس کو اللہ مل جائے، جسے اس کی مدد مل جائے تو اس کے سامنے کون ٹک سکتا ہے؟ اسی لیے ہم نے کہا کہ صبر کے آگے جیت ہے۔ مکہ کی مظلومیت سے فتح مکہ تک کا سفر اس کا گواہ ہے اور اللہ تعالیٰ خود بیان فرمایا ہے:
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد لو اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
تو گویا اہلِ ایمان کو بھی یہ بتایا گیا کہ حق اور باطل کی جنگ میں اہلِ ایمان کو باطل کی طرف سے سخت ترین مخالفت کا سامنا کرنا پڑے تو ان حالات میں اہلِ حق کو نماز اور صبر سے مدد لینی ہوگی۔ صبر یہ ہے کہ کمزوری کی صورت میں دشمن کے ظلم کو اللہ کی رضا کے لیے برداشت کرلیا جائے اور قوت و طاقت اور ظلم سے چھٹکارے کے حصول کی اسٹریٹجی پر مسلسل عمل پیرا رہا جائے۔ اپنی انا کو درمیان سے بالکل ہٹا کر صرف رب کی رضا کے لیے سب برداشت کیا جائے۔ لوگ گالیاں دیں گے، بھوک پیاس کی شدت برداشت کرنا پڑے گی، دوست احباب، رشتہ دار حتیٰ کہ قریبی رشتہ دار تک مخالف بن جائیں، وطن سے بے وطن کردیا جائے مگر صبر کرتے رہیے۔
صبر ایک ایسا وصف ہے جس کے باعث کوئی مشکل، مشکل معلوم نہیں ہوگی، تو دوسری طرف اللہ کی رضا اور خوشنودی ملے گی، اس کا ساتھ اور مدد حاصل ہوگی۔ صبر یہ ہے کہ انسان اپنی عزیز ترین شئے کے کھوجانے پر بھی نہ تو پریشان ہوتا ہے اور نہ ہی گلہ شکوہ کرتا ہے۔ ہر حال میں رازی برضا رہنا صبر ہے۔ جان کا نقصان، مال کا نقصان، اولاد میں آزمائش وہ مقامات ہیں جہاں ہمارے صبر کا امتحان ہوتا ہے۔ جو لوگ امتحان اور آزمائش میں صبر کی روش اختیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہی لوگوں کو یہ خوش خبری دی ہے:
اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ۝۱۰
’’بلاشبہ صبر کرنے والوں کو ان کے صبر کا بے حساب بدلہ دے دیا جائے گا۔‘‘ (الزمر:10)
صحابہ کرامؓ نے نبی کریمﷺ کی تربیت میں ایسے ہی قرآنی صبر کا مظاہرہ کیا تھا چنانچہ سورۃ بقرۃ میں اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کی جنگ میں صبر کرنے والوں کو راست باز اور متقی قرار دیا ہے۔ اور ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہی لوگ اللہ کو محبوب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا جو محبوب بن جائے وہ کامیاب ہے۔
نبی کریمﷺ نے فرمایا ’’جو لوگ صبر اختیار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیاں ان سے دور کرتا ہے اور اس طرح وہ اللہ سے ملتے ہیں کہ ان کے حصہ میں کوئی گناہ نہیں رہتا۔‘‘ جبکہ عام انسانی زندگی میں بھی صبر انسانوں کے لیے عظمت اور اجر کا ذریعہ بنتا ہے۔
بیماری پر صبر کے تعلق سے نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ یہ اس کی گناہوں کی تلافی کا سبب بنتے ہیں۔
صبر کے نتیجے میں جو چیز حاصل ہوتی ہے وہ ہے استقامت یعنی جماؤ۔ استقامت کے معنی ہیں اپنی جگہ جمے رہنا۔ بے صبری قدم اکھاڑنے والی ہے اور صبر قدموں کو جمانے والا۔
استقامت بھی انہیں لوگوں کے اندر پیدا ہوسکتی ہے جو ہر مصیبت میں صبر اختیار کرنے والے ہوتے ہیں۔ مصیبتوں اور آزمائشوں میں گھبرا جانے والے کبھی اپنے اندر استقامت پیدا نہیں کرسکتے۔ ہر مصیبت اور ہر آزمائش کو یہ جان کر کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوگی، انسان ہر مصیبت کا مقابلہ کرسکتا ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کی زندگی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ آپ کو آگ میں پھینکا گیا، وطن سے بے وطن ہونا پڑا، ملک ملک پھرنا پڑا لیکن آپ مستقل آگے ہی بڑھتے رہے۔ اسی طرح حضرت یوسفؑ کی زندگی میں بھی ہمیں صبر و استقامت کا بہترین درس ملتا ہے اور پھر خود نبی کریمﷺ کی زندگی میں صبر و استقامت کا ایک بہترین نمونہ ہے جبکہ صحابہ کرامؓ کی زندگیوں میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ انھوں نے کس طرح سے ہر آزمائش کا اور ہر مصیبت کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ تپتی ہوئی ریت پر لٹایا گیا، انگاروں پر لٹایا گیا، فاقے کرنے پڑے۔ ایک اللہ کی بندگی اختیار کرنے کے نتیجے میں ان کا سب کچھ چھین لیا گیا، بچوں کو ماؤں سے جدا کردیا گیا۔ بیوی کو شوہر سے الگ کردیا گیا۔ لیکن ان تمام حالات میں صحابۂ کرامؓ نے صبر کا بہترین نمونہ پیش کیا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے قدموں کو مضبوط کیا اور پھر دنیا میں بھی انہیں عزت بخشی اور آخرت کی کامیابی کا بھی وعدہ فرمایا ایسا وعدہ جس سے سچا وعدہ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔

ویڈیو

صبر۔ مولانا وحید الدین خان

مزید پڑھیں!

https://hijabislami.in/5276/

https://hijabislami.in/4442/

https://hijabislami.in/2944/

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146