عنوان دیکھ کر قارئین کرام سمجھ رہے ہوں گے کہ اندھوں کے بارے میں باتیں کی جائیں گی۔ پھر ان کی مدد کرنے کے لیے اپیل کی جائے گی یا آنکھوں کی اہمیت بیان کرکے اسے خدا کی سب سے بڑی نعمت بتاکر اس کی حفاظت کے بارے میں کہا جائے گا اور کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا جائے گا۔ ایسا سمجھنا غلط بھی نہیں۔ کیونکہ یہ پروپیگنڈے اور اشتہار کا دور ہے۔ اس بات کو سب سے زیادہ لوگ جانتے ہیں جس کی سب سے زیادہ تشہیر کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک بات یہ بھی ہے انسان اپنے ماحول اور اپنی روایات کی روشنی میں ہی بات کو سمجھتا ہے، ہمارے سماج میں اندھا اسی کو سمجھا جاتا ہے جو بینائی سے محروم ہو۔ مگر قرآن میں آنکھوں سے محروم اندھوں کا ذکر نہیں کیاگیا بلکہ ان اندھوں کا ذکر کیا گیا ہے جو آنکھیں رکھتے ہیں۔ کہا گیا : ’’آنکھیں رکھتے ہوئے اندھے ہیں۔‘‘ آج میں انہی اندھوں کا ذکر کرنا چاہتی ہوں۔ جن کی تعداد اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ہر طرف اندھے نظر آرہے ہیں اور یہ اندھے سماج کو اندھیری کھائیوں میں پہچانے کی کوشش میں رات دن لگے ہوئے ہیں۔ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ یہ اندھے اس بات کو ماننے کو تیار نہیں کہ وہ اندھے ہیں اس کے برخلاف وہ اپنے آپ کو سب سے زیادہ بینا سمجھتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ لوگ ان کی روشنی میں اپنی منزل کا راستہ دیکھیں۔ آج کا معاشرہ جس قول و عمل کے تضاد کا شکار ہے اس سے سماج کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان اندھوں کوپہچانیں اور ان کی کھوئی ہوئی بصارت کو واپس لانے کی کوشش کریں۔
ایک صاحب ہیں جو رات دن لوگوں کو اس بات کی یاد دہانی کرایا کرتے ہیں کہ وہ ’’خیر امت‘‘ ، اور ’’امت وسط‘‘ ہیں۔ جن کو قیامت کے دن اس بات کی گواہی دینے کے لیے گواہوں کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا کہ پیغامِ حق نوع انسانی تک پہنچایا کہ نہیں مگر چونکہ خود اندھے ہیں اس لیے دیکھ نہیںپاتے کہ خود ان کی قوت، صلاحیت، پیسہ اور وقت حق کے خلاف باطل کے فروغ میں لگ رہا ہے۔
ایک صاحب ہیں جو اسلامی معاشرہ کے قیام میں دن رات لگے ہوئے ہیں۔ جو بڑے مؤثر انداز میں حضورِ اکرمؐ کایہ ارشاد مبارک سنایا کرتے ہیں کہ ’’میں نکاح کو آسان اور زنا کو مشکل ترین بنانے آیا ہوں۔‘‘ لوگوں کو نصیحت کیا کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کی شادیاں سادگی سے کریں۔ کیونکہ اسراف کرنے والوں کو شیطان کے بھائی کہا گیا ہے۔ رحمن کے بندے ہوکر شیطان کے بھائی نہیں بننا چاہیے پیسے کو نام و نمود جھوٹی شان و شوکت دکھانے کے لیے خرچ نہیں کرنا چاہیے۔ اور جب ان صاحب کے لڑکے کی شادی ہوئی تو آنکھیں رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ شادی پر ایسی سجاوٹ ہمارے دیکھنے میں کبھی نہیں آئی چونکہ یہ خود اندھے ہیں اس لیے وہ اپنے بیٹے کی شادی پر کی جانے والی سجاوٹ اور اسراف کو نہیں دیکھ پائے اور یہ سمجھتے اور دوسروں کو بتاتے رہے کہ ان کے صاحب زادے کی شادی بڑی سادگی سے ہوئی ہے۔
ایک صاحب ہیں جو سنتِ رسول ؐ کے بڑے پابند ہیں۔ اسوہ رسولؐ کے مطابق زندگی گزارنے کی رات دن لوگوں کو تبلیغ کیا کرتے ہیں سنت کے مطابق داڑھی پال رکھی تھی اور اس کو مسلمانوں کی شناخت سمجھتے تھے۔ اس بات پر بہت زور دیا کرتے تھے کہ مسلمانوں کو اپنی شناخت قائم رکھنی چاہیے۔ جیسے پولیس اور فوج کی شناخت یونیفارم سے ہے اس طرح مسلمان مرد کی پہچان داڑھی سے ہے۔ مگر چونکہ وہ اندھے ہیں اس لیے اپنے بیٹوں کے داڑھی سے بے نیاز چہرے دیکھ نہیں پاتے۔
ایک صاحب ہیں جو بے پردگی کے خلاف مہم چلانے میں مصروف ہیں۔ بے پردگی کو اس دور کا بڑا فتنہ سمجھتے ہیں، عورتوں کی بے پردگی سے سخت نالاں ہیں۔ اللہ کے احکام سنا کر خواتین کو پردہ کرنے کی ترغیب دلاتے اور تاکید کیا کرتے ہیں۔ چونکہ اندھے ہیں اس لیے اپنی نوجوان لڑکیوں کو بے پردہ بن سنور کر بازاروں سڑکوں پر پھرتے ہوئے نہیں دیکھ پاتے۔
ایک صاحب ہیں جو حقوق العباد پر بہت زور دیا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ بڑا کریم و درگذر کرنے والا ہے اس کی عبادت بجالانے میں کچھ کمی بیشی ہوئی تو معاف کردے گا۔ مگر بندوں کے حقوق ادا کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی و کمی و بیشی کو برداشت نہیں کرتا۔ اللہ کے رسولؐ کا وہ ارشاد مبارک بڑے ہی رقت بھرے انداز میں بیان کیا کرتے ہیں جس میں اللہ کے رسولؐ نے بتایا ہے کہ میری امت کامفلس وہ ہوگا جو قیامت کے دن نیکیوں کے انبار لیے ہوئے آئے گا مگر اس نے بندوں پر زیادتی کی ہوگی ان کا دل دکھایا ہوگا، ان کا حق مارا ہوگا تو اس کی ساری نیکیاں ان تمام لوگوں میں تقسیم کردی جائیں گی اور نیکیاں ختم ہوجانے پر ان کے گناہوں کا بوجھ اس پر لاد دیا جائے گا۔ وہ چونکہ اندھے ہیں اس لیے دیکھ نہیں پاتے کہ ان کے اہلخانہ ان کے قریب ترین رشتہ داروں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں اور خود ان کی شریک حیات کا ان کے اپنے ماں باپ کے ساتھ کیا سلوک ہے۔
ایک صاحب ہیں جو ظاہر بیں بڑے متقی اور پرہیز گار ہیں اور غلط سماجی رسوم ورواج کے خلاف برسرپیکار خاص کر جہیز کی مخالفت میں شدید ہیں وہ اسے سماج کا ناسور سمجھتے ہیں لیکن چونکہ اندھے ہیں اس لیے دیکھ نہیں پاتے کہ ان کے بیروزگار بھائی شادی کے بعد ایک عالیشان مکان میں رہنے لگے ہیں پیدل چلنے کی بجائے گاڑی پر سوار ہوکر گھر سے نکل رہے ہیں جبکہ خطبہ و نکاح دیتے ہوئے بڑے فخر سے انھوں نے کہا کہ یہ شادی کسی قسم کے مطالبے و لین دین کے بجائے سنت کے مطابق ہورہی ہے۔
ایک صاحب ہیں جو دینی لٹریچر کی اشاعت میں رات دن لگے ہوئے ہیں اس کو عام کرنے دوسروں کے ہاتھوں تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ وہ آنکھوں ہی کے نہیں بلکہ عقل کے بھی اندھے ہیں۔ نہ اپنی اولاد اوراہل خانہ نظر آتے ہیں کہ وہ انہیں بھی یہ اسلامی لٹریچر پڑھنے کے لیے پیش کریں۔ اسی طرح انہیں اپنے گھر میں رکھا اور پڑھا جانے والا وہ فحش لٹریچر بھی نظر نہیں آتا جس پر عریاں تصاویر اور نازیبا فوٹو چھپے ہوتے ہیں۔
ایک صاحب ہیں جو مشترکہ خاندانی نظام کے خلاف ہیں۔ جو کہتے ہیں کہ عورت کو آزادی کے ساتھ اپنے شوہر کے ساتھ ہنس بول کرزندگی گزارنے کا موقع ملنا چاہیے۔ میاں بیوی کے تعلقات خوشگوار بنانے کے لیے ساز گار ماحول پیدا کرنا چاہیے۔ نظروں کی قید میں رکھنا درست نہیں۔ کیونکہ اندھے ہیں اس لیے قیدی بنی ہوئی اپنی بہوئیں نظر نہیں آتیں۔ جن کو آدھی رات سے پہلے کمرے میں جانے کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ وہ سب کے سامنے اپنے شوہروں سے بات چیت کرسکتی ہیں۔
ایک صاحب ہیں جو قبروں میں پاؤں لٹکائے ہیں، مگر اپنے آپ کو نوجوان گردانتے ہیں۔ دنیا کی دوڑ میں نوجوانوں کے ساتھ دوڑ رہے ہیں۔ انہی کے سے مشاغل میں اپنے رات دن گزارا کرتے ہیں چونکہ وہ اندھے ہیں اس لیے اپنے روئی کی طرح سفید بال چہرے پر پڑی ہوئی بے شمار جھریوں اور بے دانت کے پوپلے منہ کو دیکھ نہیں پاتے۔
سماج میں اپنے داہنے بائیں نظر دوڑائیں تو بے شمار اس قسم کے اندھے آپ کو مل جائیں گے مگر یہاں ہم نے اپنے معاشرے کے صرف چند اندھوں کا ذکر کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی بینائی مستقل طور پر ختم ہوچکی ہے۔ اور انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ اس کے علاوہ معاشرہ میں کچھ ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو بعض اوقات آنکھیں رکھتے ہوئے بھی اندھوں جیسے اعمال اختیار کرتے ہیں۔
ارے توبہ! اس لائن میں تو ہم جیسے لوگ بھی کھڑے ہیں استغفراللہ۔ ہاں ہم لوگ بھی اندھے پن کا شکار معلوم ہوتے ہیں۔ وہ کیسے؟ درجنوں اور سیکڑوں افراد کو مرتے ہوئے دیکھا۔ مگر گویا نہیں دیکھا کیونکہ ہم آج تک اپنی موت سے غافل ہیں۔ اور ہم اکثر اپنی باتوں میں دوسروں کی خامیاں اور کوتاہیاں دیکھ کر ان کا احتساب کرتے ہیں مگر اکثر اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کے سلسلہ میں اندھے ہوجاتے ہیں۔خدا بچائے اس اندھے پن سے۔ بڑا مہلک اور خطرناک مرض ہے۔ جسے لگا اس کی دنیا تو شاید بچ جائے مگر آخرت کا تباہ ہونا یقینی ہے۔ بس ایسے وقت میں اللہ سے بیدار دل و دماغ اور بصیرت والی آنکھوں کی دعا کرنی چاہیے۔




