پورٹریٹ

آمنہ ابوالحسن

جب میں تعلیم ختم کے کالج سے نکلا تو بالکل نو جوان تھا اور میرا دل آرزوئوں سے بھرا ہوا تھا۔ سب سے پہلے اور زبردست خواہش تو جوانی کی مانگ تھی یعنی ایک خوبصورت تندرست اور ہنس مکھ لڑکی کی رفاقت جو مجھے مل بھی گئی۔ جب اس لڑکی کو بیوی بنا کر میں اپنے گھر لایا اور اپنی زندگی بسائی تو ایسا محسوس ہوا جیسے کائنات بس شہد ہی شہد ہے۔ ایک جرعئہ شیریں، ایک ذائقے دار گھونٹ۔ ایک جام، ایک پیمانہ، ایک پیالہ۔ مٹھاس اور خمار سے لبریز۔
پھر یہ آرزو ہوئی کہ اور بھی آسائش ہوں۔ ایک عمدہ گھر ہو۔ آرام دہ فرنیچر سے آراستہ اور تمام سہولتوں سے لیس، چنانچہ یہ آرزو بھی رفتہ رفتہ پوری ہوگئی۔
پھر تمنّا ہوئی کہ عہد حاضر کی تمام چیزیں، ضروری بھی اور غیر ضروری بھی زندگی میں ضرور شامل رہیں۔ جو کافی کوشش و محنت کے بعد فراہم ہوسکیں۔
پھر خیال آیا کہ ذاتی سواری کے بغیر بھی زندگی ادھوری ہے اور موٹرسائیکل یا اسکوٹر بڑی عامیانہ سواریاں ہیں لہٰذاسخت جان سوزی اور جدوجہد کے بعد اور کافی عرصہ بعد بہترین ماڈل کی ایک امپورٹیڈ کار بھی خریدڈالی۔
شوق عمر اور تجربے کے ساتھ ساتھ بڑی بڑی آرٹ گیلریوں میں گیا اور نقادانِ آرٹ کے مشوروں کے سہارے اپنے وقت کی نمایندہ پنٹینگنس اکھٹاکیں۔
شہرہ آفاق عجائب گھروں میں پہنچا اور وہاں سے حاصل شُدہ معلومات کی بناء پر پھر ناورو نایاب عجائبات بھی ممکنہ حد تک حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
اپنی شاندار کوٹھی کے ارد گرد بہترین چمن بندی کروائی، جہاں ہر قسم کے پھول اور پھل لگوائے۔
غرض کہ اپنی تمام آرزویں یکے بعد دیگرے پوری کیں۔ ساری مرادیں پائیں کچھ بزرگوںکا اثاثہ تھا۔ کچھ اپنی محنت مشقّت اور لگن کا پھل کہ امارت میری غلام بن گئی اور دنیا کی کوئی چیزایسی نہ رہی جو میری تمنّا بن کر تکمیل نہ پاگئی۔
جب کالج سے نکلا ۲۵ برس کا تھا۔ اُس وقت میرا اپنا کچھ نہ تھا، مگر پھر ۵۵ برس کی عمر میں اپنے شوق وذوق کے نام پر میرے پاس سب کچھ تھا۔ میری بیوی مجھ سے بہت خوش تھی اور میرے بچّے نوجوان ہوکر میری جگہ لے رہے تھے۔
جب تقریبًا ساری دنیا گھوم ڈالی۔ ہر ہر قابلِ حُصول چیز حاصل کرلی۔ آرزوئوں کی ایک مکمل کائنات کا مالک بن گیا تب دفعتاً ایک شام ایسا محسوس ہوا جیسے میرے پاس کچھ بھی نہیں اور جو کچھ جتنا کچھ ہے وہ بھی سب بے کار فضول اور واہیات ہے کسی کام اور کسی مصرف کا نہیں تب اِس اچانک احساس پر لازمی طور پرمیں بڑا حیران اور دل گرفتہ ہوا۔ جن چیزوں کے حصول کے لئے اپنی عمر عزیز اور جوانی خرچ کی تھی، جن کی دستیابی کے لئے حد سے بڑھکر ہمّتیں کی تھیں۔ سو سو آفتیں مول لی تھیں۔ کبھی کوشش وکاوش کا دامن نہ چھوڑا تھا کیا وہ اس قدر ارزاں، معمولی اور غیرضروری تھی؟
اُس شام میں بہت اُداس رہا کسی سے نہیں ملا۔
کسی دوست کے پاس نہیں گیا۔
کسی کو خود بھی بلاوا نہیں بھیجا۔
اپنی بیوی تک سے بات نہیں کی۔
سب کچھ پالینے کے بعد میں کیوں ایسا محسوس کررہا تھا۔
آخرمیں کیا چاہتا تھا۔ میرا مقصد کیا تھا؟
کیا اب تک میرے اندر کوئی خلاء تھا؟
بڑی دیرتک اِس ناگہاں سیلاب میں بہتا رہا، پھر خاموشی کی نذر ہوگیا۔ بہت دن سکوت کے عالم میں کاٹے، تب دھیرے دھیرے یہ خیال ذہن میں ابھرا کہ جس روز سے میں نے کالج چھوڑا، پھر کتابوں کونہیں چھوا، تب ایک محسوس سی خواہش چمکی کہ دنیا میں اتنی ساری کتابیں بھی توہیں۔ ہر ہر موضوع پر۔ پھر آخرکس لئے کبھی مجھے انہیںخریدنے، انہیں پڑھنے کا خیال نہ آیا۔ میں نے ہر ہر چیزخریدی۔ اسے استعمال کیا مگر آخر کار یہ احساس ہوا کہ کسی چیز کے استعمال نے، عمدہ سے عمدہ اور قیمتی سے قیمتی بہترین چیزکی رفاقت نے بھی مجھ میں اپنے سے زائدقوت نہیں پیداکی بلکہ اپنے حصول کے سلسلے میں کچھ میری توانائیاں ہی خود حاصل کرلیں تب؟
تب میں دفعتاً اٹھا اور نامی کتب فروش کے پاس پہنچا۔ میں نے پوری فہرست بغور چیک کی اور چند کتابیں چھانٹ کر ساتھ لے آیا۔ جب میری بیوی اور بچّوں نے مجھے خلاف عادت اِس قدرسنجیدہ دیکھا، میرے ساتھ اتنی ساری کتابیں دیکھیں، میری خاموشی کو اور خود سے اچانک اجتناب کو محسوس کیا تو بہت حیران اور سراسیمہ ہوئے، مگر اس وقت، زندگی کے اُن خصوصی لمحوں میں پہلی بار میں نے ان کی مطلق پروا نہ کی۔ کسی کی بھی پروا نہ کی اور اپنے آپ کو سمیٹ کر اپنے کمرے میں جابیٹھا۔
سالوں بعد میں نے پھرپڑھنا شروع کیا اور چند ہی دنوں میں لگاتار کئی کتابیں پڑھ ڈالیں۔ جیسے جیسے میں پڑھتا جاتا تھا، لگتاتھامیں ازسرنو پیداہوا ہوں اور بالکل نئی آنکھوں سے کائنات کودیکھ رہا ہوں۔ نئے ذہن کو زندگی کوسمجھ رہاہوں۔ میری زندگی اور ذہن کی وہ پہلی سطح جس پر میں خود کوسنبھالے ہوئے تھا محض پانی کی سطح تھی۔ مگر یہ دوسری جواب میری شدید تمنّا کی زد میں تھی دراصل مضبوط اوردبیز۔ میرے اب تک کے برباد شدہ وجود کو ایک مقام، ایک ٹھکانہ اور ایک حقیقت عطا کرنے والی۔
تب میں اپنا تمام ماضی بھول گیا۔ مجھے نہ اپنے سماجی مقام کی پروا رہی نہ امارت کی صف میں اپنے مرتبے کا ہوش۔ نہ دوست نہ احباب، نہ آسائشیں نہ محفلیں۔ نہ رنگ رلیاں، نہ ہی بیوی بچّے بلکہ زندگی کے اِس موڑپر جوں جوں میں زیادہ غور کرنے لگا میں خود کو ایک خول میں سے برآمد کرنے لگاتب مجھے یہ بھی محسوس ہوا جیسے سب مجھے جھوڑکر بچھڑ گئے صرف میں اکیلا اپنے اندر باقی رہ گیا۔ خوف و دہشت کی ایک تیز جھر جھری نے مجھے بوکھلادیا۔ یہ زندگی کا کونسا مرحلہ، کونسا مقام ہے۔ میں نے سوچا اور برسوں کی عرق ریزی سے جمع کی ہوئی اپنی تمام جائیداد، دولت، مال ومتاع، اپنے بیوی بچّوں اور مختلف اداروں میں تقسیم کردی۔ ہر ایک کو اس کے مزاج، رجحان اور شوق وکاوش کے حوالے کردیا۔ اپنی کوئی ذمہ داری نہ رکھی۔ اپنے لئے صرف اپنا نام رکھ لیا اور یوں ہر ہر چیزسے وابستہ اپنا دامن چھڑا کرجب میں اپنی ذات میں بالکل اکیلا اور تنہارہ گیا تب مجھے یک گونہ سکون اور گہری عافیت محسوس ہوئی جیسے میں نے بہر حال اپنا گم شُدہ وجود پالیاہو۔
اب میری برائے نام چند ذمہ داریاں تھیں، چنانچہ بچّوں کی تعلیم ختم ہوتے ہی میں نے تیزی سے ان کے گھربسانے شروع کئے اور ممکنہ عرصے میں سب کو اِس قابل بنا دیا کہ وہ اپنی زنگیاں سمیٹ سنبھال کر اپنے اپنے طور پر بسرکر سکیں۔ انہیں میری حتی الامکان ضرورت نہ رہے۔ تب دنیا کی ہر قیمتی اور قابلِ قدر چیز بھی مجھے نہایت ردّی بلکہ مضحکہ خیز معلوم ہونے لگی۔ جوانی میں جب جب میں نے اپنی بیوی کے جسم کودیکھا تھا، اُس جسم میں جوانی کا رس اور جسم پر کندن کی دمک دیکھی تھی، تب تب میں فخرو غرور سے جھوم اٹھا تھا۔ مگر اب مجھے لگا کہ میں نے نہ صرف خود سے، بلکہ اپنی بیوی سے بھی زیادتی اور دھوکا کیاہے۔ میں نے اسے مردانگی کی تمام دولت دی،
اسے سونے، چاندی، موتی، جواہر سے لاد دیا مگر اس کے ذہن کو وہ دولت نہیں دی جو اسے دراصل خود تک پہنچاسکتی، مجھ پر غالب کر سکتی، یہی وجہ تھی کہ اب وہ مجھے پھٹی پھٹی آنکھوں سے گھوراکرتی تھی اور جب میں نے اہنا راستہ بدل دیاتھا وہ کبھی میری تہہ تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔
اب میرے بچّے بھی وہی سب کررہے تھے جو خود میں نے اپنی جوانی میں کیا تھا اور کئی بار میری زبان تک آیاتھا کہ میں ان سب سے بر ملا کہوں کہ پگلو یہ سب بے کار ہے۔ خود کو جانو کہ خود سے گزرے بغیر دنیاسے گزرنا بے کار ہے۔ بے شک تمنّا میں زندگی کا رس سہی، آسائشیں ملائم قالین سہی، مگر زندگی صرف رقص ہی نہیں، رقص کی ریاضت بھی ہے۔ لیکن جب جب میں ان سے کہنا چاہتا ، مجھے احساس ہوتا کہ میرا کچھ کہنا بے کار ہے۔ وہ کبھی اِسے سچ تسلیم نہیں کریں گے۔ بہتر یہی ہے کہ وہ خود تجربوں کے دشت سے گزریں۔ قدم قدم پر خود کو نچوڑیں۔ دنیا کو پرکھیں تب یقینا عمر کی کسی نہ کسی منزل پر خود انہیں بھی پتا چل ہی جائے گا کہ زندگی صرف موٹر گاڑی، اعلادرجہ کا ٹیلی ویژن سیٹ، کمپیوٹر، اے سی، ریفریجریٹر، سونا، موتی، جواہر ہی نہیں بلکہ زندگی ایک ریکارڈہے۔ صرف اپنی ہی آواز میں بجتاہواریکاڈ!
مجھے اپنی بیوی اب بھی بیتھسودن، مونزازٹؔاور واگیزؔ کی کی بہترین سمفنی محسوس ہوتی ہے۔ لیونارڈوڈؔ اونچی مائیکل اینجلو، دین گاگؔ، سیزاؔنے اور پکاسوؔکاآرٹ۔ بنیزؔونی کا شاہکار مگر مجھے اپنی بیوی کبھی اُس کتاب کی طرح نظر نہیں آتی جو نئے نئے موڑ رکھتی ہے۔
علم و دانش مانی جاتی ہے۔ جو فکرو نظر کو نئے نئے زاویئے بخش سکتی ہے۔ اور میں سوچتا ہوں کہ میرے بچّے شاید کبھی خود کوپالیں، مگر میری بیوی اب کچھ نہیں پاسکتی۔ نہ خود کو نہ مجھے کیونکہ وہ یہ جانتی ہی نہیں کہ اِس دنیا میں بیھتوونؔ، باخؔ، مونزارٹؔ اور داگیزؔہیں۔
لیونارڈوڈاونچیؔ، مائکل اینجلوؔ، دین گاگؔ، شیزانےؔ اور مارشلؔ، اور پکاسوؔہیں۔
اس دنیا میں سقراط تھا، افلاطون اور ارسطو تھے، حضرت محمداور لیوع مسیح تھے، زرتشت اور کنفیوشس تھے، گوتم بدھ، تلسی داس، کبیرداس اور گرونانک تھے۔
ابن رُشدؔ، حسن بنا، ولی اللہ، قطب اور مجدد بھی تھے، نطشےؔ، برگساںؔ اور برڈینڈ رسلؔ تھے۔
شیکسپیرؔ،ورڈسورتھؔ، ملٹنؔ، ٹالسٹائیؔ، ٹیگورؔ، برنارڈ شا اور خلیل جبرانؔ تھے۔
مہارانیؔ جھانسی، چاند بی بیؔ سلطانہ، رضیہ سلطانہ تھیںاوربہادرشاہ ظفر،سکندرؔ اور ٹیپوسلطان تھے۔
وہ تو بس اتنا جانتی ہے کہ آسمان پر خدا ہے اور زمین پر صرف میں، چنانچہ میرے کرب سے بے نیاز۔ اپنے المیے پر آنسوبہانے کی بجائے وہ اپنی بوڑھی مطمئن آنکھوں سے ساری دنیا کو ایسے فخرو غرور، ایسی بے پناہ مسرت، ایسے طنزسے دیکھتی ہے جیسے جتاتی ہو:
میرے پاس کیا کچھ نہیں۔
اچھا شوہر، اچھی اولاد، حیثیت، امارت، مسّرت، اور سامان عیش……
اور میں بھی کتنا بزدل ہوں کہ جانتاہوں، مانتاہوں، مگر اسے اب بھی کچھ نہیں بتاتا۔ خاموش اپنے کمرے میں بند رہتاہوں۔ اکیلا ہی پڑھتا رہتاہوں اور دنیا کو’’بائی فوکل‘‘ سے دیکھ دیکھ کریہ سوچتاہوں۔ یہاں کون سب سے کامیاب ہے؟
——

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146