شادی کے فوراً بعد کے دن بڑے کٹھن ہوتے ہیں۔ میاں بیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ مساوات قائم کرنی ہوتی ہے۔ تمام زندگی کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار انہی دنوں پر ہوتا ہے۔ ایک قدم غلط پڑا اور تمام بنیادیں درہم برہم ہوسکتی ہیں۔ مرد کے مقابلے میں عورت کو تو اور بھی زیادہ احتیاط برتنا ہوتی ہے۔
مجھے اس بات کا پورا احساس تھا اور شادی کے بعد مہینوں میں مجھے یہ ڈر سا لگا رہتا تھا کہ اب لڑائی ہوئی اب جھگڑا ہوا۔ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے ایسا خاوند نصیب ہوا جو دل کھول کر مجھے چاہتا تھا۔ لیکن وہ خوش باش ہونے کے ساتھ ہی بڑا آزاد قسم کا شخص تھا۔ اورہر معاملے میں اس کی اپنی قوی رائے تھی، جس سے وہ ادھر ادھر نہ ہوتا تھا۔ حالانکہ مجھے اپنے خاوند سے بے پناہ محبت تھی، لیکن مجھے کسی کا دُم چھلا بن کر رہنا پسند نہیں تھا۔ ایسے جوڑے کے درمیان کبھی نہ کبھی جھگڑا ہونا لازمی تھا۔ یہ مجھے شروع سے معلوم تھا، لیکن سوال یہ تھا کہ یہ جھگڑا کب اور کیسے ہوگا۔
اور جب جھگڑا ہوا تو بہت معمولی سی بات پر۔ اتنی معمولی سی بات کہ مجھے بتاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ لیکن چونکہ اس واقعہ کو ہوئے ایک زمانہ ہوچکا ہے، اس لیے اب اس کہانی کو سنانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
شاید میرا خاوند دفتر جانے کے لیے تیار ہورہا تھا۔ معمول کے مطابق وہ قدِ آدم آئینے کے سامنے خود پرستی کے انداز میں کھڑا تھا۔ میں ایک سگھڑ بی بی کی طرح اس کو کپڑے وغیرہ دے رہی تھی۔ میں نے اس کے ہاتھ میں قمیص تھمائی، اس نے قمیص کی طرف ایک نظر دیکھا، اسے فوراً بستر پر پھینک دیا اور قدرے ترشی سے بولا
’’دو بٹن ندارد ہیں میم صاحب۔‘‘
میں نے وہ قمیص اٹھالی اور الماری میں سے دوسری قمیص نکال کر پیش کی۔
’’یہ تمہارے سوٹ کے ساتھ اچھا میچ کرے گی۔‘‘
اسے کپڑوں کے متعلق میری تمیز کا احترام تھا۔ میں اسے جو بھی پہننے کو دیتی وہ ہمیشہ بلا چوں و چراں پہن لیتا۔ یہی وجہ تھی کہ جب وہ تیار ہونے لگتا، مجھے اپنے پاس بلا لیتا، مجھے اپنی باندی بناکر گویا وہ مجھے خراجِ تحسین پیش کرتا۔
قمیص پہن کر جب اُس نے آستین کا بٹن بند کرنے کی کوشش کی۔ تو ایک دم اس کا پارہ چڑھ گیا۔
’’یہ کیا مذاق ہے۔‘‘ وہ غرایا:’’لاپرائی کی بھی حد ہوتی ہے۔‘‘
اس قمیص کے کف کے بٹن ٹوٹے ہوئے تھے مجھے کچھ ندامت کا احساس ہوا، لیکن میں چپ رہی۔ پہلے بھی دوچار مرتبہ شاہد نے میری لاپروائی کی طرف اشارہ کیا تھا، لیکن وہ مذاقاً تھا اور میں نے بھی کبھی اس طرف دھیان نہیں دیا۔ اگر میں معافی مانگ لیتی یا چپ رہتی تو بات آئی گئی ہوسکتی تھی، لیکن میرے دماغ میں اچانک کیا آیا۔ میں نے صلاح دی۔
’’اس کے ساتھ اسٹڈ (Stud) کیوں نہیں پہن لیتے۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی کسی نے اسے ایک خوبصورت اسٹڈ کا جوڑا تحفے کے طور پر دیا تھا۔ اس نے وہ قمیص اتار کر پَرے پھینک دی اور خود ایک قمیص اٹھا کر پہننے لگا۔ ساتھ ہی مجھ سے مخاطب ہوا، اپنے کام کی طرف کبھی دھیان ہی نہیں دیتیں۔ سارا دن نہ جانے کیا کرتی رہتی ہو؟‘‘
یہ زیادتی تھی۔ سارا دن میں کچھ بھی کروں کسی کو اس سے کیا مطلب؟ یہ مرد لوگ سمجھتے ہیں شاید اُنھیں ہی کام رہتا ہے۔ عورتیں تو بس مکھیاں مارتی رہتی ہیں۔ یہ بھی کیا ذلالت ہے۔ اب آں جناب کو گنواؤں کہ ہم کیا کیا کام کرتے ہیں۔ میاں کی تیاری، بچوں کی تیاری کھانا پکوانا، بازار جانا، سہیلیوں سے ملنا۔ کافی پارٹی جانا، گپّیں ہانکنا، کیا یہ کام نہیں، شاہدؔ کی اِس چوٹ پر مجھے بہت غصہ آیا۔ لیکن میں نے غصے کو دباتے ہوئے بظاہر پرسکون لہجے میں کہا۔
’’غصہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر بٹن نہیں تھے تو تم اسٹڈ پہن سکتے تھے۔‘‘ شاہد کا منہ غصے سے سرخ ہوگیا وہ دانت بھینچ کر بولا۔
’’ملکۂ معظمہ کپڑے نکالنے سے پہلے اُن کو دیکھنے کی تکلیف کیوں نہیں کرتیں؟‘‘
’’تم جانتے ہو۔‘‘ میں نے جواب دیا ’’مجھے یہ گھریلو قسم کے کام پسند نہیں۔‘‘
میرے سکون نے گویا اسے للکارا۔ میری ڈھٹائی نے اُسے چنوتی دی۔ ایک بیوی پاؤں کی جوتی کی یہ مجال! باندی کی پسند کا سوال ہی کب پیدا ہوتا ہے؟
شاہد کی، میرے خاوند، میرے آقا، میرے مجازی خداوند کی غیرت کو ٹھیس لگی۔
’’آئندہ تمہیں یہ ناپسندیدہ کام کرنے کی ضرورت نہیں۔ میرے کپڑوں کو ہاتھ لگانے کی تکلیف مت کیا کرو۔ مجھے اپنی دیکھ بھال کرنی آتی ہے۔‘‘
شاہد کے اندر چھپے ہوئے درندے نے اپنے پنجے نکالے۔ یہ مرد ہمیشہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اور کسی بھی وقت اپنے کنوارپن، اپنی آزاد زندگی کی طرف واپس جاسکتے ہیں۔ ہم عورتیں ہی ہیں جو ازدواجی بندھن کو پاک اور اٹوٹ سمجھتی ہیں۔ اور اس سے چھٹکارا نہیں پاسکتیں۔ یہی ایک مجبوری ہے، یہی ایک بات ہے، جو مردوں کو ہمارے مقابلے میں برتر بنادیتی ہے۔ مجھے ایک گہری چوٹ لگی۔ ایک آدھ لمحہ میں نے ادھر ادھر دیکھ کر اپنی خفت کو چھپانے کی کوشش کی اور پھر کھسیانی سی ہوکر کمرے سے باہر نکل آئی۔
جب ایسا جھگڑا ہوتا ہے تو انسان ہر کام کرتے وقت ضرورت سے زیادہ شور کرتاہے۔ رسوئی خانے سے مجھے شاہدکے جوتے پٹخکنے کی، الماری کا دروازہ بند کرنے کی اور بالآخرکمرے کا دروازہ بند کرنے کی آوازیں آتی رہیں۔ جب وہ باہر نکلا تو میں نے ناشتے کے لئے کہا۔ وہ کرخت لہجے میںبولا۔
’’مجھے کچھ نہیں کھانا۔ تم سب کچھ کھالو۔‘‘
میری بھوک اڑگئی۔ ناشتہ کرتے وقت ہم اتنی باتیں کرتے تھے۔ اُس کے توس پر مکھن لگاتے وقت دنیا کے تمام مسائل پر رائے زنی کرتی تھی۔ شاہد اُس کو Commentar on World Affairs کہتا تھا۔
اس دن شاہد لنچ کے لیے گھر پر نہیں آیا۔ میں نے جب فون کیا تو اس نے کہا کہ اُسے کھانے کی کوئی خواہش نہیں۔ میں نے بھی فیصلہ کیا کہ میں بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھاؤں گی جب تک وہ نہیں کھائے گا۔ ویسے بھی میں سوچ رہی تھی کہ اپنے کھانے میں کمی کروں۔ کیوں کہ میرا جسم ذرا موٹا ہوتا جارہا تھا۔ مجھے ڈائٹنگ کرنا بہت جان جوکھم کا کام لگتا ہے۔ پتہ نہیں یہ عورتیں مہینوں تک ڈائٹنگ کیسے کرسکتی ہیں؟ مجھے تو صبح اٹھتے ہی چائے کے کپ کے ساتھ بھی کھانے کو کچھ چاہیے۔ اس کے بعد ساڑھے آٹھ بجے ناشتہ۔ پھر ایک ڈیڑھ بجے تک میرے پیٹ کے اندر چوہے دوڑنے شروع ہوجاتے ہیں۔ ۲؍بجے تک اگر مجھے لنچ نہ ملے تو میری جان ہی نکل جاتی ہے۔ پھر چار بجے اگر مجھے چائے نہ ملے تو گویا میرا نشہ اترجاتا ہے۔ اور پھر اگر قیامت برپا نہ کرنی ہو تو مجھے ساڑھے آٹھ بجے تک کھانا مل جانا چاہیے۔ کیا باقاعدہ عادتیں ہیں آپ کہیں گے۔ بالکل صحیح فرمایا۔ میرے کھانے کے اوقات دیکھ کر آپ اپنی گھڑیاں ٹھیک کرسکتے ہیں۔
تو اُس دن میرے پیٹ میں چوہوں کا گویا ریس کورس بن گیا۔ اُدھر باورچی خانے سے سالن کی خوشبو بے حال کیے جاتی تھی۔ لیکن میں نے اپنے دل کو سمجھایا کہ تم جنگ کررہی ہو۔ جنگ میں تو ہر قسم کی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص کر ازدواجی جنگ و جدل میں ایک بار ہار مان لی تو پھر عمر بھر کے لیے غلام بن گئے۔ میری آنکھوں کے سامنے بے شمار تاروں نے مجنونانہ ناچ شروع کردیا۔ میرے دماغ میں سیکڑوں ہتھوڑے بجنے شروع ہوگئے۔ لاکھوں بھوکے اور مفلس لوگوں کے جلوس نکلے لیکن میں نے ٹس سے مس نہ ہونے کی قسم کھائی تھی۔
شام کے سات بجے شاہدؔ کے دفتر فون کیا تو پتہ چلا کہ صاحب ابھی فائلوں میں مصروف ہیں۔ کوئی پارلیمنٹ کا سوال تھا۔ پارلیمنٹ کے سوال کے آگے بڑے سے بڑا افسر بھی مجبور ہوتا ہے۔ بس کسی صورت بھی سوال کا جواب مہیا کرنا ہوتا ہے۔ چاہے بچاری بیوی گھر میں کھانے پر انتظار کررہی ہو۔
اس رات شاہد دس بجے گھر آیا۔ آتے ہی اپنے بستر میں گھس گیا۔ میں نے کھانے کی تجویز کی تو جواب میں نہیں کہہ دیا۔ وہ رات غمِ فرقت میں گزری۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے پاس ہی سوتے تھے، لیکن اپنا سانس دبائے اپنے اپنے پلنگ پر لیٹے اندھیرے میں چھت کی کڑیاں گنتے رہے۔ دونوں کو معلوم تھا کہ کسی کو بھی نیند نہیں آرہی ہے۔ لیکن دونوں کی غیرت صلح میں حائل تھی۔ دونوں فریق اپنی اپنی ہٹ پر قائم تھے۔ میرا دل وصل کے لیے تڑپ رہا تھا۔ وصل محبوب کے ساتھ نہیں، بلکہ خوراک کے ساتھ۔ ایسا لگتا تھا جیسے صبح کبھی ہوگی ہی نہیں۔
اگلے دن شاہد خود ہی تیار ہوکر دفتر چلا گیا۔ نہ میں نے کھانے کے لیے پوچھا ، نہ اس نے کچھ کہا۔ لنچ کے وقت میں نے اپنی ماما سے کہا کہ صاحب کے پی اے کو فون کرکے پوچھ لو کہ کھانے کے لیے گھر آئیں گے یا نہیں۔ پی اے نے نفی میں جواب دیا۔ اور اب مجھ سے بھوک برداشت نہیں ہوسکتی تھی۔ میں نے تھوڑا سا کھانا کھالیا۔ اس طرح شام کو چند گھونٹ چائے بھی پی لی۔ میں نے روزہ توڑ دیا، لیکن مجھے ایسا لگا جیسے میں نے کوئی گناہ کرلیا ہو۔ جیسے شاہد کے ساتھ میں نے بے وفائی کی ہو۔ جیسے میں نے جنگ کے کوڈ کی خلاف ورزی کی ہو۔ مجھے خود اپنے آپ سے نفرت ہونے لگی۔ شاہد بے چارہ بھوک سے پریشان سارا دن دفتر میں کام کررہا تھا۔ اور میں گھر میں خالی بیٹھی اس کا اتنا ساتھ بھی نہ دے سکی۔ اورپھر میں نے اس جنگ کی وجوہ پر نظرثانی کی تو مجھے محسوس ہوا کہ غلطی میری تھی۔ اگر میں اس وقت اپنی غلطی کا اعتراف کرلیتی تو بات آئی گئی ہوجاتی۔ یہ میرا ہی قصور تھا جو بات کا اتنا بتنگڑ بن گیا۔ میرے ضمیر نے مجھے بہت کوسا اور میں نے یہ فیصلہ کیا کہ شام کو شاہد آئے گا تو اس سے معافی مانگ کر اپنے گناہ کی تلافی کرلوں گی۔
اس شام میں نے شاہد کی پسند کے سالن بنوائے۔ اس کا دل پسند میٹھا بنوایا اور کھانے کی میز اس اہتمام سے لگائی جیسے کوئی خاص دعوت ہو۔ مجھے شاہد پر بہت ترس آرہا تھا۔ شام کو جب وہ گھر آیا تو میں نے کہا مجھے افسوس ہے غلطی میری تھی۔ اب اس بات کو طول مت دو۔
جب تک جھگڑا چلا ایسا لگتا تھا گویا اب زندگی کا انت ہوگیا۔ جوں ہی میں نے غلطی کا اعتراف کیا، گویا ایک نیا جیون شروع ہوگیا، ایسا لگا جیسے ہم نے کبھی جھگڑا کیا ہی نہیں تھا۔ یہ پچھلے دو دن ویران، یتیم دن، جیسے صدیوں پہلے تاریخ میں واقع ہوئے تھے۔
شاہد نے کھانا بہت پسند کیا۔ اس کے بعد ہم پکچر دیکھنے گئے اور پھر بات آئی گئی ہوگئی۔
وقت گزرتا گیا۔ لیکن میرے دل میں چور تھا۔ یہ بات کہ میں نے بھوک ہڑتال کے دوران شاہد کے ساتھ فریب کیا تھا، مجھے گھن کی طرح کھائے جارہی تھی۔ میرا دل چاہتا تھا کہ میں کسی طرح اقبالِ جرم کرلوں۔ جب تک میں یہ نہ کرلوں گی میری بے چینی دور نہ ہوگی۔
آخر ایک دن جب ہم سونے لگے تھے، میں نے فیصلہ کیا کہ میں شاہد کو یہ بات بتادوں گی۔ جوں ہی شاہد نے بتّی بجھائی میں نے ہچکچاتے ہوئے کہا کہ مجھے اس سے ایک خاص بات کرنی ہے۔
کہو کیا بات ہے۔ شاہد نے پوچھا۔
’’تم مجھے معاف کردو گے؟‘‘ میں نے پوچھا
’’بھئی پہلے کچھ بتاؤ تو پھر فیصلہ کریں گے۔‘‘ میں نے لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ کمرے میں اندھیرا تھا ورنہ روشنی میں ایسی بات کرنا بڑا مشکل ہوتا۔
’’وہ پچھلے ماہ… ہماری لڑائی ہوئی تھی… اس کے بارے میں…‘‘
’’ہاں بھئی وہ تو بات ختم ہوگئی نہ۔ تم نے معافی مانگ لی تھی۔ ہم نے معافی دے دی ، معاملہ صاف!‘‘
’’نہیں بات یہ ہے کہ … تم نے دو دن لڑائی کی وجہ سے کھانا نہیں کھایا تھا…‘‘
’’ہوں…‘‘ شاہد نے ہنکارا بھرا۔
’’میں نے بھی تمہارے ساتھ بھوک ہڑتال کی تھی۔‘‘
’’میں جانتا ہوں۔‘‘ وہ بولا
’’دراصل بات یہ ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوسرے دن، میں بھوک کی تاب نہ لاسکی اور میں نے کھانا کھالیا۔‘‘
’’تو پھر کیا ہوا…‘‘ شاہد بولا۔
’’میں نے تمہارے ساتھ دھوکا کیا، میں نے تمھیں یہ جتلا کر کہ میں نے کھانا نہیں کھایا۔ اصل میں کھانا کھالیا۔‘‘
’’ہوں… تو تم نے کھانا کھالیا تھا۔‘‘ شاہد نے بڑے فاتحانہ انداز میں کہا۔
’’جی…‘‘ میں نے بہت ادب کے ساتھ کہا۔ ’’میں واقعی بہت شرمندہ ہوں…‘‘
اندھیرے میں شاہد کے ہنسنے کی آواز آئی۔
’’خیر کوئی بات نہیں…‘‘ اس نے کہا اور پھر کچھ وقفے کے بعد بولا:
’’بات یہ ہے کہ میں نے بھی کلب میں کھانا کھالیا تھا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے زور کا قہقہہ لگایا اور مجھے اپنی بانہوں میں لپیٹ لیا۔
اس بات کو برسوں بیت گئے ہیں، ہمارا جھگڑا اب بھی ہوتا ہے۔ لیکن اتنا زیادہ نہیں۔ نہ ہی اتنا شدید اور جھگڑا کیسا بھی ہو، اب ہم میں سے کوئی بھی بھوک ہڑتال نہیں کرتا۔
——




