حلال کمائی اور اس کی اہمیت

ابوالمجاہد زاہدؔ

حلال اور جائز طریقے سے روزی کمانا اور رزق کی جستجو کرنا فرض ہے۔ اسلام میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ قرآن کریم میں حکم دیاگیاہے:
یاایھا الذین آمنوا کلوا من طیبات ما رزقنکم واشکرواللّٰہ۔
’’اے ایمان والو! ان پاک چیزوں میں سے کھائو جو ہم نے تم کو دی ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ ‘‘
آنحضرتؐ نے تمام مشاغل زندگی، تجارت، صنعت وحرفت وغیرہ کے متعلق حکم دیاہے کہ پاکیزہ طورپر رزق حاصل کریں ۔فرمایا: ’’سچا تاجر قیامت کے دن شہدا کے ساتھ رکھاجائے گا۔‘‘
ایک حدیث میںحلال روزی کے سلسلہ میں ارشاد فرمایاکہ فریضۂ خدا کے بعد مقدم فریضہ کسب حلال ہے۔’’ رزق حلال کاطلب کرنا فرض ہے، اللہ کے فریضہ کے بعد۔‘‘ (بیہقی)
حرام مال تو نجاست ہے اور یہ نجاست عبادت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے جو عبادت کو بے کار بناکر رکھ دیتی ہے۔
حرام مال کے استعمال سے نماز قبول نہیں ہوتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
من اشتری ثوباً بعشرۃ درہم وفیہ درہم حرام لم یقبل اللّٰہ تعالیٰ لہ‘ صلاۃ مادام علیہ (مسند احمد،ترغیب وترہیب)
’’اگر کسی نے دس درہم (روپے( کا ایک کپڑا) خریدا اور ان دس درہموں میں ایک درہم حرام ہے (جوکسی ناجائز ذریعہ سے حاصل ہواتھا) تو جب تک وہ شخص اس کپڑے کو پہنے رہے گا، اس کی کوئی نماز اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرے گا۔‘‘
یہاں نماز کاذکر مثال کے طورپر کیاگیاہے ورنہ کوئی بھی عبادت قبول نہ ہوگی، نماز ہی پردوسری عبادتوں کو قیاس کرنا چاہیے۔
دعا قبول نہیں ہوتی
جب مال حرام ہوگا تو دعا بھی قبول نہیں ہوگی۔ ایک حدیث میں نبی کریمؐنے ارشاد فرمایا : ان اللہ طیب لا یقبل الا طیبا ( اللہ تعالیٰ خود پاک ہے اور وہ صرف پاک مال ہی کو قبول کرتا ہے) اس کے بعد آپ نے رزق طیب حاصل کرنے کی تاکید فرمائی اور آخر میں ایک شخص کاذکر فرمایا جو لمبا اور دور درازکا سفر کرکے (خانہ کعبہ یا کسی خاص مقدس اور متبرک مقام پر دعا کرنے کے لئے) اس حال میں آئے کہ اس کے بال گرد آلود اور الجھے ہوئے ہوں اور سر سے پائوں تک دھول میں اٹا ہوا ہو، پریشانی اس کے چہرے سے ٹپکتی ہو اور آسمان کی طرف دونوں ہاتھ اٹھاکر وہ روروکر اور گڑگڑاکر دعا کرتاہے اور کہتاہے:
یا ربّ یارب ومطعمہ‘ حرام ومشربہ حرام وملبسہ حرام وغذی بالحرام فانّٰی یستجابُ لذالک (مسلم -مشکوٰۃ)
وہ شخص اے میرے رب! اے میرے پاک پروردگار! کہہ کر خوب گڑگڑاکر دعائیں کرتاہے کہ ایسا کردے، یہ دیدے، وہ دیدے (میری پریشانی دور کردے، مجھے مصیبتوں سے بچالے، میرے اوپر رحم فرما لیکن اس کی حالت یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام ہے، پہننا اس کاحرام ہے مال سے ہو اور حرام مال ہی سے اس کی پرورش ہوئی ہوتو اس حالت میں اس کی دعا کیوں کر قبول ہوگی؟
حدیث کامطلب یہ ہے کہ دعا کی قبولیت اور نماز کی مقبولیت کا دارومدار صرف حلال کمائی پر ہے، جس شخص کا کھانا پینا وغیرہ حرام مال اور ناجائز آمدنی سے ہوتو اس کی دعا قبول نہیں ہوسکتی، چاہے وہ ہزاروں میل کاسفر کرکے خانہ کعبہ ہی میںجاکر کیوں نہ دعا مانگے۔
لایدخل الجنۃ جسد غذی بالحرام (مشکوٰۃ)
جو جسم حرام غذا اور ناجائز آمدنی سے پلا ہو، وہ جنت میں نہ جاسکے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ کی رضاو رحمت حاصل کرنے کے لئے اور سچا مسلمان بننے کے لئے جس طرح نماز روزہ وغیرہ عبادات اور اخلاق حسنہ ضروری ہیں، اسی طرح حلال روزی اور ذرائع آمدنی کی صحت اور پاکی بھی ضروری ہے۔
قیامت کے دن جب انسان سے اس کی زندگی کے ایک ایک عمل کا حساب لیاجائے گا تو اس سے ایک سخت باز پرس یہ بھی ہوگی کہ روزی تم نے کہاں سے کمائی اور کہاں خرچ کی۔
——

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146