گوشت کے پارچے
بازار سے جب ہم گوشت کے پارچے بنواتے ہیں تو وہ موٹے ہوتے ہیں۔ پکانے کے بعد ان کی شکل بے ڈھب ہوجاتی ہے۔ پسندے بھی اچھے نہیں لگے اور بہاری کباب بھی صحیح نہیں بنتے۔ گوشت کے پارچے کیسے بنوائے جائیں جو شکل میں اچھے لگیں۔ (رعنا امین)
lرعنا بی بی! پہلے قصائی بڑی محنت سے گوشت بناتے تھے۔ پارچے بنا کر ان کو لکڑی پر رکھ کر آہستہ آہستہ کٹ لگاتے تھے جس سے پسندے جلد پکتے اور ان کی شکل اچھی لگتی۔ آپ بازار سے کلو ڈیڑھ کلو گوشت کا بڑا ٹکڑالے آئیں۔ دھوکر اسے فرج کے اوپر والے خانے میں رکھ دیں۔ جب سخت ہوجائے تو نکال کی تختے پر رکھ کر آپ ڈبل روٹی کے سلائس کی طرح اپنی مرضی کے ٹکڑے کاٹ لیں۔ چھری تیز ہونی چاہیے۔ گوشت اگر نرم پڑجائے تو دوبارہ فرج میں رکھ دیں۔ آپ حیران ہوں گی کہ اس قدر باریک پارچے کیسے بنے ہیں۔ ان پارچوں پر آپ کانٹے سے نشان بھی لگاسکتی ہیں۔ ویسے بغیر نشان کے بھی پارچے گل جاتے ہیں۔ میں گھر میں اسی طرح پسندے اور بہاری کبابوں کے لیے پارچے کاٹتی ہوں۔
بھینس کی کھجلی
ایک بیماری ایسی ہوتی ہے جس میں مریض بھینس کی طرح متاثرہ حصہ دیوار کے کنارے یا دروازے کی چوکھٹ کے ساتھ رگڑتا ہے۔ مجھے ایک زمانے میں سوراتی سس ہوگیا تھا جو دوا سے ٹھیک تو ہوگیا تھا مگراب بائیں کندھے کے ذرا نیچے کھجلی ہوتی ہے۔ جب تک کھجاتا رہتا ہوں کھجلی میں کمی ہوتی ہے، مزہ بھی آتا ہے۔ وہ جگہ بھی سخت، کھردری اور سیاہ ہوتی جارہی ہے۔ آپ سے درخواست ہے اس بارے میں ضرور لکھئے، تاکہ دوسروں کا بھی بھلا ہو۔ (فاروق ہاشمی)
lجلدی بیماریوں میں سر کے کو بہت مفید پایا گیا ہے۔ بلکہ اسی سلسلے میں محمد خالد غزنوی مرحوم سے بھی کئی بارملاقات ہوئی۔ ان کا بھی یہی تجربہ تھا۔ سرکہ پھلوں کا ہونا چاہیے۔ میں تو Dittus کا سرکہ استعمال کراتی ہوں۔ تھوڑے تھوڑےمنہدی کے تازہ پتے، ہالیون، میتھی دانہ، سنام مکی کوٹ کر سرکے میں ملا کر ہلکی آنچ پر پانچ سات منٹ پکاکر ٹھنڈا چھان کر رکھ لیں۔ صبح وشام لگانے سے تکلیف دور ہوتی ہے۔ جسم میں کہیں بھی پھپھوندی ہو۔ حد یہ نا خون میں بھی، تو آرام آتاہے ۔ شہد بہت اچھی دوا بھی ہے اور غذا بھی۔ ایک بڑا چمچہ شہد گرم پانی میںڈال کر نہار منہ پیئیں۔ قسطِ شیریں لکڑی کی طرح ہوتی ہے، اسے پیس کر رکھ لیں، چائے کی چمچی سے ذرا کم پانی کے ساتھ صبح وشام کھانے سے جلدی بیماریوں میں کمی ہوجاتی ہے۔ ناشتے میں جو کا دلیہ لیں۔
جنوبی افریقہ سے ایک بھائی کا فون آیا تھا ان کی دونوں پنڈلیاں خراب دانوں سے بھری تھیں اور چلا نہیں جاتا تھا۔ میں نے انھیں دوچار دن مہندی کے پتے پیس کر زیتون کے تیل میں ملا کر صبح و شام لگانے کو کہا۔ پھر مہندی کے پتے پھلوں کے سرکے میں پکا کر لگانے کی تاکید کی، ایک ماہ بعد ان کا ٹیلی فون آیا۔ ان کی دونوں پنڈلیاں ٹھیک ہوگئی تھیں۔
مہندی زخموں کو بھر دیتی ہے۔ آپ کسی اچھے دوا خانے سے بھی مصفی خون دوا لے سکتے ہیں۔ مہندی کے مٹھی بھر پتے دو کلو پانی میں پکا کر چھان کر رکھ لیں۔ اس کے پینے سے بھی ٹھنڈ پڑتی ہے۔ پانی گلابی رنگ کا ہوجاتا ہے۔ پتے دھو کر ڈالنے چاہئیں۔
بہرحال آپ مہندی کے تازہ پتے سرکے (پھلوں والا) میں پیس کر صبح شام لیپ کریے۔ مہندی کے پتوں کا پانی پیا کریں صبح شہد گرم پانی میں، ناشے میں دلیہ۔ دوپہر کے کھانے میں سبزی اور آدھا کپ دہی لیجیے۔ قسط شیریں کھائیے، فرق پڑجائے گا۔
سفید ہونٹ
پچھلے دنوں میں کافی بیمار رہی۔ اب ٹھیک ہوں مگر میرے چہرے پر ایک نمایاں تبدیلی آگئی ہے۔ میرے ہونٹ گلابی نہیں رہے بلکہ سفید ہوگئے ہیں جو بہت عجیب لگتے ہیں۔ ڈاکٹر کچھ نہیں بتاتے۔ میرے ہونٹ کس طرح ٹھیک ہوں گے۔ میں دوا بھی نہیں کھانا چاہتی۔ (شاہینہ اکرام)
lہونٹ بعض دفعہ معدے کی کمزوری، بیماری کے بعد جسم میں قوتِ مدافعت کی کمی اور سردی کی وجہ سے بھی سفیدپڑجاتے ہیں۔ آج کل اناروں کا موسم ہے۔ انار کے دانوں میں فولاد وافر ہوتا ہے، معدے کو مضبوط کرتا اور بھوک بھی لگاتا ہے۔ جب جسم میں خون کی کمی ہو تو انار ہی فائدہ دیتاہے۔ آپ انارکا جوس روزانہ پینا شروع کریں، جوس نہیں تو ایک بڑا انار روزانہ کھائیے۔ ایک ماہ میں ہی ہونٹوں کی سفیدی گلابی پن میں بدل جائے گی۔ چقندر کے قتلے کاٹ کر سلاد کی طرح کھائیے۔ ایک ٹکڑا ہونٹوں پر بھی ملیے۔ ایک چقندر آپ سلاد میں ڈال سکتی ہیں۔
اعصابی تھکن
پچھلے دنوں کام کی بہت زیادتی رہی۔ راتوں کو جاگتا رہا۔ ذہنی پریشانی بھی تھی۔ اب کئی ہفتوں سے مجھے نیند نہیں آرہی۔ نیند کی گولیاں کھانا نہیں چاہتا۔ ایسا لگتا ہے میرے اعصاب ٹوٹ چکے ہیں۔ تھکن ہی تھکن ہے۔ بتائیے۔ میں کیا کروں۔ (شبیر احمد)
lاصل میں کام کی زیادتی کی وجہ سے یہ ساری ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے۔ آرام بھی ضروری ہے۔ آپ ایک پرانا ٹوٹکا استعمال کریں۔ ایک چمچہ خشخاش، سات بادام، چہار مغز چائے کی آدھی چمچی پیس کر رات کو گرم دودھ میں ملا کر پی لیا کریں۔ خشخاش جسم کو طمانیت اور بادام دماغ کو سکون دیں گے۔ دس پندرہ دن پی لیں۔ انشاء اللہ معمول کے مطابق نیند آنے لگے گی۔ روغن خشخاش کہیں سے مل جائے تو رات کو سوتے وقت دونوں کنپٹیوں پر انگلی سے مساج کریں۔ اس سے بھی نیند آتی ہے۔ عشا کی نماز کے بعد لیٹنے سے پہلے درود شریف پڑھنے سے بھی سکون ملتا ہے۔ نماز اور درود پاک پڑھنے سے ذہنی پریشانیاں بھی ختم ہوجاتی ہیں۔ نماز کی پابندی سے دل و دماغ پر مایوسی کے بادل کبھی نہیں چھاتے۔
چھینکوں کی بھرمار
موسم کے بدلتے ہی میرا بہت برا حال ہوجاتا ہے۔ صبح اٹھتے ہی چھینکیں آتی ہیں اور ایک گھنٹے بعد ہی کچھ سکون ہوتا ہے، پھر میں دفتر جاتا ہوں۔ چائے پینے سے سکون ملتا ہے۔ ڈاکٹر اسے الرجی کہتے ہیں۔ اس کے لیے کچھ بتائیے۔ (سردار عالم)
lموسم بدلنے کی وجہ سے اکثر لوگوں کو یہ شکایت ہوتی ہے۔ سردی آتے اور جاتے یہ الرجی اپنا زور دکھاتی ہے۔ کچھ لڑکیوں کو بھی یہ تکلیف تھی مگر رات کو موٹا دوپٹہ مفلر کی طرح سر پر لپیٹ کر سونے سے انھیں بہت آرام ملا۔ گرم گرم بستر سے یک دم باہر نکلنے سے بھی جسم پر سرد گرم ہوتا ہے۔ آپ بازار سے میتھی دانہ لائیے، چائے کی ایک چمچی میتھی دانہ ایک پیالی پانی میں ملا کر جوش دیجیے۔ پانی تھوڑا سا زیادہ بھی ڈال سکتے ہیں۔ جب اچھی طرح جوش آجائے تو ٹھنڈا ہونے دیں، پھر چھلنی سے چھان لیں۔ رات کو سونے سے پہلے دو تین ہفتہ پی لیں، فرق پڑجائے گا۔ ہمارے حکیم بہت عقلمند تھے۔ انھوں نے میتھی دانہ کو سالن اور اچار میں ملا کر اچھا طریقہ اپنایا مزید یہ کہ سخت سرد موسم میں میتھی دانہ کی کھچڑی پکا کر اوپر سے دیسی گھر ڈال کر ناشتے میں کھانے کا رواج دیا۔ میتھی کے بے شمار فوائد ہیں۔ سردی کے موسم میں میتھی ضرور کھائیے۔ اس سے جسم کو طاقت ملے گی۔
توہمات
میں ہر وقت توہمات میں گھری رہتی ہوں۔ گھر سے نکلتے وقت کالا کپڑا، کالا کتا یا بلی دکھائی دے، تو نقصان ہوتا ہے۔ ہاتھ سے گلاس یا پیالی گر کر ٹوٹ جائے تو میرا دل دہل جاتا ہے۔ منگل کے روز میں کہیں نہیں جاتی۔ جب بھی گھر سے نکلی نقصان ہوا۔ اسی طرح تیرہ کا عدد منحوس ہے۔میرے شوہر اس بات پر بہت بولتے ہیں۔ بتائیے یہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ میں نے بہت دفعہ آزمایا ہے، ہمیشہ سچ ہوتا ہے۔ (بیگم امیر علی)
lہمارے ملک میں ہی نہیں باہر کے ممالک میں بھی توہم پرستی موجود ہے۔ دراصل مذہب سے دوری نے ہمیں اس وہم میں مبتلا کردیا ہے۔ ایمان مضبوط ہو تو کچھ نہیں ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں سب کچھ ہے اور کوئی کچھ نہیں کرسکتا نہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ کالی بلی راستہ کاٹ لے تو قیامت نہیں آئے گی؟ آپ نماز کی پابندی کیجیے۔ مسنون دعائیں پڑھ لیا کریں۔ گھر سے جب بھی نکلیں آپ ایک بار پڑھ لیا کیجیے، بسم اللہ توکلت علی اللہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔ پڑھنے سے آپ توہمات سے ہٹ کر اپنے رب پر بھروسا کرنے لگیں گی۔
یہ بھی ایک قسم کی بیماری ہے۔ وسوسے اور شیطانی خیالات آنے لگتے ہیں۔ آپ کے بچے بھی آپ کی اس عادت سے یہی سیکھیں گے۔ آپ کے شوہر ٹھیک کہتے ہیں۔ وہم میں بالکل نہیں پڑنا چاہیے۔ اللہ پر بھروسا کریں، سارے توہمات دور ہوجائیں گے۔
ادرک کھائیے
محمد احمد صاحب پوچھتے ہیں کہ مجھے کھانا ہضم نہیںہوتا، پیٹ میں درد بھی رہتا ہے۔ پیٹ ہوا سے پھول جاتا ہے، بتائیے کیا کروں؟ ادرک پیٹ کے لیے بہت مفید ہے۔ پیٹ میں ہوا بھر جائے تو نکال دیتی ہے۔ اب سردیاں آرہی ہیں۔ موسمی اثرات سےمحفوظ رکھے گی۔ آپ آدھا کلو ادرک خریدئیے۔ اس میں ریشہ نہیں ہونا چاہیے۔ چھیل کر باریک ٹکڑے کاٹ لیں۔ تھوڑے سے پانی میں ڈال کر اسٹین لیس اسٹیل کی دیگچی میں ڈھانک کر ہلکی آنچ پر پکائیے۔ ادھ گلی ہوجائے تو اتار کر چھان کرکسی بڑے برتن میں ٹھنڈا کرلیں۔ آدھ کلو چینی لے کر آدھے کپ سے زیادہ پانی ڈال کر شیرہ پکائیے۔ جب اس میں تار بننے لگے تو ادرک ڈال کر ہلکی آنچ پر رکھیے۔ اتار کر اسے رات بھر رکھا رہنے دیں۔ صبح اگر اس میں شیرہ زیادہ لگتے تو ایک بار پھر پکالیں۔ ٹھنڈا کرکے مرتبان میں رکھئیے ایک دو ٹکڑے کھانے کے بعد کھالیا کیجیے۔ بہت فائدہ ہوگا۔
میرے ایک عزیز کو کھانے کے بعد ڈکاریں آتی تھیں۔ پیٹ میں ہر وقت ہوا رہتی تھی۔ ان کو میں نے بتایا ادرک باریک کاٹ کر رکھ لیں، جیسے نہاری کے لیے باریک باریک کاٹی جاتی ہیں۔ کھانے کے بعد تین چار باریک ٹکڑے ہلکا سا نمک چھڑک کر آہستہ آہستہ چبا کر کھائیں۔ پانی نہ پئیں۔ اس سے تکلیف دور ہوگئی۔ جن لوگوں کا بلڈ پریشر زیادہ رہتا ہو، وہ نمک نہ ڈالیں۔ باہر کے ممالک میں ادرک سے بنی خوش ذائقہ گولیاں اور ٹافیاں ملتی ہیں۔ ان کی خوشبو اور مہک دیر تک رہتی ہے۔ گوبھی، چنے کی دال، ماش کی دال میں ادرک ڈال کر کھایا جائے تو اس کا بادی پن دور ہوجاتا ہے۔l


