سرکس کا بندر

محمد طارق

سرکس کا بندر سرکس میں رہتے ہوئے تماشائیوں کو اپنے نت نئے کرتب دکھا کر لوگوں کی توجہ اپنی طرف کرنے میں کافی ماہر ہو چکا تھا۔

ایک دن جوکروں کے ہمراہ کرتب دکھاتے ہوئے اُسے خیال آیا کہ اس کی مثالی اداکاری کی وجہ سے تماشا بین اتنے خوش ہو جاتے ہیں کہ تالیاں اور سیٹیاں بجاتے نہیں تھکتے۔ وہ ایک اچھا ابھینیتا ہے کیوں نہ وہ اب نیتا بن جائے۔ نیتا اور ابھینیتا میں فرق تو صرف تین شبدوں کا ہی ہے۔ معاملہ ’’تین تیرہ‘‘ کرنے کا ہے۔ ویسے بھی دنیا کے بیشتر ممالک کے حکمران ’’تین تیرہ، بارہ باٹ‘‘ کے مثل پر عمل پیرا ہیں۔ اس خیال کے آتے ہی دوسرے دن بندر سرکس کے رنگ ماسٹر کو چکما دے کر جنگل کی طرف بھاگ گیا۔

جنگل میں پہنچ کر وہ گھنے درختوں پر بیٹھے ہوئے بندروں سے ملا اور نہایت ہمدردانہ لہجے میں ان سے مخاطب ہوا: ’’بھائیو بہنو! میں سرکس کا بندر ہوں، سرکس چھوڑ کر آپ کا سیوک بننے کے لیے چلا آیا ہوں۔ سیوا بھاؤ میرے من میں رچا بسا ہے، بھائیو بہنو! میں اپنا من چیر کر آپ کو دکھا دیتا مگر یہ سمجھو گے نہیں! آپ لوگ چاہیں تو مجھے اپنے وشواس کے ترازو میں تول سکتے ہیں!‘‘ سرکس کے بندر کا انداز بیان نہایت جذباتی تھا۔

سرکس کے بندر کی بات سن کر ایک بندر زیر لب مسکرایا اور بولا: ’’وشواس کا ترازو تو ہمارے پاس نہیں ہے، ہاں، پرانے زمانے میں ہمارے ایک بزرگ جنھیں جج بننے کا بے حد شوق تھا، ان کے پاس ایک ترازو ہوا کرتا تھا جس سے وہ روٹی کے لیے لڑنے والی بلیوں کے درمیان انصاف کیا کرتے تھے۔ انھیں انصاف کرنے کی ایسی ’لت‘ پڑ چکی تھی کہ اگر وہ کہیں دو بلیوں کو پیار و محبت سے آپس چومتے، چاٹتے دیکھتے تو اُن کے تن بدن میں آگ لگ جاتی وہ فوراً روٹی کی تلاش میں دیوانہ وار نکل پڑتے… کسی بھی طرح روٹی حاصل کر کے دم لیتے اور پھر بلیوں کے سامنے روٹی چھینک دیتے۔ بلیاں روٹی کے لیے لڑ پڑتیں پھر ہمارے بزرگ جج بندر خوشی خوشی ترازو کی مدد سے ان کا انصاف کر دیتے۔ تب ہی ان کے من کو شانتی ملتی۔‘‘

’’ہاں— ہاں، میں جانتا ہوں، تم سچ کہہ رہے ہو!‘‘ سرکس کے بندر نے ابھینیتا کی طرح اداکاری کی۔

’’پھر تو آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ وہ ترازو اب ہے کہاں؟!‘‘ بندر نے ہاتھ نچا کر پوچھا۔

سرکس کا بندر لاجواب ہو کر جنگل کے بندروں کو تکنے لگا…

وہ بندر جو سرکس کے بندر سے مخاطب ہوا تھا، بولا: ’’آپ سرکس چھوڑ کر ہمارے سیوک بننے کے لیے آئے ہیں، اتنا بھی نہیں جانتے کہ وہ ترازو اب چند طاقتور ممالک کے حکمرانوں کے پاس ہے جس سے وہ دنیا میں انصاف کی ٹھیکیداری کرتے رہتے ہیں!‘‘

’’ہاں—، ہاں میں یہ بھی جانتا ہوں، میں خاموش اس لیے تھا بھائیو بہنو! کہ میں یہ جاننا چاہ رہا تھا کہ تم انصاف کے ترازو کے بارے میں کتنا جانتے ہو۔ مجھے بے انتہا خوشی ہو رہی ہے کہ تم وہ سب جانتے ہو جو میں جانتا ہوں!‘‘ سرکس کے بندر نے پینترا بدلا اور بولا: ’’مگر جاننے سے کچھ نہیں ہوتا، متر و! اس کے لیے کچھ کرنا پڑتا ہے، بھائیو بہنو! یہ میں خوب جانتا ہوں۔ اسی لیے میں سرکس کا عیش و آرام تیاگ کر اپنے بندر سماج کی سیوا کرنے کے لیے چلا آیا ہوں۔ میں آیا نہیں ہوں، بلایا گیا ہوں۔ تمہارے دکھوں اور تمہاری پریشانیوں نے مجھے بلایا ہے۔ اسی لیے میں چلا آیا ہوں متر و! مجھے اپنے سماج کی بہت چنتا ہے۔ بہت چنتا۔ مجھے سیوا کا موقع دیجیے، میں آپ سب کا کلیان کر دوں گا، سب کا وکاس کروں گا۔ اپنے سماج کو آکاش کی بلندیوں تک لے جاؤں گا۔ مجھے سیوا کا ایک موقع دے کر تو دیکھو بھائیو بہنو! دیکھنا متر و، ساری دنیا ہمارے بندر سماج کے وکاس کو دیکھ کر دنگ رہ جائے گی۔ بس آپ کا ساتھ اور آپ کا وشواس چاہیے۔ وکاس تو میں چٹکی بجاتے کر دوں گا۔‘‘

’’کر دیجیے ہمارا وکاس، کیجیے ہماری سیوا، ہم آپ کو سیوا کرنے کا فل چانس دیتے ہیں!‘‘ ایک بندر اپنے ہاتھ کی انگلیوں کا چھلا دکھا کر چہکا۔

’’ایسا کہنے سے نہیں ہوتا بھائیو بہنو! سیوا کے لیے پہلے سیوک بننا پڑتا ہے۔ سیوک بنانے کی کرونالوجی پہلے آپ لوگ سمجھ لیجیے!‘‘ سرکس کے بندر نے پھر پینترا بدلا۔

’’سمجھایئے—!‘‘ سرکس کے بندر کے پاس بیٹھا بندر جمائی لے کر بولا۔

’’مجھے اپنا سیوک بنانے کے لیے آپ سب کو میری حمایت میں ہاتھ اٹھانا ہوگا۔‘‘ سرکس کے بندر نے کہا۔

’’کوئی بات نہیں، ہم اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اعلان کر دیتے ہیں کہ آپ ہمارے سیوک ہیں، کیوں میرے ساتھیو!‘‘ بڑا بندر ساتھیوں سے مخاطب ہوا۔

’’ہاں— ہاں‘‘ کی آواز کے ساتھ ہی سارے بندر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر ایک آواز میں بولے۔

’’سرکس کا بندر ہمارا سیوک ہے— سرکس کا بندر ہمارا سیوک ہے۔‘‘

سرکس کا بندر من ہی من خوش ہو گیا اور پھر خالص منجھے ہوئے نیتا کی طرح بندروں سے مخاطب ہوا: ’’بھائیو بہنو! آپ نے مجھے اپنا سیوک تسلیم کر لیا ہے۔ سیوک ایک طرح سے راجا بھی ہوتا ہے، کیا آپ مجھے اپنا راجا مانتے ہو؟— بولو مانتے ہو کہ نہیں مانتے؟!‘‘ سرکس کا بندر جنگل کے بندروں سے پوچھنے لگا۔

’’ہاں مانتے ہیں، آگے بولو آپ ہمارے لیے کیا کیا کریں گے؟‘‘

’’بھائیو بہنو! میں آپ سب کی ساری پریشانیاں، سارے دکھ، ساری مصیبتیں دور کرنے کی کوشش کروں گا۔ آپ سب نے مجھ پر وشواس کیا ہے۔ میں اس وشواس کو قائم رکھوں گا۔ آپ کی پریشانی میری پریشانی ہوگی، آپ کا دکھ میرا دکھ ہوگا، میں اپنے سماج کے وکاس کے لیے اپنی جان تک قربان کر دوں گا۔ آپ کے وشواس کو ٹوٹنے نہیں دوں گا، بھائیو بہنو— ٹوٹنے نہیں دوں گا۔ یہ میرا وعدہ ہے— بندر سماج کے ایک سچے سیوک کا وعدہ!‘‘ بندر ابھینیتا کی طرح اپنی آنکھوں میں آنسو لے آیا۔

سارے بندر اس کی اداکاری سے متاثر ہو گئے اور اس وقت تک متاثر رہے جب تک انھیں بھوک نہیں لگی۔ جب بندروں کی آنتیں بھوک سے پیچ و تاب کھانے لگیں تب ایک بندر نے سرکس کے بندر سے کہا: ’’راجا جی! ہمیں بھوک لگی ہے— بھوک۔‘‘

’’ایسا؟!، بھوک لگی ہے، کوئی بات نہیں۔ بھوک تو لگتی ہے اور لگنا بھی چاہیے، بھوک کا لگنا اچھی بات ہے— بہت اچھی بات، بھائیو بہنو! بھوک کا نہیں لگنا ایک بیماری ہے۔ ایسی بیماری جس سے جسم کمزور ہو جاتا ہے۔‘‘

’’ارے راجا جی! ہم نے آپ سے بھوک پر بھاشن دینے کا نہیں کہا! ہمارے بھوجن کا انتظام کیجیے!‘‘ بڑا بندر چِڑ کر بولا۔

’’ٹھیک ہے میں تمہارے بھوجن کا ابھی انتظام کر دیتا ہوں— سنو، میں جس راستے سے آیا ہوں اس راستے کے دونوں طرف دور دور تک ارہر اور جوار کے کھیت ہیں۔ ان کسانوں کے کھیتوں پر قبضہ کرنے کے لیے ہمیں متحد ہو کر کھیت کے رکھوالوں پر حملہ کرنا ہوگا۔ اتحاد میں بڑی طاقت ہوتی ہے، بھائیو بہنو! جب ہم سب ایک جٹ ہو کر ان پر حملہ کریں گے تو دیکھنا متر و کھیت کے رکھوالے بھاگ جائیں گے اور پھر کسانوں کے سارے کھیتوں پر ہمارا قبضہ ہو جائے گا۔ کھیتوں پر قبضہ ہونے کے بعد ہم آتم نربھر بن جائیں گے۔ آؤ میرے ساتھ چلو، کسانوں کے کھیتوں پر قبضہ کر لیں۔‘‘

یہ کہہ کر سرکس کے بندر نے ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگ لگائی اور دوسرے درخت سے تیسرے درخت پر…

اس طرح وہ درختوں پر چھلانگیں مارتا ہوا جنگل سے باہر نکلا… سارے بندروں نے اس کی تقلید کی۔ جنگل سے لگے ارہر اور جوار کے کھیت تھے۔ ارہر کی پھلیاں اور جوار کے بھٹے دیکھ کر ہر بندر کا منہ پانی سے بھر آیا۔ بندر جیسے ہی درختوں سے چھلانگ لگا کر کھیت میں اترے کسانوں کے کتوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ ایک بندر زخمی ہو گیا اور باقی سارے بندر درختوں پر چڑھ گئے۔ ایک بندر نے زخمی بندر کو درخت پر چڑھانے میں مدد بھی کی۔ کسان کے کتے اس درخت کے نیچے کھڑے ہو کر بندروں کی طرف منہ اٹھائے بھونکنے لگے جس پر بندروں نے اپنا ڈیرا جما لیا تھا۔

راجا بندر درخت کی سب سے اونچی شاخ پر جا بیٹھا تھا۔ بھاگنے میں سب سے اول وہی تھا، سب بندروں نے یہ دیکھ لیا تھا۔ انھیں اس بندر پر غصہ آ رہا تھا۔

’’کیوں راجا جی! شوق تو بہت تھا راجا بننے کا۔ راجا بننے کے بعد تم نے چھاتی ٹھونک کر کیا کہا تھا ’میں تمہارے لیے جان کی قربانی دے دوں گا۔‘ ابھی ہم پر کتوں نے حملہ کیا تو بھاگنے میں سب سے اول تم ہی تھے— جھوٹے— مکار!‘‘

’’راجا کی حفاظت کرنا پرجا کا کام ہوتا ہے اور تم میری پرجا ہو، انسانوں کے سماج میں جا کر دیکھو، راجا کی حفاظت کے لیے ہتھیاروں سے لیس پہرے دار ہوتے ہیں، جب راجا جنتا سے ملنے یا بھاشن دینے کے لیے باہر نکلتا ہے تب راجا کے ساتھ کتنے سپاہی ہوتے ہیں۔‘‘

’’ہمیں انسانوں کے سماج کی بات مت بتاؤ—!‘‘ ایک بندر جو سارے بندروں میں حاضر جواب اور ذہین تھا اور جسامت میں بھی بڑا تھا، نہایت طیش میں گرجا۔

’’بندروں کے سماج کی بات کرو— بندروں کے سماج کی بات! ہم بندر ہیں انسان نہیں، تم اپنا گیان اپنے پاس ہی رکھو، صرف یہ بتاؤ کہ تم نے زخمی بندر کی مدد کیوں نہیں کی؟!‘‘

’’میں راجا ہوں۔‘‘ سرکس کا بندر سینہ ٹھونک کر بولا۔

’’ایسے راجا کی ہمیں ضرورت نہیں جو ہماری حفاظت نہیں کر سکتا۔ ہم اندھ بھکت نہیں ہیں سمجھے؟ تمھیں ایسا سبق سکھائیں گے کہ تم جیون بھر یاد رکھو گے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ بندر نہایت طیش میں اس پر لپکا۔ سارے بندر بھی غصے میں تھے۔ سرکس کے بندر پر حملہ آور ہو گئے۔

سرکس کا بندر جو درخت کی سب سے اونچی شاخ پر جا بیٹھا تھا۔ سارے بندروں کو اپنا مخالف دیکھ کر گھبرا گیا۔ فوراً اُس نے دوسرے درخت پر چھلانگ لگا دی۔ بندروں نے اس کا پیچھا کیا۔ دوسرے درخت پر پہنچ کر اسے دبوچ لیا اور پھر اس کی پٹائی شروع کر دی۔

درخت کے نیچے کسانوں کے کتے سر اٹھائے بندروں کا تماشا دیکھ رہے تھے۔

سرکس کا بندر بدحواسی کے عالم میں جیسے ہی درخت کے نیچے کودا۔ کتے اس پر لپکے۔ سرکس کا بندر بے حد خوفزدہ چھلانگیں مارتا ہوا اس راستے پر بھاگنے لگا جس راستے سے وہ جنگل میں بندروں پر راج کرنے آیا تھا۔ کسان کے کتے اس کے پیچھے بے تحاشا دوڑ رہے تھے۔

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ اگست ستمبر 2026

Hijab Islami Aug-Sept 2026شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ فروری 2026

Hijab Islami Feb 2026شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146