ایک پیالی دہی

نامعلوم

بیوی کے انتقال کے دن حامد صاحب کی عمر صرف پینتالیس برس تھی۔ تعزیت کے لیے آنے والے ہر شخص نے ایک ہی مشورہ دیا۔

“حامد! ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے؟ دوسری شادی کرلو”

وہ ہر بار مسکرا دیتے، پھر اپنے بارہ سالہ بیٹے عمار کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتے:”اللہ نے مجھے اس کی صورت میں میری بیوی کی آخری امانت دے دی ہے۔ اب میری باقی زندگی اسی امانت کی حفاظت ہے۔”

اس کے بعد انہوں نے واقعی اپنی زندگی بیٹے کے نام کر دی۔ کاروبار میں بڑھ بڑھ کر حصہ لیا، مگر ان کی مسکراہٹ رک سی گئی۔ اپنے لڑکے کی خواہشیں، اپنی تمنائیں، اپنی راتیں…سب انہوں نے خاموشی سے دفن کر دیں۔

وقت نے پلٹا کھایا۔ عمار جوان ہوا، اعلٰی تعلیم حاصل کی، اور ایک دن باپ کا سارا کاروبار اپنے حوالے کرلیا۔

“اب تم سنبھالو۔ میں تھک گیا ہوں۔”

لیکن تھکن جسم کی نہیں تھی…رشتے کی تھی، جسے وہ خود اپنے ہاتھوں آہستہ آہستہ پیچھے پہنچا رہے تھے۔

پھر عمار کی شادی ہو گئی۔

گھر میں نئی فضا آئی، نئے پردے لگے، فرنیچر بدلا، برتن بدلے، حتٰی کہ باورچی خانے کی ترتیب بھی بدل گئی۔

اور حامد صاحب؟

وہ بھی بدل گئے۔

اب وہ کبھی دفتر میں بیٹھے رہتے، کبھی کسی پرانے دوست کی دکان پر چائے پیتے، اور شام ڈھلے صرف سونے کے لیے گھر لوٹتے۔ اپنے ہی گھر میں وہ ایسے چلتے جیسے کسی کے مکان میں مہمان ہوں۔

ایک دن پھر سب ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے تھے۔

حامد صاحب نے روٹی کا نوالہ توڑتے ہوئے نرمی سے کہا:”بیٹا…اگر ذرا سا دہی خانے سے دے دو”

باورچی خانے سے بہو کی آواز آئی:”آج گھر میں دہی نہیں، اباجی۔”

“اچھا…” انہوں نے پانی کا گھونٹ لیا اور خاموشی سے اٹھ گئے۔

کسی نے ان کے چہرے پر نظر نہیں ڈالی۔ وہ حسب معمول واک کے لیے نکل گئے۔ ان کے جاتے ہی بہو نے فرج کھولا، ٹھنڈی دہی کی پیالی نکالی اور عمار کے سامنے رکھ دی۔

“گرمی بہت ہے دہی کے بغیر تمہارا کھانا مکمل نہیں ہوتا”

عمار نے پیالی کی طرف دیکھا۔

پھر دروازے کی طرف، جہاں سے ابھی اس کے باپ کی آہستہ آہستہ ہوتی چپلوں کی آواز گم ہوئی تھی۔

اس نے ایک لمحے کے لیے بیوی کی آنکھوں میں دیکھا۔

پھر خاموشی سے دہی کھا لی۔

اس نے کوئی جھگڑا نہیں کیا۔

کوئی نصیحت نہیں کی۔

صرف اس دن کے بعد اس کے اندر کچھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔

چند روز گزرے۔ ایک صبح اس نے والد سے کہا:

“ابا، آج دس بجے تیار رہیے گا۔ ہمیں کچہری جانا ہے۔”

“کیوں؟”

“آپ کی شادی ہے۔”

حامد صاحب کے ہاتھ سے اخبار پھسل گیا۔

“پاگل ہو گئے ہو؟ اس عمر میں مجھے کسی شادی کی ضرورت نہیں۔ میں تو ساری زندگی تمہارے لیے گزاری ہے۔”

عمار نے پہلی بار باپ کی آنکھوں میں دیکھا جیسے ایک مرد دوسرے مرد سے قربانی کا پچھا تاچاہتا ہو۔

“ابا…میں اپنے لیے ماں نہیں لا رہا، نہ اپنی بیوی کے لیے ساس…”

وہ رکا، پھر دھیرے سے بولا:”میں صرف آپ کے ملنے سے نہیں لگتا…بھوک اس دن نہیں لگتی ہے جب انسان کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اضافی ہے۔”

عمار نے آگے بڑھ کر باپ کے ہاتھ تھام لیے۔

اس روز نہ کوئی عدالت گئی، نہ کوئی نکاح ہوا، نہ کوئی گھر بھرا۔

صرف ایک دسترخوان پر بیٹھے تین لوگوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو دیکھنا سیکھ لیا۔ اس دن کے بعد اس گھر میں دہی بھی ختم نہیں ہوئی۔

رشتے روٹی سے نہیں تھے، عزت سے نہیں تھے؛ اور جس گھر میں بزرگ کی عزت کم ہو جائے، وہاں نعمتیں جتنی بھی ہوں، برکت خاموشی سے دروازے سے چھوڑ جاتی ہے۔

ایک دراز پڑ چکی تھی۔

وہ لرزتے قدموں سے باہر آئی۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ فرج سے وہی دہی کی پیالی نکالی، جسے چند لمحے پہلے اس نے صرف شوہر کے لیے محفوظ رکھا تھا، اور خاموشی سے حامد صاحب کے سامنے رکھ دی، پھر ان کے قدموں میں بیٹھ گئی۔

“اباجی…مجھے معاف کر دیجیے۔ آج سمجھ آئی ہے کہ میں نے دہی سے آپ کا حق نہیں، آپ کا حق چھینا تھا۔”

حامد صاحب نے کانپتے ہاتھوں سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، مگر ان کی آنکھوں میں ایسی نمی تھی جو صرف بڑھاپے کی تنہائی جانتی ہے۔

انہوں نے دھیرے سے کہا:”بیٹی…بھوک روٹی نہ ملنے سے نہیں لگتی…بھوک اس دن لگتی ہے جب انسان کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اضافی ہے۔”

عمار نے آگے بڑھ کر باپ کے ہاتھ تھام لیے۔

اس روز نہ کوئی عدالت گیا، نہ کوئی نکاح ہوا، نہ کوئی گھر بھرا۔

صرف ایک دسترخوان پر بیٹھے تین لوگوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو دیکھنا سیکھ لیا۔ اس دن کے بعد اس گھر میں دہی بھی ختم نہیں ہوئی۔

رشتے روٹی سے نہیں نبھتے، عزت سے نبھتے ہیں؛ اور جس گھر میں بزرگ کی عزت کم ہو جائے، وہاں نعمتیں جتنی بھی ہوں، برکت خاموشی سے دروازہ سے چھوڑ جاتی ہے۔

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ اگست ستمبر 2026

Hijab Islami Aug-Sept 2026شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ فروری 2026

Hijab Islami Feb 2026شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146