اسلام میں کسی مسلمان کے عیسائی ہوجانے کا پہلا واقعہ شاہ بنی غسان، جبلہ بن ایہم کا ہے۔ بعثتِ نبویؐ سے بہت پہلے بنی غسان اور ان کے تاجدار دولت روم سے مغلوب ہوکر عیسائی ہوچکے تھے۔ پھر طلوعِ اسلام کے بعد تمام بنی غسان اور ان کے فرمانروا حاکم نے اسلام قبول کیا۔
عرب کے شمال میں بنی غسان کی ایک زبردست سلطنت تھی، جو شام و ارض یہود کی سرحد پر ہونے کے باعث قیصر روم کے ماتحت اور ان کی ہم مذہب تھی۔ شہر تبوک کے قریب پرانا عالی شان شہر بلقاء اس کا مرکز حکومت تھا اور یہ خاندان ’جفنہ‘ نامی کسی پرانے مورث کی نسبت سے آل جفنہ کہلاتا تھا۔ اس ملک کا آخری تاجدار جبلہ بن ایہم تھا۔ جس کے دادا حارث اعرج کی شجاعت اور اس کی دادی ماریہ ذات القرطین (دو آویزوں والی) کی خوش وضعی سارے عرب میں مشہور تھی۔ جبلہ نے جب دیکھا کہ سارے عرب قبائل نے علم اسلام کے آگے سرجھکا دیا ہے اور کل شرفائے عرب مسلمان ہوچکے ہیں اور حجاز کی دینی حکومت کی سطوت ایران و روم کی صدیوں کی عظمت و جبروت کو پائمال کیے ڈالتی ہے تو خود ہی دین اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہوگیا۔
مسندِ خلافت پر اس وقت حضرت عمر فاروقؓ اعظم جلوہ افروزتھے۔ عمرؓ کے رعب سے سلاطین کانپ رہے تھے۔ اس نے حضرت عمرؓ کو اپنے ارادے کی خبر کی اور لکھا: ’’میں چاہتا ہوں کہ بذاتِ خود مدینہ حاضر ہوکر نبی آخر الزماںؐ پر ایمان لاؤں۔‘‘ اہلِ مدینہ کے لیے یہ ایک بہت بڑا مژدہ تھا۔ کیونکہ فرمانروائے بنی غسان اور تاجدار بلقاء کے ایمان لانے کی جتنی خوشی ہوسکتی تھی وہ نہ قیصر روم کے قبولِ اسلام پر ہوسکتی تھی نہ کسریٰ کے قبولِ اسلام پر۔ جناب فاروقؓ نے خوش ہوکر تحریر کیا: ’’شوق سے مدینہ آؤ ایمان لانے کے بعد تم کو وہ تمام حقوق حاصل ہوجائیں گے جو ہمیں حاصل ہیں۔ اور تمہارے فرائض بھی وہی ہوجائیں گے جو ہمارے ہیں۔‘‘
یہ اطمینان بخش جواب پاکر جبلہ نے پانچ صد سواروں کو دھاری دار زربفت کی قبائیں پہنائیں۔ خود بھی شاندار لباس زیب تن کیا۔ سر پر مرصع تاج سجایا جس میں جواہرات کے علاوہ اس کی دادی ذات القرطین کے دو گوشوارے بھی آویزاں تھے۔ اس کی آمد کی خبر جب مدینہ پہنچی تو تمام اہلِ مدینہ تماشا دیکھنے اور اس کے جلوس کا نظارہ کرنے شہر سے باہر نکل آئے۔ جس میں گھروں میں بیٹھنے والی پردہ نشین عورتیں اور بچے تک شامل تھے۔ ایسی دھوم دھام مدینہ میں پہلے کبھی دکھائی نہ دی تھی۔ غرض یہ کہ جبلہ بڑی آن بان کے ساتھ مدینہ میں داخل ہوا۔ حضرت عمرؓ سے ملا۔ آپ کے ہاتھ پر ایمان لایا۔ پھر چند روز بعد موسمِ حج آیا تو اس نے آپ کے ہمراہ مکہ مکرمہ کا سفر کیا اور تمام مسلمانوں کے ساتھ فریضہ حج ادا کیا۔
ایک دن وہ خانہ کعبہ کا طواف کررہا تھا۔ عرب کی دنیا پرست امرا کی پرانی وضع یہ تھی کہ تہبند ایسا پہنتے تھے جو بہت نیچا ہوتا اور جس کے سرے زمین پر لوٹتے جاتے تھے جس کی حدیث شریف میں سخت ممانعت آئی ہے۔ جبلہ بھی اسی وضع میں تھا اور شاید اس کے نئے نئے مسلمان ہونے کے سبب لوگوں نے اس کی یہ متکبرانہ وضع گوارا کرلی تھی۔ اتفاقاً اس وقت بنی فزارہ کا ایک شخص بھی طواف میں مصروف تھا۔ اس کا پاؤں زمین پر لوٹتے تہبند کے کونے پر پڑگیا۔ ساتھ ہی جبلہ نے بن دیکھے قدم آگے بڑھایا تو ازار کھل گئی، اس جیسا مغرور فرمانروا بھلا اس کی تاب کہاں لاسکتا تھا؟ اس نے فزاری کے منہ پر ایسا زبردست طمانچہ رسید کیا کہ ناک کا بانسہ پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔ فزاری نے آکر حضرت عمرؓ سے شکایت کی اور آپ کے دربار میں انصاف کاطالب ہوا۔ آپ نے آدمی بھیج کر جبلہ سے دریافت کیا۔ ’’تم نے اس بے گناہ شخص کو تھپڑ کیوں مارا؟‘‘ اس نے کہلا بھیجا اس نے بڑی گستاخی کی جو میرے تہبند پر پاؤں رکھ دیا اور وہ کھل گیا۔ اگر میں کعبہ میں موجود نہ ہوتا تو اس گستاخی پر اس کا سر اڑا دیتا۔
حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا: ’’خیر جو کچھ بھی ہے تم نے اپنا یہ جرم قبول کرلیا ہے کہ تم نے اسے تھپڑمارا ہے۔ اب یا تو اسے راضی کرو ورنہ بحکم شریعت اس فزاری کو اجازت دوں گا کہ وہ بھی تمہیں ویسا ہی تھپڑ مارے۔‘‘ یہ سن کر جبلہ کو حیرت ہوئی کہ مجھ سے قصاص! میں ایک فرمانروا ہوں اور وہ فزاری ایک ادنیٰ ساآدمی۔ جناب عمر فاروقؓ نے فرمایا: ’’اسلام نے تمہیں اور اس کو برابر کردیا ہے۔ سو اب سوائے تقویٰ کے کسی کو کسی پر فضیلت نہیں۔‘‘ جبلہ نے کہا: ’’میں سمجھتا تھا کہ قبولِ اسلام کے بعد میری عزت و توقیر بڑھ جائے گی نہ کہ پہلے جو کچھ ہے وہ بھی ڈوب جائے۔‘‘
حضرت عمرؓ نے فرمایا: ’’بے شک عزت بڑھ گئی اور یہی باہمی مساوات اور اخوت دینی ہے۔‘‘
اس پر جبلہ ناراض ہوکر بولا: ’’اگر یہی ہے تو میں پھر عیسائی ہوجاؤں گا۔‘‘
حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا: ’’اگرتم مرتد ہوگئے تو میں تمہارا سراڑا دوں گا۔‘‘جناب فاروقؓ کی زبان سے یہ کلمہ سن کر جبلہ کے ہوش ٹھکانے ہوئے اور وہ دل میں سوچنے لگا کہ کیا کروں۔
اب یہا ںیہ حالت ہورہی تھی کہ ایک طرف بنی فزارہ کا ایک بڑا گروہ جمع ہورہا تھاکہ ہمارے قبیلے کے آدمی کے ساتھ بے انصافی نہ ہونے پائے۔ دوسری طرف جبلہ کے سوار شمشیر بدست تھے کہ ہمارے تاجدار کے ساتھ کوئی برا سلوک نہ ہونے پائے۔ آخر جبلہ نے حضرت عمر فاروقؓ سے کہا: ’’مجھے سوچنے کے لیے کل تک کی مہلت دیجیے۔ جو کچھ مناسب ہوگا، کل کروں گا۔‘‘
آپ نے اس کی بات منظور کرلی۔ پر جب رات کی تاریکی چھاگئی تو جبلہ اپنے تمام ہمراہیوں سمیت مکہ سے بھاگ کھڑا ہوا۔ وہ ایسا خوفزدہ اور ہراساں تھا کہ اپنے ملک غسان پہنچ کر وہاں رکنے کے بجائے سیدھا قسطنطنیہ جاپہنچا۔ جہاں اس نے قیصر روم ہرقل سے ملاقات کی۔ ہرقل شہسوارانِ اسلام کی مسلسل فتوحات کی خبریں سن کر انتہائی وحشت زدہ اور پریشان رہتا تھا۔ اس نے جب یہ دیکھا کہ عربوں کا ایک سردار ان سے ٹوٹ کر اس کے پاس چلا آیا ہے تو بے حد خوش ہوا۔ اس نے جبلہ کی بے حد قدرو منزلت کی اور بڑی عزت و تکریم سے پیش آیا۔ پھر اسے ایک بہت بڑی جاگیر دی تاکہ اطمینان اور شاہانہ شان و شوکت کے ساتھ زندگی بسر کرسکے۔ اس کے ہمراہی غسانی سپاہ گروں کو اس نے رومی فوج میں بڑے بڑے عہدے دیے۔
چند روز بعد حضرت عمر فاروقؓ کا ایک قاصد ہرقل کے پاس دعوت اسلام لے کر پہنچا۔ ہرقل نے دل سے اسلام کی خوبیوں کا معترف ہونے کے باوجود اسلام قبول کرنے سے تو انکار کردیا مگر چند اور شرائط پر صلح کرلی کیونکہ صلح کے بغیر اسے اپنی سلطنت کی مسلمانوں کے ہاتھوں بربادی نظر آتی تھی۔ وہ جب حضرت فاروقؓ کے خط کا جواب لکھنے بیٹھا تو اس کا دھیان خود بخود جبلہ بن ایہم غسانی کی طرف چلا گیا اور اس نے سیدنا فاروقؓ کے ایلچی سے کہا کہ وہ اپنے اس قومی بھائی سے ضروری ملاقات کرلے جو دین اسلام سے برگشتہ ہوکر عیسائی بن بیٹھا تھا اور اب بڑی شان و شوکت سے قسطنطنیہ میں رہ رہا تھا۔
خود اس ایلچی کا بیان ہے کہ جب وہ جلبہ کی ڈیوڑھی پر پہنچا تو اس نے وہاں ایسی شان و شوکت کا نظارہ کیا جو اسے ہرقل کے محل میں دکھائی دی تھی۔ دربانوں اور حاجبوں کا ہجوم تھا۔ غلام زرق برق کپڑے پہنے اورفوجی ہتھیار لگائے ہوئے ٹہل رہے تھے۔ پھر جب اسے جبلہ سے ملنے کا موقع ملا تو وہ اسے پہچان ہی نہ سکا۔ وہ ایک شیشے کے تخت پر بیٹھا ہوا تھا، جس کے پائے آبنوس کے تھے، جن پر سونے کی پچ کاری کی گئی تھی۔ اس نے سر پر مرصع تاج پہن رکھا تھا جس کی چوٹی پر صلیب تھی۔ اس نے اپنی داڑھی پر سونے کا برادہ چھڑک رکھا تھا۔ اس (ایلچی) کو پہچانتے ہی اس نے اپنے ساتھ تخت پر بٹھا لیا اور اس سے مسلمانوں کے حالات دریافت کیے۔ ایلچی نے جواب دیا کہ ان کی تعداد روز بروزبڑھتی جارہی تھی اور مفتوحہ علاقوں میں بھاری تعداد میں دوسرے مذاہب کے لوگ اسلام قبول کررہے تھے۔ جبلہ نے پھر حضرت فاروقؓ کے بارے میں استفسار کیا کہ ان کا کیا حال تھا۔ ایلچی نے کہا کہ وہ الحمدللہ بخیریت و عافیت تھے، یہ سن کر جبلہ کا منہ بن گیا۔ ایلچی کو اس کی یہ حرکت ایسی ناگوار گزری کہ وہ تخت سے نیچے اتر آیا اور بولا: ’’ایسے تخت پر بیٹھنے سے ہمیں رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔‘‘
جبلہ بولا: ’’ہاں انھوں نے منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر درود اور سلام بھیجے۔‘‘ اس کی اس بات پر ایلچی کو کچھ حوصلہ ہوا۔ اس نے جبلہ سے کہا: ’’افسوس ہے جو تم مرتد ہوگئے ہو۔ تم آخر دوبارہ مسلمان کیوں نہیں ہوجاتے؟‘‘ اس نے کہا: ’’کیا مرتد ہونے کے بعد بھی میں مسلمان ہوسکتا ہوں؟‘‘ ایلچی نے کہا: ’’کیوں نہیں؟ ہمارے درمیان ایک شخص مرتد ہوگیا تھا اور کافروں سے جاملا تھا۔ اس نے کافروں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف کئی جنگوں میں حصہ لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے دینِ اسلام قبول کرلیا۔ اب وہ آرام سے مسلمانوں کے درمیان رہ رہا ہے۔‘‘ جبلہ بولا: ’’میں اس شرط پر مسلمان ہونے کو تیار ہوں کہ عمرؓ بن الخطاب اپنی بیٹی مجھ سے بیاہ دیں اور مجھ کو اپنا ولی عہد قرار دیں۔‘‘ ایلچی نے کہا ان کی بیٹی کی تم سے شادی کی ذمے داری تو میں قبول کرتا ہوں، مگر اس کا اطمینان نہیں دلاسکتا کہ وہ تمہیں اپنا ولی عہد مقرر کردیں۔
اب جبلہ نے اس گفتگو کو ٹال کر اپنے خدام کو اشارہ کیا۔ انھوں نے فوراً دسترخوان بچھایا اور سونے چاندی کے برتنوں میں طرح بطرح نفیس و اشتہا آور کھانے چن دیے۔ ایلچی نے جبلہ سے یہ کہہ کر معذرت کی کہ حضورﷺ نے سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے سے منع کیاہے۔ جبلہ نے حضورﷺ پر درود بھیجا اور ایلچی کے لیے مٹی کے برتن منگوائے۔ کھانے کے بعد مرصع لباس سے آراستہ سرتاپا زیورات میں لدی حسین و گل اندام نازنینوں کے ناچ گانے کا سلسلہ چلا۔ جبلہ نے وقت رخصت اس سے حسانؓ بن ثابت کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا وہ زندہ ہیں؟ ایلچی نے کہا: ’’جس وقت میں مدینے سے چلا ہوں، اس وقت تو وہ بقید حیات تھے۔ اس پر جبلہ نے ایک خلعت اور چند نہایت ہی اعلیٰ درجے کے اونٹ منگواکر اس کے حوالے کیے اور کہا:
’’مدینہ پہنچ کر اگر حسانؓ کو زندہ پایا تو یہ دونوں چیزیں میری طرف سے ہدیتاً انہیں دے دینا۔ اگر وہ انتقال کرچکے ہوں تو خلعت ان کے گھر اور اونٹوں کو ان کی قبر پر لے جاکر ذبح کردینا۔‘‘
ایلچی نے کہا: ’’بہت اچھا…‘‘
اب ایلچی اس سے رخصت ہوکر ہرقل کے پاس آیا اور اس کاخط لے کر مدینہ طیبہ واپس پہنچا اور کل واقعات سیدنا فاروقؓ کے گوش گزار کردیے۔ اس نے جب جبلہ کی دوبارہ اسلام قبول کرنے کی شرطوں کے بارے میں انہیں بتایا تو انھو ںنے کہا: ’’تم نے دونوں باتوں کا وعدہ کیوں نہ کرلیا۔ جب وہ اسلام قبول کرلیتا تو اس کے فیصلوں پر خود ہی چلنے لگتا۔‘‘
پھر جب ایلچی نے جبلہ کے حضرت حسانؓ بن ثابت کے لیے بھیجے گئے ہدیوں کا تذکرہ کیا تو سیدنا فاروقؓ نے فوراً آدمی بھیج کر انہیں اپنے پاس بلوایا۔ حسانؓ نابینا ہوچکے تھے۔ انھوں نے آتے ہی کہا:
’’یا امیر المؤمنین! مجھے آپ کے پاس سے آل جفنہ (خاندان جبلہ بن ایہم)کی بو آتی ہے۔ حضرت فاروقؓ نے کہا: ’’ہاں یہ میرا ایلچی جبلہ بن ایہم غسانی سے مل کر آیاہے۔ اس نے اس کے ہاتھ تمہارے لیے کچھ ہدیے بھیجے ہیں۔‘‘
حسانؓ نے کہا: ’’وہ فیاض ہے اور فیاضوں کی نسل سے ہے۔ زمانہ جاہلیت میں، میں نے اس کی شان میں ایک قصیدہ کہا تھا، جس پر اس نے قسم کھائی تھی کہ جب تمہارا کوئی شناسا ملے گا تو اس کے ہاتھ تمہیں کوئی ہدیہ ضرور روانہ کروں گا۔‘‘
جبلہ بن ایہم کی کہانی سے معلوم ہوتا ہے کہ باوجود جی چاہنے کے وہ عمر بھی مرتد ہی رہا۔ زندگی بھر اس کی یہ حالت رہی کہ اپنے کیے پر پچھتاتا تھا۔ اور وطن کی صحبتوں اور عربوں کی مجلسوں کو یاد کرکے رویا کرتا تھا۔
(مرسلہ اقبال احمد ریاض، اردو ڈائجسٹ لاہور)
——





