غزل

اختر سلطان اصلاحی اخترؔ

یہ سچ نہیں کہ آہ میں کوئی اثر نہیں

بدلہ ملے گا ظلم کا، کوئی مفر نہیں

باتیں بڑی لذیذ ہیں لہجہ بھی پرکشش

پھر کیا ہوا کہ لوگوں پہ کوئی اثر نہیں

ہر فرد میری قوم کا گم گشتہ راہ ہے

رستہ بتائے کون، کوئی بھی خضر نہیں

ہم نے لہو کا آخری قطرہ بہادیا

ایسا مزاج یار ہے، کوئی ثمر نہیں

ننھے سے اک دئیے پہ اندھیروں کی یورشیں

کیا اس شب سیاہ کی کوئی سحر نہیں

غربت میں اس طرح سے گزرتے ہیں ماہ و سال

تپتا ہوا جہاں ہے کوئی شجر نہیں

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146