عکس

اکرم فاروقی

سول جج مسٹر باجپئی کے متعلق مشہور تھا کہ مقدموں کا فیصلہ لکھاتے وقت ان کی آنکھیں خلاؤں میں بھٹکتی رہتی تھیں اور ہونٹ اس طرح ہلکے ہلکے جنبش کیا کرتے تھے جیسے کوئی منتر جپ رہے ہوں لیکن فیصلہ ایسا جامع لکھواتے کہ کبھی اپیل میں خارج نہیں ہوتا۔ پر اس دن پنڈت رما شنکر تواری کے مقدمے کا فیصلہ لکھاتے وقت ان کا چہرہ اس بات کی غمازی کررہا تھا کہ وہ کسی شدید روحانی کرب میں مبتلا تھے۔ انھوں نے کئی بار کوشش کی کہ وہ اپنے تصور کے افق سے مجیدن کا مرجھایا ہوا چہرہ مٹادیں۔ لیکن انتہائی کوشش کے باوجود سیاہ حلقوں میں گھری بجھی بجھی آنکھیں پژمردہ ہونٹ پچکے ہوئے رخسار اور کھچڑی نمابالوں کی وہ سوکھی لٹ جو اس کی تنگ پیشانی پر آکر جم سی گئی تھی، بار بار ان کی آنکھوں کے سامنے آکر لہرانے لگتی تھی اور انھیں محسوس ہوتا جیسے وہ بالوں کی سوکھی لٹ نہ ہو، کوئی پیچیدہ سوالیہ نشان ہو!!

مجیدن منشی عبدالحکیم کی بیوہ اور پانچ سالہ نوشہ نبی کی بدنصیب ماں تھی جو لوگوں کے کپڑے سی کر اور بیڑیوں پر چٹیں چپکا کر اپنی زندگی کے دن اس آس پر کاٹ رہی تھی کہ ایک دن اس کی امیدوں کا پودا پھل پھول سے لدے گا اور وہ سکھ کے سائے میں بیٹھ کر اپنے سپنوں کی کلیاں چنے گی اور رنگا رنگ پھولوں کا خوب بڑا سا گجراسجا کر اپنے لڑکے کو دولہا بنائے گی۔ اور اس کے لیے ایک چاند سی دلہن بیاہ کر لائے گی لیکن اس دن مجیدن کے خوابوں کے پھول پنکھڑی پنکھڑی ہوکر بکھر گئے تھے جب پنڈت رما شنکر تواری نے اپنے کارخانے کو وسعت دینے کے لیے اس کو مکان سے جبراً نکالنے کی کوشش کی تھی حالانکہ اس سے پہلے بھی تواری جی نے مجیدن کا مکان خریدنا چاہا تھا اور وہ بیس ہزار روپئے کی پیش کش بھی کرچکے تھے لیکن اس دکھیا بیوہ نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا تھا کہ ’’بھیا! میں تمہارا جیسا پڑوس چھوڑ کر کہاں جاؤں گی؟ مجھے تو کوئی اس بستی میں سرچھپانے کے لیے دو گز زمین بھی نہ دے گا۔ اس گھر میں میرا ڈولا آیا تھا میں چاہتی ہوں جنازہ بھی اس گھر سے اٹھے اللہ کے لیے مجھ پر رحم کھاؤ، دیا کرو بھیا!‘‘

لیکن مجیدن کی ساری منت سماجت بے کار ثابت ہوئی!!

پنڈت رماشنکر تواری قصبے کے ایک معزز شخص تھے وہ دوبار ٹاؤن ایریا میں الیکشن بھی لڑچکے تھے۔ ٹھاکر گمبھیر سنگھ ایم ایل اے سے ان کی دانت کاٹی روٹی تھی تو پھر بھلا ایسے ذی اثر شخص کے سامنے مجیدن بیوہ کی کون سننے والاتھا؟

پنڈت جی نے پوری تیاری کے ساتھ مجیدن کے خلاف دیوانی میں مقدمہ دائر کردیا۔ ان کے کاغذات یہ ثابت کرتے تھے کہ عبدالحکیم نے اپنی بیماری کے زمانے میں پنڈت رما شنکر تواری سے مبلغ پانچ ہزار روپیہ قرض لے کر مکان مذکورہ کارہن نامہ ان کے نام لکھ دیا تھا کیونکہ عبدالحکیم اپنی حیات میں قرض ادا نہ کرسکے تھے۔ اس لیے مکان رہن بالقبض کی رو سے پنڈت جی کا ہوچکا تھا۔

جب مجیدن نے پانچ ہزار روپے کے قرض اور رہن نامہ کی بات سنی تو ہکا بکا رہ گئی اور وہ روتی پیٹتی ہوئی شکلا جی کے پاس گئی اور الف سے ے تک اپنی درد بھری کہانی سنائی۔ شکلاجی ایک رحم دل انسان تھے۔ انھوں نے اپنا وکالت نامہ لگا کر حکم امتناعی کی درخواست عدالت متعلقہ میں گزاردی۔ اسٹے منظور ہوا جس کے نتیجہ میں مجیدن اپنے مکان پر قابض رہی۔ لیکن اسے مقدمے کا تو بہرحال سامنا کرنا ہی تھا۔ ہر دو تین ماہ بعد مقدمے کی تاریخ لگتی پیشی ہوتی اور پھر اگلی تاریخ پڑ جاتی۔ اسی طرح بھاگ دوڑ میں دو سال بیت گئے۔ مجیدن شب و روز محنت مزدوری کرتی اب اس کا نور نظر نوشہ نبی بھی اس کا ہاتھ بٹانے کے لائق ہوگیا تھا۔ وہ دونوں آدھا پیٹ روٹی کھاتے اور کچھ روپیہ مقدمہ کے لیے پس اندازکرتے۔ مجیدن اپنے وکیل شکلا جی کو دن رات دعائیں دیا کرتی تھی چونکہ وہ اس سے کاغذ پتر کی قیمت کے علاوہ ایک پیسہ بھی اپنی فیس کا نہیں لیتے تھے۔

آخر کار تواری جی نے یہ پتا لگا ہی لیا کہ سول جج مسٹر باجپئی کانپور کے رہنے والے تھے اور حسنِ اتفاق کہ جج صاحب سے ان کی دور کی رشتہ داری بھی نکل آئی تھی۔ اور پھر سونے پر سہاگہ یہ کہ جج صاحب کی ماتا جی نے اپنے دستی خط میں اس بات کی بھر پور سفارش کی تھی کہ وہ پنڈت جی کی ہر طرح سے مدد کریں۔ سول جج مسٹر باجپئی کے لیے ان کی ماتا جی کا خط حکم کا درجہ رکھتا تھا اور انھیں یہ معلوم ہوکر بھی دلی خوشی ہوئی تھی کہ پنڈت رما شنکر تواری سے ان کی عزیز داری تھی۔

جج صاحب نے اپنی ماتا جی کا خط پڑھ کر تواری جی کو اپنے بنگلے پر مدعو کیا اور ان کی خوب خاطر مدارات کی،لیکن اس دن پنڈت رما شنکر تواری چکر کھاکر عدالت کے فرش پر بیٹھ گئے تھے جب انھوں نے خلاف امید مقدمہ کا فیصلہ اپنے خلاف سنا تھا۔ اس فیصلہ کی اطلاع جب ان کی ماتا جی کو ملی تو وہ پہلی گاڑی سے اپنے بیٹے کے پاس آئیں اور ان پر بے حد ناراض ہوئیں کہ انھوں نے اپنی ماں کا کہنا نہیں مانا تھا۔ مسٹر باجپئی سول جج نے اپنی ماتا جی کے چرن چھوتے ہوئے بہت ادب کے ساتھ پوچھا تھا؟ ’’ماتا جی جس وقت پتا جی کا دیہانت ہوا تھا ا سوقت میں کتنا بڑا تھا؟ ‘‘’’اس وقت تو پانچ ورش کا تھا۔‘‘ ماتا جی نے تنک کر کہا۔

’’ماتا جی! آپ نے پتا جی کے دیہانت کے بعد کتنے کشٹ اٹھائے، کتنی مصیبتیں جھیلیں، پاس پڑوس والوں نے کس کس طرح پریشان کیا، پر آپ نے جیسے تیسے پڑھا لکھا کر مجھے اس قابل کر ہی دیا کہ میں ایشور کی کرپا اور آپ کے آشیرواد سے انصاف کی کرسی پر بیٹھا ہوں، آپ کو اپنے سب کشٹ یاد ہیں نا؟‘‘ مسٹر باجپئی نے گلوگیر آواز میں پوچھا:

’’ہاں…ہاں مجھے سب یاد ہیں۔‘‘ ماتا جی کے لہجے میں بدستور غصے کی آنچ تھی۔

جج صاحب بھرائی ہوئی آواز میں بولے:

’’ماتا جی! میں جس وقت پنڈت رما شنکر تواری کے مقدمے کا فیصلہ لکھ رہا تھا اس وقت آپ میرے سامنے مجیدن بیوہ کے روپ میں کھڑی تھیں اور کہہ رہی تھیں:بیٹا! جس کا جو حق ہے وہ اسے دے، نہیں تو بھگوان تیرا حق روک دے گا۔‘‘

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146