ہر عیب سے پاک تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس نے گناہوں سے پاک صرف نبیوں کو رکھا ہے۔ باقی سارے انسانوں سے غلطی ہوسکتی ہے۔ اللہ کے نیک بندے اس حقیقت سے واقف ہیں۔ چنانچہ جب کبھی انھیں غلطیوں پر ٹوکا جاتا ہے تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ اور فوراً اپنی اصلاح کرلیتے ہیں۔ مسلمانوں کا بھی یہ فرض ہے کہ جب کبھی بھی وہ کسی کو کوئی غلط کام کرتا دیکھیں فوراً ٹوک دیں۔ اس سے برائیاں دب جاتی ہیں۔
حضرت عمرؓ کو تو تم جانتی ہو۔ آپ کا نام سن کر بڑے بڑے حاکم لرز جاتے تھے۔ مگر انھوں نے رعایا میں ایسی روح پھونک دی تھی کہ معمولی آدمی بھی ان کی کوئی غلطی محسوس کرتا تو فوراً ٹوک دیتا اور وہ خوشی خوشی اسے مان لیتے۔
ایک بار آپ خطبہ دے رہے تھے خطبے میں آپ نکاح کے زیادہ مہر رکھنے پر مسلمانوں کو ڈانٹ رہے تھے۔ بات ٹھیک تھی، زیادہ مہر کی وجہ سے شادی بیاہ میں بڑی رکاوٹ پڑتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ لوگ حضورؐ کی بیٹیوں اور بی بیوں سے بھی زیادہ مہر رکھنے لگے ہیں۔ جو لوگ اس سے زیادہ مہر رکھیں گے انھیں سزا دی جائے گی۔
زیادہ مہر پر ڈانٹنا توٹھیک تھا مگر حد بندی کا انھیں کوئی حق نہ تھا کیوں کہ اللہ نے قرآن پاک میں خود کوئی حد مقرر نہیں کی ہے۔ بلکہ مگر اگر زیادہ دے سکتا ہے تو دے۔ مگر حضرت عمرؓ کو اس موقع پر یہ بات یاد نہ تھی، چنانچہ فوراً مجمع میں سے ایک عورت کھڑی ہو گئی اور بولی:
’’عمر! تمہیں حد مقرر کرنے کا کیا حق ہے۔ اللہ نے ہم عورتوں کو جو حق دیا ہے، وہ تم چھیننا چاہتے ہو؟‘‘
اس کے بعد اس عورت نے قرآن کی وہ آیت پڑھی، جس کا مطلب یہ ہے:
’’اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کاارادہ کرہی لو تو خواہ تم نے اسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو، اس میں سے کچھ واپس نہ لینا۔‘‘
حضرت عمرؓ نے سنا،بولے:’’ایک بڑھیا بھی عمر سے زیادہ جانتی ہے، آج اس نے مجھے ہلاکت سے بچالیا۔‘‘ دیکھا تم نے بروقت ٹوک دینے سے کتنا فائدہ ہوا ہے۔





