قیصر روم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے مندرجہ ذیل کے بارے میں اطلاع دی جائے:
۱- ایسی جگہ جس کا کوئی قبلہ نہ ہو۔ ۲- ایسا شخص جس کا کوئی باپ نہ ہو۔ ۳- ایسا شخص جس کا کوئی (سابقہ) خاندان نہ ہو۔۴- ایسا شخص جس کو لے کر اس کی قبر چلی ہو۔ ۵- وہ تین چیزیں جو کسی رحمِ مادر میں نہ پیدا ہوئی ہوں۔ ۶- بتایا جائے کہ مکمل شئے، آدھی شے اور لاشے (نہ ہونا) کسے کہتے ہیں۔
اس کے علاوہ اس خط کے ساتھ ارسال کردہ بوتل میں (دنیا کی) ہر چیز کے بیج مجھے ارسال کیے جائیں۔
حضرت معاویہؓ نے یہ خط اور بوتل حضرت ابنِ عباسؓ کی خدمت میں (مطلوبہ جوابات کے لیے) ارسال کردیے، حضرت ابنِ عباسؓ نے کہا:
۱- ایسی جگہ جس کا کوئی قبلہ نہ ہو، وہ ’’خانۂ کعبہ‘‘ ہے۔ ۲- ایسا شخص جس کا کوئی باپ نہ ہو وہ سیدنا عیسیٰ بن مریم ہیں۔ ۳- ایسا شخص جس کا کوئی (سابقہ) خاندان نہ ہو وہ سیدنا آدم علیہ السلام ہیں۔ ۴- ایسا شخص جس کو لے کر اس کی قبر چلی ہو وہ حضرت یونس علیہ السلام ہیں۔ ۵- وہ تین چیزیں جو کسی رحم میں نہ پیدا ہوئی ہوں یہ ہیں : سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا دنبہ، قومِ ثمود کی اونٹنی، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا اژدہا۔ ۶- مکمل شے: وہ شخص جو صاحبِ عقل ہو اور اپنی عقل سے کام (بھی) لیتا ہو۔
آدھی شے: وہ شخض جو صاحبِ عقل تو نہ ہو لیکن دوسرے عقلمند لوگوں کی رائے کے مطابق عمل کرتا ہو۔
لاشے: وہ شخص جو نہ تو خودعقلمند ہو اور نہ ہی دوسرے عقلمند لوگوں کے ساتھ مشورہ کرتا ہو۔
مذکورہ بوتل آپ نے پانی کے ساتھ بھر دی اور کہا کہ دنیا کی ہر چیز کا بیج یہی ہے۔ (کیونکہ ازروئے قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ نے ہر زندہ چیز پانی سے پیدا فرمائی)۔
ان جوابات کے ساتھ مذکورہ بوتل حضرت معاویہؓ کے پاس بھیج دی گئی اور انھوں نے قیصرِ روم کی طرف ارسال کردی۔ جب یہ سب کچھ قیصرِ روم کے پاس پہنچا تو اس نے فوراً یہ کہا: ’’یہ باتیں کسی نبی ہی کے گھر (والوں) سے حاصل ہوسکتی ہیں۔‘‘
(العقد الفرید، ابنِ عبد ربہ الاندلسی)





