صبحِ نو کر کرن کہ تارا ہے
آپؐ کا نام کتنا پیارا ہے
اللہ اللہ رسولؐ کا مسکین!
باغِ جنت کا استعارا ہے
کیا کہے گی غموں کی دھوپ مجھے
سر پہ سایہ اگر تمہاراؐ ہے
راہِ طیبہ میں پانیوں کا سفر
موجِ گردار بھی کنارا ہے
اُن کی چاہت میں رزمِ عالم کا
مجھ کو ہر سانحۂ گوارا ہے
چاند اوجھل ہے گو پسِ گنبد
ضو بدستور آشکارا ہے
ہم نے صدیوں میں نعت کو راسخؔ
شیشۂ روح میں اتارا ہے





