’’بیٹا عاصمہ اب بڑی ہوگئی ہے اس کو دوپٹہ پہناؤ۔‘‘
’’ابھی کہاں بڑی ہوئی ہے ابھی تو صرف گیارہ سال کی ہے۔‘‘
’’گیارہ سال کی لڑکی پوری عورت ہوتی ہے اس کی تو اٹھان بھی بہت اچھی ہے جبکہ تم اس کو ابھی تک پینٹ اور ٹی شرٹس پہناتی ہو اور حضرت عائشہؓ کی تو اس عمر میں رخصتی ہوگئی تھی۔‘‘
’’ہاں یہ تو سب کچھ صحیح ہے مگر دوپٹہ پہننے سے یہ بڑی لگنے لگے گی اور ذہنی طور پر تو ابھی یہ بچی ہی ہے۔‘‘
’’لوگ ذہنی طور پر بڑے اور چھوٹے کو نہیں دیکھتے ، جسمانی طور پر بڑے ہونے سے ہر اچھی بری نگاہ اٹھتی ہے پھر اس کا باپ اس کو اس حلیہ میں کس طرح اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ کیا اس کو احساس نہیں ہوتا کہ کتنی بری نگاہیں اس کی طرف اٹھتی ہوں گی۔ تم مجھ سے وعدہ کرو کہ اس کو بغیر دوپٹہ کے گھر سے باہر نہیں نکلنے دو گی۔‘‘
’’اچھا ٹھیک ہے وعدہ رہا۔‘‘
’’ارے ! یہ پھر بغیر دوپٹہ کے ہے۔‘‘
’’ہاں تو میں کیا کروں یہ مانتی ہی نہیں۔ اب اتنی بڑی بچی کو میں زبردستی تو نہیں کرسکتی۔ کیا کروں میں مجبور ہوں۔‘‘
٭٭
’’شاذیہ کی شادی ہورہی ہے۔‘‘
’’اچھا ماشاء اللہ مبارک ہو، مگر دیکھنا خیال رہے کہ شادی میں فضول رسمیں نہ ہوں۔‘‘
’’ہاں! ہاں ضرور میں تو خود ان رسموں کے خلاف ہوں اور شادی کو سنت کے مطابق ہی کرنا چاہتی ہوں کیونکہ ہمارے رسولؐ نے بھی فرمایا ہے ناکہ اس نکاح میں بہت برکت ہوتی ہے جس میں کم اخراجات ہوتے ہیں اور میرے تو والد بھی بہت خلاف ہیں ان رسم و رواج کے۔ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کی شادی اور غمی کی رسمیں ہی ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔‘‘
’’مگر یہ کیا یہ تو کارڈ ہی اس قدر قیمتی اور پرتکلف ہے اور پھر اتنی ساری دعوتیں اور ہر دعوت کے لیے الگ الگ رنگ کے کارڈ۔‘‘
’’میں کیا کروں، میں نے تو بہت منع کیا مگر میرے میاں اور بچے ہی راضی نہ ہوئے کہ کیا تم شادی کو بھی سوگ کی طرح مناؤ گی۔ شادی تو ایک ہی دفعہ ہوتی ہے۔ کیا کروں آپا میں بہت مجبور ہوں۔‘‘
٭٭
’’سنو میں یاسر کی منگنی کرنا چاہ رہی ہوں۔‘‘
’’اچھا کیا لڑکی پسند کرلی؟ مگر ابھی اتنی جلدی کیا ہے؟ یاسر تو ابھی چھوٹا ہے۔‘‘
’’ہاں چھوٹا تو ہے مگر وہ باہر پڑھ رہا ہے اس لیے مجھے ڈر لگا رہتا ہے۔ منگنی کے بعد پابند ہوجائے گا تمہاری نظر میں کوئی لڑکی ہو تو بتانا۔ اسمارٹ اور خوبصورت ہو۔‘‘
’’اچھا میں دھیان رکھوں گی۔‘‘
’’میں منگنی وغیرہ کچھ نہیں کروں گی صرف بات پکی کروں گی بس شادی پر ہی کچھ لینا دینا کروں گی۔ اب ایک لڑکی پسند کی ہے، دیکھو وہ لوگ کیا جواب دیتے ہیں۔‘‘
’’مبارک ہو تم نے یاسر کی بات پکی کردی۔‘‘
’’خیر مبارک مگر وہ لوگ منگنی کا فنکشن بڑے پیمانے پر کرنا چاہ رہے ہیں۔‘‘
’’تو تم منع کردو۔ تم تو صرف بات پکی کرنا چاہ رہی تھیں۔‘‘
’’ان کی بیٹی کا معاملہ ہے اور وہ اس بات کے لیے تیار نہیں ہیں کہ صرف بات پکی کی جائے۔ وہ دھوم دھام سے منگنی کا فنکشن کرنا چاہ رہی ہیں کہ ان کی دوسری بیٹیوں کی بھی راہ کھلے۔ اور یہ معاملہ تو میرا ہے، میں نے تو بہت منع کیا ہے مگر لڑکی والے مانتے ہی نہیں، اب میں کیا کرسکتی ہوں۔ بڑی مجبور ہوں۔‘‘
٭٭
’’امی او امی! بول کب ساس بنے گی؟‘‘ آج پھر جویریہ کو یہی بات سوار ہوئی تھی وہ جب بھی کسی کی منگنی یا شادی کا ذکر سنتی یہی گانا گنگنانا شروع کردیتی، ابھی صرف ۱۸ سال کی ہوئی تھی مگر اس کو کیا کیجیے کہ دل چاہنے لگا ہے کہ میری بھی شادی جلدی سے ہوجائے۔ ’’آپ کیوں میرے لیے کوئی انتظام نہیں کرتیں۔‘‘
’’میں کیسے کرسکتی ہوں، یہ میرے بس کی بات نہیں ہے۔ جب اللہ کا حکم ہوگا ہوجائے گی۔‘‘
’’بس بس رہنے دیں۔ جب تک آپ کی بہن نہیں سدھریں گی کوئی ادھر کا رخ نہ کرے گا کیونکہ لوگ ہم کو بیک ورڈ ہی سمجھتے ہیں۔ یہ پہنچ جاتی ہیں ہر جگہ درس دینے اور درس نہ بھی دیں تو لوگوں کو نصیحتیں ہی کرتی رہتی ہیں کہ رسوم نہ کرو، ایسے کپڑے نہ پہنو، اس طرح دوستیاں نہ کرو۔ ہم کتنا بھی آپ کو ماڈرن بنالیں مگر ایسی خالہ کی بھانجیاں سمجھ کر کوئی ہمارے گھر نہیں آتا۔‘‘ بیٹا بتاؤ میں کیا کروں میں ان کو اتنا تو سمجھاتی ہوں۔ میرے اختیار میں نہیں تھا ورنہ اللہ میاں سے کہہ کر اپنی پسند کے بہن بھائی لے لیتے مگر اب تو میں مجبور ہوں۔‘‘




